اے آئی کو ہتھیاروں کی دوڑ کا حصہ بننے سے روکنا ہوگا، اسحاق ڈار کا سلامتی کونسل سے خطاب

جمعرات 24 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیاری، ترقی اور عملی استعمال کے تمام مراحل میں انسانی فیصلہ سازی اور کنٹرول برقرار رہنا چاہیے، جبکہ مصنوعی ذہانت کو ہتھیاروں کی عالمی دوڑ کا ایک اور میدان بننے سے روکنے کے لیے احتیاط اور اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے فرانس کی زیر صدارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ’مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی سلامتی‘ پر منعقدہ اجلاس میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کا شنگھائی کا دورہ مکمل، پاکستان باضابطہ طور پر ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن کا رکن بن گیا

اسحاق ڈار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے فوجی شعبے میں استعمال سے غلط اندازوں اور انتہائی کم وقت میں فیصلے کرنے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، اس لیے اس معاملے میں تحمل، احتیاط اور اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو منظم کرنے کی کوششیں ٹیکنالوجی تک رسائی روکنے کا ذریعہ نہیں بننی چاہییں، ان کا کہنا تھا کہ تحفظ اور سلامتی کے نام پر کیے جانے والے اقدامات کو ٹیکنالوجی سے محرومی کے آلے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

نائب وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت کے عالمی نظم و نسق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایسے نمائندہ اور جامع فورمز میں زیر بحث لایا جانا چاہیے جہاں تمام ممالک کو یکساں اور بامعنی شرکت کا موقع حاصل ہو۔

مزید پڑھیں: اسحاق ڈار کی آذربائیجان کے وزیر خارجہ سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

انہوں نے جینیوا میں مصنوعی ذہانت کے عالمی نظم و نسق سے متعلق پہلے یو این گلوبل ڈائیلاگ کا خیرمقدم کیا اور ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن کی بانی رکن کی حیثیت سے پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون کے فروغ، دنیا میں اے آئی سے متعلق خلیج کم کرنے اور امن و ترقی کے لیے تمام ممالک کو مصنوعی ذہانت تک منصفانہ رسائی فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

اجلاس میں سلامتی کونسل کے ارکان کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے شرکت کی، جن میں فرانس کے وزیر خارجہ، ڈنمارک اور جمہوریہ کانگو کے وزرائے خارجہ، برطانوی سیکریٹری خارجہ اور وائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کے ڈائریکٹر شامل تھے۔

چین، روس، کولمبیا، یونان، بحرین، صومالیہ، پاناما، لائبیریا اور دیگر ممالک کے سینئر نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

سلامتی کونسل کو مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان نے بھی بریفنگ دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp