پی ٹی آئی ایک اور 9 مئی کرنا چاہتی ہے، اس بار اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیا جائےگا، فیصل کریم کنڈی

جمعرات 24 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے الٹے بھی لٹک جائیں تب بھی عمران خان کو اپنی سزا ہر حال میں کاٹنی پڑے گی، یہ ایک اور 9 مئی کرنا چاہتے ہیں لیکن اس بار اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیا جائےگا۔

’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف والوں کو کسی بھی صورت 27 ستمبر کو پنجاب یا اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اور اگر انہوں نے ایسی کوئی کوشش کی تو قانون کے مطابق ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائےگا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ سے قبل آئی جی خیبرپختونخوا نے پولیس کے لیے بڑا حکم جاری کردیا

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ 27 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف یا خیبرپختونخوا حکومت پنجاب میں داخل ہو کر تو دکھائے۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی ساری سیاست انتشار پر مبنی ہے۔ مجھے لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی والے ایک اور 9 مئی جیسا واقعہ رونما کرنا چاہتے ہیں۔

گورنر نے کہاکہ اب تو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ماضی کو دیکھتے ہوئے اس کی قیادت اور اراکینِ اسمبلی خود پولیس سے کہہ رہے ہیں کہ آ جائیں اور ہمیں گرفتار کرلیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ علی امین گنڈاپور اب کہہ رہے ہیں کہ انہیں ماضی میں گرفتاری کے دوران بجلی کے جھٹکے دیے گئے تھے اور اب وہ اس کا علاج کروا رہے ہیں۔ ’میں کسی کی صحت کا مذاق نہیں اڑانا چاہتا، لیکن جب وہ وزیراعلیٰ تھے تو اس وقت انہوں نے اپنا علاج کیوں نہیں کروایا؟‘

انہوں نے کہاکہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کردار 27 ستمبر کے حوالے سے سب سے اہم ہے۔ کیوں کہ امن و امان کے قیام کی ذمہ داری ان کی ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو آڑے ہاتھوں لیا۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے کہاکہ جس دن پی ٹی آئی والوں کو پتا چلے گا کہ ان کی صفوں کے اندر میر جعفر اور میر صادق کون تھا، تو وہ علی امین کی سیاست کا آخری دن ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ علی امین گنڈاپور نے بڑے انوکھے انداز میں 2024 کے انتخابات کو اپنے لیے مینج کیا۔ عاطف خان، شہرام ترکئی اور اسد قیصر، جو وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار تھے، انہیں قومی اسمبلی بھیج دیا، جبکہ تیمور جھگڑا اور کامران بنگش کو سازش کے ذریعے ہرایا۔ یعنی پانچوں امیدواروں کا تختہ انہوں نے صاف کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور محسن نقوی کے اچھے بچے تھے۔ وہ 12، 13 اضلاع کراس کر کے کیسے خیبرپختونخوا واپس پہنچتے تھے، یہ وہی بتا سکتے ہیں، لیکن کم از کم اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ علی امین کے دور میں بے تحاشا رقم فرانس بھیجی گئی ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہاکہ بحیثیت وزیراعلیٰ وہ چھوٹی سے چھوٹی پوسٹ پر تعیناتی کے لیے پیسے لیا کرتے تھے۔ انہوں نے محکمہ خزانہ میں ایک ناکہ لگا رکھا تھا کہ ہر ترقیاتی فنڈ کے اجرا سے قبل وہ کمیشن لیا کرتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ علی امین گنڈاپور جتنے بھی احتجاجی جلوس اسلام آباد کی طرف نکالتے تھے، ان میں وہ منشیات، اسلحہ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اسمگل کرکے لے جاتے تھے، بلکہ وہ خود اسمگلروں سے کہتے تھے کہ تیار رہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا نے انٹرویو کے دوران دعوٰی کیاکہ پاکستان تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیرِ قانون اسراراللہ گنڈاپور کی شہادت کے بعد جب عمران خان کلاچی، ڈی آئی خان جانا چاہتے تھے تو اسراراللہ گنڈاپور کے بھائی انعام اللہ گنڈاپور نے عمران خان سے کہا تھا کہ آپ ضرور آئیں، لیکن علی امین گنڈاپور کو ساتھ نہ لائیں، کیونکہ ان کے پاس ثبوت تھے کہ علی امین گنڈاپور ان کے بھائی اسراراللہ گنڈاپور پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث تھے۔

انہوں نے کہاکہ علی امین گنڈاپور وکٹ کے دونوں جانب کھیلتے تھے۔ وہ پارٹی والوں سے بھی کہتے تھے کہ میں آپ کے ساتھ ہوں اور اسلام آباد والوں سے بھی کہتے تھے کہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ علی امین گنڈاپور کے ساتھ میرا ذاتی کوئی مسئلہ نہیں تھا، لیکن وہ ہر کسی کو پی ٹی آئی کا کارکن سمجھتے تھے اور جسے چاہتے، گالی دیتے تھے، لیکن میں ایسا نہیں تھا۔

انہوں نے کہاکہ ہم دونوں نے ایک دفعہ شکار کیا تھا، جس کی تصویر کبھی کبھار سوشل میڈیا پر شیئر ہوتی ہے، لیکن کبھی بھی میرے ان کے ساتھ قریبی تعلقات نہیں رہے۔

