بلوچستان میں بلوچ حقوق کے نام پر سرگرم مختلف عسکری تنظیموں کی جانب سے مقامی لوگوں، ٹرانسپورٹ اور معاشی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جن میں بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے، آتش زنی اور شاہراہوں پر غیر قانونی ناکے لگانے کے واقعات شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ 2 ماہ کے دوران مستونگ، دالبندین اور دیگر اضلاع میں مقامی افراد اور کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچانے کے متعدد واقعات پیش آئے۔ ان میں ٹرانسپورٹرز پر فائرنگ، پھلوں سے لدے ٹرکوں کو ہائی جیک کرنے، تجارتی سامان لے جانے والے کنٹینرز پر قبضے اور مویشی چھیننے کے واقعات بھی شامل ہیں۔
شاہراہوں پر غیر قانونی ناکے لگا کر مقامی ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز سے بھاری رقم بطور بھتہ طلب کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر ایک سے 2 لاکھ روپے تک رقم طلب کی جاتی ہے اور انکار کی صورت میں تشدد یا حملے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ: بی ایل اے کے دہشتگردوں کی دن دہاڑے بڑی واردات، بینک لوٹ کر فرار ہوگئے
اہم تجارتی راستے بھی ان کارروائیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ کوئٹہ کراچی ہائی وے این 25 اور کوئٹہ تفتان ہائی وے این 40 پر تجارتی گاڑیوں اور مسافر کوچز کو روکنے، رقم طلب کرنے اور بعض گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
حالیہ دنوں میں این 25 پر ایک غیر قانونی ناکے کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کی رپورٹ بھی سامنے آئی، جس میں حکام کے مطابق 23 مغوی افراد کو بازیاب اور 5 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق بعض واقعات میں مسافروں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کے شناختی کارڈ بھی چیک کیے گئے اور پنجاب و سندھ سے تعلق رکھنے والے مزدوروں اور مسافروں کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
بلوچستان میں ٹرانسپورٹرز پہلے بھی حملوں اور بھتہ خوری کے باعث معاشی نقصانات کی شکایات کرتے رہے ہیں۔ مئی 2026 میں بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن نے بھی حملوں، گاڑیاں جلانے اور بھتہ خوری کے خلاف معدنیات کی ترسیل روکنے کا اعلان کیا تھا۔
بلوچستان میں سرگرم عسکری تنظیمیں اپنی کارروائیوں کو مختلف سیاسی اور مزاحمتی مقاصد سے جوڑتی ہیں، تاہم ان کارروائیوں کے نتیجے میں عام شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری سرگرمیوں کو پہنچنے والے نقصان پر مقامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔














