13 سال سے بدانتظامی، نالائقی اور اختیارات کا اکھاڑا بنائے رکھنے کے بعد خیبرپختونخوا میں اداروں کی بربادی کا آخری وار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی تسلط سے آزاد کرنے کا نعرہ لگا کر بنایا گیا سنہ 2017 کا اپنا پولیس ایکٹ ہی سہیل آفریدی کے انتشاری عزائم کو کھٹکنے لگا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مجوزہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026: پولیس اصلاحات یا سیاسی کنٹرول؟ مجوزہ قانون کی اہم شقوں پر سوالات
مجوزہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کی تفصیلات نے پی ٹی آئی کی نظام بربادی سوچ کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے کی پولیس کو سیاسی بنانے کی سازش کی جا رہی ہے جس سے انسداد دہشت گردی مہم کو ناقابل تلافی جھٹکا لگے گا اور دہشتگردی کے خلاف سینہ سپر پولیس کا مورال شدید متاثر ہو گا۔
نئے ایکٹ سے وزیراعلیٰ کی بڑھکوں، من پسند فیصلوں اور ذاتی انا کی تسکین پر پولیس کے ذریعے عملدرآمد ہو گا۔ پولیس کو گھر کی لونڈی بنانے کا دیرینہ خواب پورا کیا جا رہا ہے صوبے میں انصاف نہیں تحریک انصاف کا راج لایا جا رہا ہے۔
سنہ 2017 میں پی ٹی آئی نے ڈھول بجا کر پولیس ایکٹ عوام کو بیچا اور دعویٰ یہ تھا کہ پولیس کو سیاسی تسلط سے آزاد کیا جا رہا ہے۔ سنہ 2026 میں اسی پولیس کو وزیراعلیٰ کے تابع کرنے کا نیا نظام لایا جا رہا ہے۔
مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 پورے پولیس کمانڈ اسٹرکچر کو تبدیل کر دے گا، آئی جی سے فیلڈ کمانڈ تک اختیارات سیاسی حکومت کے تابع ہوں گے اور پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری ختم ہو جائے گی۔
مجوزہ بل کے اہم نکات
پالیسی بورڈ کا چیئرمین وزیراعلیٰ ہو گا، پولیس پالیسی، ترجیحات اور سالانہ پلان سیاسی انتظامیہ کے تابع ہوں گے، پولیس کا اصل حاکم آئی جی نہیں وزیراعلیٰ ہو گا۔
آئی جی وفاقی پینل سے وزیراعلیٰ منتخب کرے گا اور پسند نہ آئے تو پینل مسترد، کارکردگی ناپسند ہو تو آئی جی واپس، پولیس چیف کی کرسی پر وزیراعلیٰ کی مہر ہو گی۔
ڈی پی او اور آر پی او کی تعیناتی، تبادلے اور ہٹانے میں وزیراعلیٰ کی منظوری لازم ہو گی، فیلڈ کمانڈ آئی جی کے بجائے سیاسی حکومت کے تابع ہو جائے گی۔
مزید پڑھیے: پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کالعدم قرار دیدیا
گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے افسران کی پوسٹنگ و تبادلے بھی وزیراعلیٰ کی منظوری سے ہوں گے، پولیس افسران کی سروس اور کمانڈ سیاسی اختیار سے منسلک ہو جائے گی۔
ڈی ایس پی سطح پر براہ راست بھرتی کا 25 فیصد کوٹہ وزیراعلیٰ کے اختیار میں ہو گا، آج براہ راست ڈی ایس پی بننے والے کل ایس پی اور ایس ایس پی سمیت اہم کمانڈ عہدوں پر پہنچیں گے۔
پبلک سیفٹی کمیشن کے 7 آزاد ارکان بھی صوبائی حکومت نامزد کرے گی، ریجنل پولیس شکایات اتھارٹی کے چیئرمین اور ارکان بھی حکومت مقرر کرے گی، پولیس کا احتساب کرنے والے ادارے بھی حکومتی اختیار میں ہوں گے۔
جس ادارے نے پولیس کو جوابدہ بنانا ہے اسی کے ارکان حکومت نامزد کرے گی اور پولیس کی نگرانی اور احتساب کا نظام بھی سیاسی اختیار سے آزاد نہیں رہے گا۔
موجودہ ڈی آر سی نظام ختم یا تبدیل ہو گا، ارکان اسمبلی کو کردار ملنے سے مقامی تنازعات کے حل کا نظام سیاسی اثر میں آ جائے گا اور سنہ 2015 سے قائم نظام بھی متاثر ہو گا۔ تقریباً 85 ہزار مقدمات و تنازعات حل کرنے والے ڈی آر سی نظام کی غیر جانب داری ختم ہو جائے گی۔
جلسے جلوس کا این او سی ڈپٹی کمشنر کے بجائے ضلعی پولیس افسر کے پاس ہو گا مگر وہی پولیس افسر وزیراعلیٰ کی منظوری سے تعینات اور سیاسی اختیار سے فارغ ہو سکے گا۔
پشاور ہائیکورٹ اور اسلام آباد کے حکم ناموں میں سیاسی مداخلت کالعدم اور سیاسی عمل میں پولیس و سرکاری ملازمین کی شمولیت غیر قانونی قرار دی گئی اور مجوزہ بل میں وہی راستہ قانون بدل کر واپس لایا جا رہا ہے۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف پولیس فرنٹ لائن فورس ہے، فیلڈ کمانڈ کو سیاسی منظوری سے باندھنے سے انسداد دہشتگردی کی آپریشنل آزادی متاثر ہو گی۔
پوسٹنگ وزیراعلیٰ کے پاس، پالیسی وزیراعلیٰ کے پاس، آئی جی کی تعیناتی وزیراعلیٰ کے پاس، نگرانی کے ادارے وزیراعلیٰ کے نامزد کردہ، پولیس کے اہم اختیارات ایک ہی سیاسی مرکز میں جمع ہو جائیں گے۔
سنہ 2017 میں کہا گیا پولیس عوام کی ہے، دو ہزار چھبیس کے مجوزہ بل میں پولیس کی کمانڈ، پالیسی، پوسٹنگ، بھرتی، نگرانی اور احتساب سیاسی حکومت کے تابع ہو جائے گا۔
پی ٹی آئی نے سنہ 2017 میں آئی جی کو خودمختار بنانے کا دعویٰ کیا، سال 2026 میں مجوزہ بل میں آئی جی، آر پی او، ڈی پی او اور سینیئر پولیس کمانڈ کو وزیراعلیٰ کی منظوری سے جوڑ دیا گیا۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا اسمبلی کا نیا استحقاق قانون آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے، اختیار ولی
سنہ 2017 کا دعویٰ پولیس کو سیاست سے بچانے کا تھا، سال 2026 کا مجوزہ نظام کمانڈ اور نگرانی کو سیاسی دفتر کے پاس لے جائے گا، پولیس قانون کی ہو گی یا سیاست دانوں کی؟














