عمران خان سے سہیل آفریدی کی نامزدگی کا غلط فیصلہ ہوا جس کے نتائج پارٹی آج بھی بھگت رہی ہے، شیر افضل مروت

پیر 28 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے باغی رہنما و ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ عمران خان کے غلط فیصلوں کا ازالہ نہ کیا گیا تو پارٹی کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا، میں نے پارٹی کے لیے بہت سی قربانیاں دیں لیکن جب حکومت بنی اور تھوڑا بہت اچھا وقت آیا تو سب سے پہلے مجھے ہی تختۂ مشق بنایا گیا۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ اگر تین لوگوں کو سائیڈ پر کر دیا جائے تو وہ عمران خان کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مؤخر: کیا یہ واقعی حکومت کی سیاسی جیت ہے؟

انہوں نے کہاکہ حکومت فیس سیونگ کا موقع بھی نہیں دے رہی، بہتر ہوگا کہ سہیل آفریدی استعفیٰ دے کر سائیڈ پر ہو جائیں۔ ان کے مطابق عمران خان کی جانب سے سہیل آفریدی کی نامزدگی کا فیصلہ درست نہیں تھا، جس کے نتائج پارٹی آج بھی بھگت رہی ہے۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ مذاکرات میں پی ٹی آئی سے ہمیشہ کے لیے احتجاج ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جو پارٹی پورا نہیں کر سکے گی۔

انہوں نے کہاکہ اگر مارچ، تحریک یا احتجاج کرنا تھا اور لاکھوں لوگوں کو باہر نکالنا تھا تو اس کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جانے چاہیے تھے، تاہم ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔

شیر افضل مروت نے کہاکہ میں مسلسل چیخ رہا تھا کہ اگر مارچ کرنا ہے، تحریک چلانی ہے یا احتجاج کرنا ہے اور لاکھوں لوگوں کا بندوبست کرنا ہے تو اس کے لیے عملی تیاری بھی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت عوام کے درمیان نہیں گئی، نہ لوگوں کو متحرک کرنے کی کوئی کوشش کی گئی اور نہ ہی انہیں احتجاج کے لیے تیار کیا گیا۔ پورے پاکستان میں کسی ایک ضلع میں بھی پی ٹی آئی کی کوئی قابلِ ذکر سرگرمی نظر نہیں آئی۔

شیر افضل مروت کے مطابق خیبرپختونخوا میں بھی پی ٹی آئی کے ماہرین، اکابرین، ارکان قومی اسمبلی، سینیٹرز اور ارکان صوبائی اسمبلی عوام کے درمیان نہیں گئے۔

رکن قومی اسمبلی نے کہاکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ پورے پاکستان میں ہر ضلع، تحصیل اور بڑے گاؤں میں پی ٹی آئی کے رہنما چوکوں، دکانوں اور بازاروں میں جاتے، لوگوں کو آگاہ کرتے اور انہیں بتاتے کہ احتجاج کے لیے ان کا نکلنا ضروری ہے۔

ان کے مطابق لوگوں کو لانے کے لیے ٹرانسپورٹ کا پہلے سے بندوبست ہونا چاہیے تھا، ریجن کی سطح پر الگ کمیٹیاں بننی چاہیے تھیں اور کھانے پینے کے انتظامات کے لیے بھی علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دی جانی چاہیے تھیں۔

انہوں نے کہاکہ قیادت کو پہلے سے اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ خیبر پختونخوا میں انتظامی کنٹرول ان کے پاس نہیں رہے گا، لیکن یہ تمام چیزیں پہلے سے نظر انداز کی گئیں۔

شیر افضل مروت نے سوال اٹھایا کہ 27 ستمبر کو جو کام نہیں ہو سکا، وہ 4 اکتوبر کو کیسے ہو جائے گا؟ ایسی کون سی چیز ہوئی ہے جس کی وجہ سے اب یہ کام ممکن ہو جائے گا، مجھے تو نظر نہیں آتا۔

انہوں نے کہاکہ یہ باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ شاید وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی مارچ کے منتظمین پوری کوشش میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ پانچ یا سات دن کا وقت لینے کا مقصد شاید یہ تھا کہ اس دوران کسی مفاہمت یا حکومت کی طرف سے بات چیت کا راستہ نکل آئے۔

شیر افضل مروت نے کہاکہ وزیراعلیٰ نے بھی اس حوالے سے بیان دیا ہے، لیکن انہیں نہیں لگتا کہ حکومت پی ٹی آئی کو کوئی فیس سیونگ دے رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر فیس سیونگ بھی نہ ہو اور حکومت بالکل یہ کہہ دے کہ جو کرنا ہے کرلو، تو پھر معزز اور باوقار طریقہ یہی ہوگا کہ ہاتھ کھڑے کر دیے جائیں اور کہا جائے کہ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا، لہٰذا میں استعفیٰ دیتا ہوں اور عہدے سے الگ ہو جاتا ہوں، اور ایسا کرنا ہی باوقار راستہ ہوگا۔

شیر افضل مروت نے کہاکہ ایک غلط فیصلہ کیا گیا تھا اور شاید اس وقت اندازہ نہیں ہو سکا کہ جو فیصلہ آج سے 11 ماہ قبل کروایا گیا، اس کے نتائج پوری پارٹی بھگت رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان تمام حالات کے پیش نظر بہتر یہی ہوگا کہ اگر اکتوبر میں بھی پسپائی ہوتی ہے تو اس کے اثرات کو سمجھا جائے، کیونکہ اس طرح کی پسپائی سے پی ٹی آئی کی سیاست کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

شیر افضل مروت نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کی ملاقاتوں سے بھی کوئی خاص سیاسی پیشرفت سامنے نہیں آئی، وزیراعلیٰ ہاؤس سے علی امین کو یہ پیغام ضرور دیا گیا کہ وزیراعلیٰ آ رہے ہیں، لیکن اس کے علاوہ ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی جس میں کوئی سیاسی مسئلہ حل ہوا ہو، یہ صرف ایک رسمی ملاقات تھی۔

انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں انتظامی معاملات پی ٹی آئی کے پاس ہیں اور حکومت جب چاہے لوگوں کو روک سکتی ہے یا ان کی گرفتاری عمل میں لا سکتی ہے، لیکن اگر گورنر راج لگائے بغیر معاملات حل ہو سکتے ہیں تو پھر گورنر راج کی ضرورت نہیں۔

شیر افضل مروت نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے عوام عمران خان کا ساتھ نبھانا چاہتے ہیں، تاہم پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے پوری قیادت کو بدنام کر رکھا ہے، موجودہ قیادت میں لوگوں کا اعتماد نہیں رہا، اسی وجہ سے لوگ باہر نہیں نکل پا رہے، البتہ ایک شخص جو اب بھی اعتماد کے قابل ہے وہ عمران خان ہے۔

شیر افضل مروت نے کہاکہ لوگ انتظار کرتے ہیں کہ قیادت کے ساتھ کون باہر نکلے گا۔ پی ٹی آئی کے جلسوں میں لوگوں کی تعداد کم ہونے کی ایک وجہ بھی یہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کا معاملہ الگ ہے، جبکہ موجودہ احتجاج اور مذاکرات کا معاملہ الگ ہے۔

مذاکرات کے حوالے سے شیر افضل مروت نے کہا کہ اگر مذاکرات ہونے ہوتے تو اب تک ہو چکے ہوتے اور اس وقت اتنی کشیدگی کی صورتحال پیدا نہ ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اب مذاکرات میں پی ٹی آئی کے سامنے ایسی شرائط رکھی جا سکتی ہیں جنہیں پی ٹی آئی پورا نہ کر سکے۔

ان کے مطابق ممکنہ مطالبات میں یہ بھی شامل ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی صرف موجودہ مارچ کو مؤخر کرنے کا اعلان نہ کرے بلکہ آئندہ بھی کسی مارچ کے لیے اسلام آباد نہ آنے کا اعلان کرے۔

شیر افضل مروت نے کہاکہ یہ ایسی بات ہوگی جس میں پی ٹی آئی سے ناک سے لکیر کھنچوائی جائے گی۔

عمران خان کی جانب سے کیے گئے فیصلوں اور پارٹی کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہاکہ یہ تمام فیصلے عمران خان سے کروائے گئے ہیں اور عمران خان کی بھی کچھ ذمہ داری بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن فیصلوں کی وجہ سے پارٹی کو نقصان پہنچا، ان فیصلوں کو واپس لینا ہوگا اور پارٹی کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کی جانے والی غلطیوں کا ازالہ کیا جائے۔

شیر افضل مروت نے کہاکہ جب تک یہ فیصلے واپس نہیں لیے جاتے، پی ٹی آئی کے مستقبل کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں ہوگی۔

انہوں نے خبردار کیاکہ اگر پارٹی اسی تسلسل اور تواتر کے ساتھ چلتی رہی تو مستقبل میں مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں اور پارٹی کے وجود کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کو اس قابل بھی نہیں چھوڑا جائے گا کہ وہ دوبارہ کھڑی ہو سکے، کیونکہ جب کوئی دشمن کمزور ہو جائے اور یہ اندیشہ بھی موجود ہو کہ وہ کسی وقت دوبارہ پلٹ کر وار کر سکتا ہے تو دانائی اور منطق کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اسے دوبارہ اٹھنے کے قابل نہ چھوڑا جائے۔

سہیل آفریدی کے استعفے کی صورت میں نئے وزیراعلیٰ کے سوال پر شیر افضل مروت نے کہا کہ یہ علی امین گنڈاپور ہوں گے یا کوئی اور، اس کا فیصلہ عمران خان کریں گے اور وقت ہی بتائے گا کہ کیا فیصلہ ہوتا ہے۔

عمران خان کی رہائی کے لیے اپنے کردار کے حوالے سے سوال پر شیر افضل مروت نے کہا کہ اگر سلمان اکرم راجا، علیمہ خان اور سہیل آفریدی کو دور کیا جائے تو وہ اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سہیل آفریدی سے رنجش کے حوالے سے سوال پر شیر افضل مروت نے کہا کہ ان کی ذاتی طور پر کوئی رنجش نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ وہی لوگ ہیں جو ان کے پیچھے پڑے ہوئے تھے، جبکہ انہوں نے پارٹی کے ساتھ نیکی کی اور اس کے لیے کئی تکالیف اٹھائیں۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کے لیے لانگ مارچ کا معاملہ اب غیر متعلقہ ہو چکا ہے، طارق فضل چوہدری

شیر افضل مروت نے کہاکہ جب حکومت بنی اور تھوڑا بہت اچھا وقت آیا تو سب سے پہلے انہیں ہی تختۂ مشق بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی عادت ہے کہ اگر کوئی شخص ایک، دو یا زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ ان کے ساتھ برا سلوک کرے تو اس کے بعد وہ اپنی زندگی میں دوبارہ اس شخص کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp