برطانیہ کا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا فیصلہ، نیا اسپیس اسکواڈرن قائم کرنے کا اعلان

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے سیٹلائٹس کے تحفظ کے لیے رائل ایئر فورس کا نیا فوجی خلائی اسکواڈرن قائم کرے گا، جو دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے فوجی خلائی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافے کی کوششوں کے درمیان اہم پیش رفت ہے۔

برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق نیا اسکواڈرن مواصلاتی رابطوں اور ممکنہ میزائل حملوں سے خبردار کرنے کے لیے استعمال ہونے والے اہم سیٹلائٹس کے تحفظ کی ذمہ داری انجام دے گا۔

یہ بھی پڑھیں: چین اور امریکا کی خلا میں عسکری دوڑ تیز، نئے خلائی ہتھیاروں کی تیاری

وزارتِ دفاع نے بتایا کہ ’نمبر 3 اسپیس ایفیکٹس اسکواڈرن‘ برطانیہ کا پہلا ایسا مخصوص یونٹ ہوگا جس کا مقصد خلا میں برطانوی مفادات کو نشانہ بنانے والی دشمن سرگرمیوں کو ’متاثر، محدود اور ناکام‘ بنانا ہے۔

وزارتِ دفاع کے مطابق برطانیہ نے 2023 میں 2 اسکواڈرن قائم کیے تھے، جن کی ذمہ داری خلا سے لاحق خطرات کی نگرانی اور ان سے بروقت خبردار کرنا ہے، جبکہ نیا اسکواڈرن ان خطرات کے خلاف عملی کارروائی کرے گا اور اس مقصد کے لیے الیکٹرونک وارفیئر سمیت جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔

ایئر چیف مارشل ہاروے سمتھ بدھ کو لندن میں شروع ہونے والی دو روزہ یو کے اسپیس پاور کانفرنس کے موقع پر نئے اسکواڈرن کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

برطانوی وزیرِ دفاع ویس اسٹریٹنگ بھی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کریں گے کہ برطانیہ کو ’خلائی دوڑ‘ میں ہونے والی نئی پیشرفت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہوگا۔

یہ اعلان امریکا کی جانب سے پہلی مرتبہ اس بات کی تصدیق کے ایک ہفتے سے کچھ زائد عرصے بعد سامنے آیا ہے کہ اس نے زمین کے مدار میں ہتھیار تعینات کر رکھے ہیں۔

مزید پڑھیں: خلا میں بھی جنگ کا خطرہ؟ امریکا کا خلا میں ہتھیار تعینات کرنے کا اعتراف، روس اور چین برہم

امریکی اقدام پر چین نے خبردار کیا تھا کہ خلا کو ’میدانِ جنگ‘ میں تبدیل کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے، جبکہ روس نے بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ خلا کو ہر قسم کے ہتھیاروں سے پاک رہنا چاہیے۔ ان پیش رفتوں کے باعث خلا میں ممکنہ ہتھیاروں کی دوڑ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خلائی عسکری صلاحیتوں میں اضافے کا رجحان تیز رفتار تکنیکی ترقی سے تقویت پا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے جامع بین الاقوامی قانونی فریم ورک ابھی موجود نہیں۔

گزشتہ برس برطانیہ کی اسپیس کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل پال ٹیڈمین نے خبردار کیا تھا کہ روس کی جانب سے برطانوی فوجی سیٹلائٹس کے مواصلاتی نظام میں باقاعدگی سے خلل ڈالنے کی کوششیں تشویش کا باعث ہیں۔

انہوں نے اس وقت بتایا تھا کہ برطانیہ مواصلات اور نگرانی کے لیے 6 مخصوص فوجی سیٹلائٹس چلا رہا ہے، جو دشمن کی جانب سے مواصلاتی سگنلز میں خلل ڈالنے کی کوششوں کے خلاف حفاظتی ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp