سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے ایک مقدمے میں نامزد حساس ادارے (پاکستان اٹامک انرجی کمیشن) کے ملازم کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران ملزم ایاز کے وکیل رضوان عباسی نے موقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل نہ تو موقعِ واردات پر موجود تھا اور نہ ہی اس کا آلاتِ قتل سے کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ابتدائی طبی و قانونی رپورٹ (ایف آئی آر) میں بھی ملزم کا نام شامل نہیں تھا۔
دوسری جانب سرکاری وکیل نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ ملزم حساس ادارے کا ڈرائیور ہے اور اس پر الزام ہے کہ اس نے قتل کی واردات کے بعد دیگر مرکزی ملزمان کو اپنی سرکاری گاڑی میں فرار کروایا۔
سرکاری وکیل کے مطابق پولیس نے ملزم کے زیرِ استعمال سرکاری گاڑی کو قبضے میں لے لیا ہے اور واردات کے وقت ملزم کا دیگر ملزمان سے رابطہ بھی ثابت ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حساس ادارے کے ڈرائیور ملزم ایاز کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔














