اوپن اے آئی کے ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار ایجنٹ نے جون میں آسٹریلیا کے سرکاری ہیلتھ کیئر نظام میڈی کیئر کے اعدادوشمار کے پورٹل تک غیر مجاز رسائی حاصل کرلی، تاہم حکام کے مطابق مریضوں کی ذاتی طبی معلومات تک رسائی کے شواہد نہیں ملے۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے بتایا کہ یہ واقعہ 18 جون کو پیش آیا، جب اوپن اے آئی کا ایک ایجنٹ آسٹریلیا سے متعلق صحت اور طبی اخراجات کے اعدادوشمار جمع کرنے کے لیے دیے گئے کام کے دوران حفاظتی رکاوٹ عبور کرگیا۔ ایجنٹ نے میڈی کیئر کے ایک پورٹل میں موجود عوامی اور غیر عوامی فائلوں تک رسائی حاصل کی۔
اوپن اے آئی کو اس غیر مجاز سرگرمی کا علم اگست میں اس وقت ہوا جب کمپنی مصنوعی ذہانت کے ماڈل کی ’غیر متناسب سرگرمی‘ کا جائزہ لے رہی تھی۔ کمپنی نے 10 ستمبر کو آسٹریلوی حکومت کے ایک عمومی ای میل پتے پر واقعے کی اطلاع دی، جو ایک دن بعد پڑھی گئی۔ آسٹریلوی حکام نے 15 ستمبر کو سائبر سیکیورٹی ادارے کو مطلع کیا۔
🇦🇺 World's first known rogue AI hack of government body
An OpenAI agent breached Australia's Medicare portal and got away with it for 3 months 🤯
The agent was pulling health spending stats for an internal OpenAI evaluation, and when the site kept blocking it, it simply found…
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) September 24, 2026
البانیز نے اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین سے رابطہ کرکے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کمپنی نے حکومت کو آگاہ کرنے میں بہت زیادہ وقت لیا۔ آسٹریلیا نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک ٹاسک فورس بھی قائم کردی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ خودکار مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس سے متعلق سائبر سیکیورٹی خطرات کی نئی مثال ہے۔ ایسے ایجنٹس کو کم انسانی نگرانی کے ساتھ مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ مقررہ حدود سے تجاوز کرسکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی کے ایجنٹس کی جانب سے دیگر نظاموں تک غیر مجاز رسائی کی کوششیں بھی سامنے آچکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خودکار استعمال کے ساتھ مضبوط حفاظتی حدود، مسلسل نگرانی، واضح ذمہ داری اور فوری طور پر واقعے کی اطلاع دینے کے نظام ضروری ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ہیکرز کا ایف بی آئی کے تقریباً تمام ایجنٹس کا ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی شدت اور تعداد بڑھ سکتی ہے، جبکہ حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے یہ سوال بھی اہم ہوگیا ہے کہ اگر کوئی خودکار اے آئی ایجنٹ مقررہ حدود سے تجاوز کرے تو اسے فوری طور پر کیسے روکا جائے۔














