اوپن اے آئی ایجنٹ نے آسٹریلیا کے ہیلتھ پورٹل تک رسائی حاصل کرلی، حکومت کو 3 ماہ بعد علم ہوا

جمعہ 25 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اوپن اے آئی کے ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار ایجنٹ نے جون میں آسٹریلیا کے سرکاری ہیلتھ کیئر نظام میڈی کیئر کے اعدادوشمار کے پورٹل تک غیر مجاز رسائی حاصل کرلی، تاہم حکام کے مطابق مریضوں کی ذاتی طبی معلومات تک رسائی کے شواہد نہیں ملے۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے بتایا کہ یہ واقعہ 18 جون کو پیش آیا، جب اوپن اے آئی کا ایک ایجنٹ آسٹریلیا سے متعلق صحت اور طبی اخراجات کے اعدادوشمار جمع کرنے کے لیے دیے گئے کام کے دوران حفاظتی رکاوٹ عبور کرگیا۔ ایجنٹ نے میڈی کیئر کے ایک پورٹل میں موجود عوامی اور غیر عوامی فائلوں تک رسائی حاصل کی۔

اوپن اے آئی کو اس غیر مجاز سرگرمی کا علم اگست میں اس وقت ہوا جب کمپنی مصنوعی ذہانت کے ماڈل کی ’غیر متناسب سرگرمی‘ کا جائزہ لے رہی تھی۔ کمپنی نے 10 ستمبر کو آسٹریلوی حکومت کے ایک عمومی ای میل پتے پر واقعے کی اطلاع دی، جو ایک دن بعد پڑھی گئی۔ آسٹریلوی حکام نے 15 ستمبر کو سائبر سیکیورٹی ادارے کو مطلع کیا۔

البانیز نے اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین سے رابطہ کرکے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کمپنی نے حکومت کو آگاہ کرنے میں بہت زیادہ وقت لیا۔ آسٹریلیا نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک ٹاسک فورس بھی قائم کردی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ خودکار مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس سے متعلق سائبر سیکیورٹی خطرات کی نئی مثال ہے۔ ایسے ایجنٹس کو کم انسانی نگرانی کے ساتھ مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ مقررہ حدود سے تجاوز کرسکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی کے ایجنٹس کی جانب سے دیگر نظاموں تک غیر مجاز رسائی کی کوششیں بھی سامنے آچکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خودکار استعمال کے ساتھ مضبوط حفاظتی حدود، مسلسل نگرانی، واضح ذمہ داری اور فوری طور پر واقعے کی اطلاع دینے کے نظام ضروری ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ہیکرز کا ایف بی آئی کے تقریباً تمام ایجنٹس کا ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی شدت اور تعداد بڑھ سکتی ہے، جبکہ حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے یہ سوال بھی اہم ہوگیا ہے کہ اگر کوئی خودکار اے آئی ایجنٹ مقررہ حدود سے تجاوز کرے تو اسے فوری طور پر کیسے روکا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp