دنیا بھر میں 27 ستمبر کو ورلڈ ریورز ڈے منایا جائے گا، جس کا مقصد دریاؤں کی اہمیت، ان سے وابستہ انسانی زندگی، ماحولیات اور معیشت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ دریاؤں کے تحفظ اور بہتر انتظام کے حوالے سے شعور پیدا کرنا ہے۔ پاکستان کے لیے اس دن کی اہمیت دریائے سندھ اور ملک کی پانی کی ضروریات کے تناظر میں مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ملک کی زندگی، زراعت، خوراک اور معیشت کا ایک بڑا حصہ دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے۔
اس موقع پر دریائے سندھ کے تحفظ، پانی کے حقوق، موسمیاتی تبدیلی اور خطے کی آبی سلامتی سے متعلق معاملات بھی خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔ دریاؤں کو صرف پانی کے بہاؤ کے طور پر نہیں بلکہ انسانی زندگی، معاشی سرگرمیوں، زراعت اور مستقبل کی ضروریات کے بنیادی وسیلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان کے لیے دریائے سندھ کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ ملک کا بڑا حصہ اپنی پانی کی ضروریات کے لیے اسی دریائی نظام پر انحصار کرتا ہے۔ پانی کی دستیابی میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے اثرات زراعت، خوراک، معیشت اور عام زندگی تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی لیے دریائے سندھ کے پانی کا تسلسل اور اس سے متعلق حقوق پاکستان کی آبی سلامتی کا اہم حصہ ہیں۔
It's World Rivers Day #worldriversday this Sunday and time to celebrate on the River Deben that has kept #woodbridgetidemillmuseum running for over 850 yearshttps://t.co/ZJhPZbIWBr pic.twitter.com/f2vbyar9ip
— Woodbridge Tide Mill Museum (@TideMill_Museum) September 22, 2026
اسی تناظر میں سندھ طاس معاہدہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پاکستان جبکہ راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں آئے۔ معاہدے نے دونوں ملکوں کے درمیان دریاؤں کے پانی سے متعلق ایک نظام وضع کیا، جس کے تحت پانی کے استعمال اور اختلافات کے حل کے لیے مختلف انتظامات بھی موجود ہیں۔
تاہم بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کے یک طرفہ فیصلے کے بعد خطے میں پانی کی سلامتی اور زیریں بہاؤ کے حقوق سے متعلق سوالات دوبارہ نمایاں ہوئے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ دریائے سندھ کے نظام پر اس کا انحصار محض کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ ملک کی مجموعی ضروریات سے جڑا ہوا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی نے دریاؤں اور آبی وسائل کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز، پانی کی دستیابی میں اتار چڑھاؤ اور دیگر موسمی عوامل دریاؤں سے وابستہ معاشروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں آبی وسائل کے تحفظ، پانی کے ذمہ دارانہ استعمال اور دریاؤں کے قدرتی نظام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ
دریاؤں کے معاملے میں بالائی اور زیریں علاقوں کے درمیان تعلق بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک ملک یا خطے میں دریا کے پانی سے متعلق کیے جانے والے فیصلے دوسرے خطے میں رہنے والی آبادی، زراعت اور ماحول پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے مشترکہ دریاؤں کے حوالے سے تعاون، معلومات کی فراہمی اور پانی کے حقوق کا احترام علاقائی آبی سلامتی کے اہم اجزا سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان کے لیے دریائے سندھ کا معاملہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ملک کو مستقبل میں پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات، موسمیاتی تبدیلی اور آبی وسائل پر دباؤ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں دریائے سندھ کے تحفظ، پانی کے حقوق کے دفاع اور آبی وسائل کے پائیدار استعمال پر توجہ ناگزیر ہو جاتی ہے۔
ورلڈ ریورز ڈے اس حقیقت کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ دریا کسی ایک نسل یا موجودہ وقت کی ضرورت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی زندگی اور سلامتی سے بھی وابستہ ہیں۔ دریائے سندھ کے معاملے میں بھی پانی کے تحفظ، زیریں بہاؤ کے حقوق، علاقائی تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کے اصول مستقبل کی آبی سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔














