خیبر پختونخوا کے ضلع برسوات کے علاقے مدین برکلے میں 9 سالہ بچی ایشمل کے مبینہ جنسی زیادتی کے بعد قتل کے واقعے کے بعد مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جس میں بچوں سمیت ہر عمر کے مرد و خواتین شریک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: کمسن بچی اور شوہر کے سامنے اسلحے کے زور پر 2 خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا لرزہ خیز واقعہ
مظاہرین ملزم سلطان محمد کو پھانسی دینے اور ایشمل کو انصاف دلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ پولیس نے کیس کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔
پولیس کے مطابق ایشمل کے قتل اور مبینہ زیادتی کا مقدمہ 9 ستمبر 2026 کو تھانہ مدین میں درج کیا گیا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمہ نمبر 363/26 میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302 اور 376 کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ 2010 کی دفعہ 53 بھی شامل کی گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر برسوات مشتاق خان کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد ملزم کو گرفتار کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا چکا ہے جبکہ ملزم کی اہلیہ کو بھی مبینہ طور پر جرم میں معاونت اور شواہد مٹانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم ان الزامات کا حتمی تعین عدالت کرے گی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کے جسم پر زخموں کے نشانات پائے گئے جبکہ جنسی زیادتی سے متعلق طبی شواہد بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم سمیت دیگر شواہد کی روشنی میں تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیے: جلال پور جٹاں: 4 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، لاش نالے سے برآمد
پولیس نے کیس کی تفتیش کے لیے خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں ایس پی انویسٹی گیشن شوکت علی، ایس ڈی پی او مدین جہانزیب، ایس ڈی پی او خوازہ خیلہ اختر حیات، ایس ایچ او مدین عزیز الرحمان اور انسپیکٹر مدین داؤڑ خان شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق کمیٹی کیس کے تمام پہلوؤں، دستیاب شواہد اور قانونی امور کا جائزہ لے گی اور تفتیش میرٹ پر مکمل کی جائے گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے میں مضبوط قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں اور کیس کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر چلانے کے لیے عدالت سے درخواست کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق وہ مقدمے کی مؤثر پیروی کرے گی اور ملزم کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سوات نے ایشمل کے خاندان کو قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے دو رکنی قانونی ٹیم تشکیل دی ہے۔
بار ایسوسی ایشن کے اعلامیے کے مطابق ایڈووکیٹ سہیل احمد کو لیڈ لیگل کونسل جبکہ ایڈووکیٹ نیلم چٹان کو شریک وکیل مقرر کیا گیا ہے۔
قانونی ٹیم متاثرہ خاندان کی مختلف عدالتی فورمز پر نمائندگی کرے گی اور مقدمے کی پیروی کرے گی۔
مزید پڑھیں: کراچی میں ڈیڑھ سالہ بچی کی موت، 17 سالہ رشتہ دار گرفتار
ایڈووکیٹ نیلم چٹان نے کہا کہ ایف آئی آر میں دفعات 302، 376 پی پی سی اور چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعہ 53 شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقدمے میں شواہد بروقت اور مؤثر انداز میں عدالت کے سامنے پیش کرنا انتہائی اہم ہوگا۔
ایشمل کے اہلخانہ اور مقامی شہریوں کی جانب سے واقعے کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
متاثرہ بچی کے چچا عمر قلاب نے بھی حکومت سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خاندان اور علاقے کے لوگ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کے منتظر ہیں۔
دی اویکننگ تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عرفان حسین بابک نے بتایا کہ سول سوسائٹی کی رپورٹس کے مطابق سال 2025 میں 17 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں خیبر پختونخوا میں 855، پنجاب میں 12,800، سندھ میں 3,187 اور اسلام آباد میں 431 کیسز شامل ہیں۔
عرفان بابک نے کہا کہ ہمارے صوبے میں چائلڈ پروٹیکشن کا قانون موجود ہے لیکن اس پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خواتین اور بچیوں پر تشدد و زیادتی کے بڑھتے واقعات، قومی کمیشن کا فوری اور مؤثر پولیس ایکشن کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ جیسا کہ حالیہ دنوں میں دیکھا گیا ہے کہ کئی بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک مجرموں کو عبرتناک سزا نہیں ملے گی ان واقعات میں کمی واقع نہیں ہو سکتی۔












