کراچی میں ریڈ لائن بی آر ٹی کے موسمیات فلائی اوور کا افتتاح ہوا تو نئی سڑک پر ایک غیر معمولی منظر نے سب کی توجہ کھینچ لی۔ فلائی اوور پر ریڈ کارپٹ بچھایا گیا اور حکام کی گاڑیوں کا قافلہ اسی شاہانہ راستے سے گزرا۔ افتتاحی تقریب کی ویڈیوز منظرِ عام پر آئیں تو فلائی اوور سے زیادہ ریڈ کارپیٹ زیرِ بحث آ گیا اور صارفین نے اسے حکام کے شاہانہ پروٹوکول کی مثال قرار دیتے ہوئے طنزیہ تبصروں کی بھرمار کر دی
سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ کراچی کی ’ریڈ لائن‘ پر آخر لال کارپٹ بچھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اشرافیہ کی گاڑیاں بھی لال کارپٹ پر چلتی ہیں اتنی شاہانہ زندگی گزارنے والے کیسے اقتدار چھوڑیں گے، انہوں نے تنقید کرتے ہوءے کہا کہ تف ان پر نہ کریں، تف ان پر کریں جو ان کے حق اقتدار کے لیے دلائل لاتے ہیں۔

ڈاکٹر ہما سیف نے تنقید کرتے ہوءے لکھا کہ عوام کے حالات اتنے اچھے ہیں کہ حکمران اشرافیہ کی گاڑیوں کے لیے بھی سرخ کارپٹ ضروری ہے۔
عوام کے حالات اتنے اچھے ہئنُ کہ حکمران اشرافیہ کی گاڑیوں کے لئے بھی سرخ کارپٹ عین ضروری ہے !!
Sarcastic tweet pic.twitter.com/a7OsOspMw3— Dr Humma Saif (@HummaSaif) September 28, 2026
عنبر دانش نے ایک ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کہا کہ جس پل کے اوپر آج نااہلوں کا ریڈ کارپٹ چل رہا ہے، اسی پل کے نیچے 6 سال سے یونیورسٹی روڈ کھدی پڑی ہے۔ شہری نے لائیو ریڈ کارپٹ کی ویڈیو بنا لی لیکن شرم پھر بھی نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ انہوں نے ایسا کونسا کارنامہ انجام دیا جو یہ ریڈ کارپٹ پر اپنی گاڑیاں چلا کر آرہے ہیں؟ کوئی شرم ہی کر لیتے کہ شہر کو نہ پانی دے سکے نہ انفراسٹرکچر، نہ کچرا اٹھا سکے، نہ بی آر ٹی بنا سکے۔
جس پل کے اوپر آج نااہلوں کا ریڈ کارپٹ چل رہا ہے، اسی پل کے نیچے چھ سال سے یہ یونیورسٹی روڈ کھدی پڑی ہے۔
شہری نے لائیو ریڈ کارپٹ کی ویڈیو بنا لی۔
لیکن شرم پھر بھی نہیں آئے گی۔ pic.twitter.com/jXmRbnH0oR— Amber Danish (@amberdanishh) September 27, 2026
ایک اور سوشل میڈیا صارف نے حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ریڈ لاین کے برج کا افتتاح تھا اس حساب سے میچنگ ریڈ کارپٹ ضروری تھی۔ اب گرین لائن کے لئے شاید گرین کارپیٹ ہوگی۔
ریڈ لاین کے برج کا افتتاح تھا نا فیصل بھائ تو اس حساب سے میچنگ ریڈ کارپٹ ضروری تھی۔ اب گرین لائن کے لئے شاید گرین ہوگی۔
— Shozi (@sjq_76) September 27, 2026
ایک صارف نے تو معاملے کو ہی ’ریڈ لائن‘ سے جوڑتے ہوئے طنزیہ تبصرہ کیا کہ ریڈ لائن کے لیے لال کارپٹ تو بنتا ہی تھا۔
واضح رہے کہ سندھ کے سینئر صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے اتوار کو موسمیات فلائی اوور کا افتتاح کیا۔ تقریب کے موقع پر فلائی اوور پر باقاعدہ ریڈ کارپٹ بچھایا گیا، جس پر صوبائی وزیر اور دیگر حکام کی گاڑیوں کے قافلے کو گزارا گیا۔














