کے پی حکومت کی ناکامی، دہشتگردی بے قابو، پولیس شہدا دوگنا ہوگئے، اختیار ولی

پیر 28 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اطلاعات برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی خان اور ممبر قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ لے کر وائٹ پیپر اور حقائق نامہ عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔

مزید پڑھیں:9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی کی نظرثانی درخواست مسترد، وزارت اعلیٰ خطرے میں

اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں اختیار ولی خان نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف صوبائی حکومت کی لاپرواہی تشویشناک ہے، خیبرپختونخوا پولیس اور سی ٹی ڈی کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ امن و امان کا گراف مسلسل گر رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف ادوار کے اعدادوشمار کے مطابق پولیس شہداء کی تعداد دوگنا ہوئی، زخمیوں کی تعداد میں 108 فیصد اور دہشتگردی کے حملوں میں 33.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق 2025 میں 63 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ 2026 میں اب تک یہ تعداد 122 ہوچکی ہے۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ مختلف اداروں سے اعدادوشمار کی تصدیق کرائی گئی ہے۔ اسمگلنگ اور منشیات کے سوداگروں کے درمیان کٹھ جوڑ ہے، جبکہ شہدا کے جنازوں میں عدم شرکت ریاست سے لاتعلقی کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیں:ڈی آئی خان حملے میں ملوث ایک دہشتگرد کا تعلق کابل سے ہے، پی ٹی آئی افغانستان سے ہونے والی فائرنگ کی مذمت کیوں نہیں کرتی: وزیر اطلاعات

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت بالواسطہ یا بلاواسطہ جرائم پیشہ افراد کی سہولتکاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مثالی حکومت اور مثالی پولیس کے دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم زمینی حقائق مختلف ہیں۔

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ہم سیاسی جماعت کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے عوام کی ترجمانی کے لیے آئے ہیں۔ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے 112 دن بعد پہلی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جبکہ ان کے دور میں اب تک انہوں نے صرف ایک اجلاس کی صدارت کی، اس عرصے کے دوران اپیکس کمیٹی کے 4 اجلاس ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ 18 ستمبر کو پولیس لائن پر حملے میں 20 افراد شہید اور 35 زخمی ہوئے، جبکہ سہیل آفریدی کے دور میں پولیس پر یہ 10واں حملہ تھا۔ اس دوران وزیراعلیٰ لاہور میں ٹک ٹاک بناتے رہے جبکہ خیبرپختونخوا کے لوگ مر رہے تھے، وزیراعلیٰ صرف زخمیوں کو دیکھنے گئے، شہدا کے گھروں میں نہیں گئے، تاہم وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ ان کے گھروں میں گئے۔

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ اس کے بعد اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کا اعلان کیا گیا اور بیان دیا گیا کہ کسی کے باپ میں بھی جرأت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں خیبرپختونخوا پولیس کا کوئی ثانی نہیں، لیکن صوبائی حکومت نے نیا پولیس ایکٹ نافذ کردیا، جس پر سوال اٹھایا جانا چاہیے کہ یہ ایکٹ کیوں منظور کیا گیا۔

ان کے مطابق یہ ایکٹ پولیس کا مورال ڈاؤن کرنے اور پولیس میں سیاسی مداخلت کے لیے لایا گیا ہے، حالانکہ پولیس کو غیر سیاسی رہ کر فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ موجودہ حالات میں پولیس کو ڈی مورالائز کرنا کیوں ضروری ہے؟

مزید پڑھیں:5 سال قبل شوہر کو کھونے والی ثمر ہارون بلور کس طرح مہم چلا رہی ہیں؟

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے ان بزدلانہ احکامات کے سامنے سر نہیں ٹیکا اور آج بھی عوام کی حفاظت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ایکٹ کا معاملہ کسی صورت ممکن نہیں، اسے گورنر اور آئینی عدالت کے سامنے بھی اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے منشیات کے حوالے سے کہا کہ ہیروئن، چرس، افیون اور آئس کہاں سے آ رہی ہے، پشاور کے بازاروں سے یہ منشیات ہمارے بچوں کے ہاتھوں تک پہنچ رہی ہیں، یہ کس قسم کی حکومت ہے؟ انہوں نے کہا کہ منشیات کے انسداد کا ہدف بھی پورا نہیں ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp