اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں بھارتی نمائندے کے بیان پر پاکستان نے جواب دیتے ہوئے بھارت پر پروپیگنڈا اور ڈس انفارمیشن کو ریاستی پالیسی اور سفارتکاری کا ذریعہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
پاکستان کے مستقل مشن برائے اقوام متحدہ کے مطابق کونسلر صائمہ سلیم نے جنرل ڈیبیٹ کے دوران بھارتی نمائندے کے بیان پر اپنے حقِ جواب کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کی پالیسیوں پر سخت ردعمل دیا۔
The Indian State has elevated propaganda into an instrument of statecraft, embraced disinformation as a tool of diplomacy, used terrorism as a policy instrument, pursued regional hegemony as a strategic objective, mainstreamed Islamophobia, and institutionalized the ideology of… pic.twitter.com/en6Pxp8Adq
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) September 26, 2026
صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارتی ریاست نے پروپیگنڈا کو ریاستی امور چلانے کا ذریعہ بنا لیا ہے اور ڈس انفارمیشن کو سفارتکاری کے ایک ہتھیار کے طور پر اپنایا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے دہشتگردی کو پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کیا، علاقائی بالادستی کو اسٹریٹجک مقصد بنایا، اسلاموفوبیا کو مرکزی دھارے میں شامل کیا اور ہندوتوا کے نظریے کو ادارہ جاتی شکل دی۔
پاکستانی مشن نے صائمہ سلیم کے جواب کو موجودہ بھارت کی عدم برداشت سے متعلق ایک ’غیر معمولی بیلنس شیٹ‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت نے پانی سے چھیڑ چھاڑ کی تو جنگ ہوگی، بھرپور جواب دیں گے، خواجہ آصف
پاکستان کی جانب سے یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے دوران پاکستان اور بھارت کے نمائندے ایک دوسرے کے مؤقف پر ردعمل دے رہے ہیں۔ پاکستان اس سے قبل بھی اقوام متحدہ کے مختلف فورمز پر بھارت کی پالیسیوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے متعلق اپنے تحفظات پیش کرتا رہا ہے۔