انہوں نے کہاکہ علی امین میرا دور کا رشتہ دار ضرور ہے، لیکن ایسے شخص کو رشتہ دار کہنا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ جب میں نے حلف لیا تھا تو کہا تھا کہ میں صوبے کا مقدمہ وفاق میں لڑوں گا، لیکن علی امین نے گالم گلوچ شروع کردی۔ اب ایسے میں خاموش نہیں رہ سکتا۔ اگر خاموش رہتا تو لوگ مجھے پی ٹی آئی کا کارکن سمجھتے۔

انہوں نے کہاکہ ہم دونوں ایک ہی علاقے سے ہیں اور وہ جانتا ہے کہ علاقائی سطح پر کس بات کا کس طرح جواب دینا ہے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی سب سے بڑی خوبی یا خامی یہ ہے کہ اسے ایسی اپوزیشن ملی ہے جو کہہ رہی ہے کہ آئیں، مل کر وفاق کے ساتھ صوبے کے حقوق کے لیے لڑیں، لیکن حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے آج تک ایسی کوئی کمیٹی نہیں بنائی جو اپنے مطالبات وفاق کے سامنے پیش کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صوبائی حکومت صرف سیاست، سیاست کھیل رہی ہے۔ انہیں صوبے کے مفاد سے کوئی سروکار نہیں۔

انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی کا بحیثیت وزیراعلیٰ اب صرف ایک ہی مقصد لگ رہا ہے کہ صوبہ جائے بھاڑ میں، بس وہ صرف ایک قیدی کی رہائی کے لیے ہر حال میں لڑیں گے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہاکہ صوبے کے امن و امان کی ذمہ داری خالصتاً صوبائی حکومت کی ہے۔ ’میں وفاق کو بھی برابر کا ذمہ دار سمجھتا ہوں، لیکن خیبرپختونخوا حکومت کا صوبے کے مسائل سے متعلق رویہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہاکہ یہ سیاسی جماعت صرف سوشل میڈیا پر کھیلتی ہے۔ بعض اوقات تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی نے صوبے کو مکمل طور پر دہشتگردوں کے حوالے کر رکھا ہے کہ وہ جانیں اور ان کا کام۔

ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر وزرا سارا دن اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھے ہوتے ہیں۔ جب وہ وہاں بیٹھے ہوں گے تو خاک صوبے کے لیے کام ہو گا؟ سہیل آفریدی کو صوبے کی کوئی فکر نہیں۔

ان کے مطابق صوبے کے مسائل کے حل کے لیے وفاق بھی غیر سنجیدہ ہے۔ کیا محسن نقوی کے علاوہ کس وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا کا دورہ کیا ہے؟ وفاق مسلسل بے اعتنائی برت رہا ہے۔

گورنر نے کہاکہ وفاق اور صوبے کے درمیان کوئی کوآرڈینیشن نہیں ہے۔ خیبرپختونخوا کے پن بجلی، امن و امان سمیت دیگر کئی مسائل ہیں، جہاں سنجیدگی کی ضرورت ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان ایک طرف کفایت شعاری کی مہم چلا رہے ہیں تاکہ اخراجات کم کیے جائیں، لیکن دوسری طرف ان کی بھتیجی جہاز لے کر لندن جاتی ہیں۔ وزیراعظم کو اپنی بھتیجی سے پوچھنا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ اسلام آباد سے لندن تک صرف 8 گھنٹے کی تو مسافت ہے۔ اگر مریم نواز اکانومی کلاس میں سفر نہیں کرنا چاہتیں تو وہ بزنس کلاس میں چلی جاتیں، لندن کا سفر فرسٹ کلاس میں کر لیتیں۔ کیا ضرورت تھی اتنے اخراجات کی؟

’اس کے بعد یہ کہنا کہ رقم اپنی جیب سے ادا کی ہے، مجھے بہت عجیب لگتا ہے۔‘

انہوں نے کہاکہ مریم نواز کو بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ کیوں نظر نہیں آتا؟ ان کے بیان کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پورے پاکستان کے لیے دیوار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ خدا نہ کرے، اگر یہ دیوار ٹوٹ گئی تو پھر میں مریم نواز سے پوچھوں گا۔

گورنر نے کہاکہ ہماری تعریف ہونی چاہیے، لیکن ہم پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ مریم نواز کی بجائے اگر صوبوں کو درپیش خطرات سے متعلق بیان مراد علی شاہ یا سہیل آفریدی نے دیا ہوتا تو دونوں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ درج ہوتا اور دونوں وزرائے اعلیٰ دہشتگرد ڈکلیئر ہو جاتے۔

مزید پڑھیں: تبدیلی کا نعرہ ڈھونگ، نظام کی تباہی مشن، خیبرپختونخوا میں اداروں کی بربادی کی آخری اسٹیج

گورنر خیبرپختونخوا نے کہاکہ نئے صوبوں کا فیصلہ صرف پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے۔ جب پارلیمنٹ موجود ہے اور بعض دانشور ریفرنڈم کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں ریفرنڈم کیوں؟

فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ چھوٹے صوبوں کا مسئلہ عجلت کی بجائے پارلیمنٹ میں مباحثے کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ ماضی میں خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع سے متعلق فیصلہ بھی عجلت میں کیا گیا تھا۔ آج تک اس فیصلے کا خمیازہ پورے قبائلی عوام بھگت رہے ہیں۔ ایسے معاملات پارلیمنٹ ہی میں حل ہونے چاہییں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp