مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی یلغار، فلسطینی دکانداروں کو کاروبار بند رکھنے کا حکم

پیر 28 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مقبوضہ مشرقی یروشلم میں درجنوں اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد الاقصیٰ میں داخل ہو کر تلمودی رسومات اور مذہبی دعائیں کیں، جبکہ اسرائیلی حکام نے یہودی مذہبی تہوار سکوت کے دوران یہودیوں کی دعاؤں کے لیے فلسطینی دکانداروں کو کاروبار بند رکھنے اور سیکڑوں فلسطینیوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا۔

یروشلم کے اسلامی اوقاف کے محکمے اور فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق پیر کو اسرائیلی آبادکاروں کی بڑی تعداد مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئی اور وہاں تلمودی رسومات، دعائیں اور گیت ادا کیے۔ سوشل میڈیا پر آبادکاروں کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں انہیں مسجد کے احاطے کے مشرقی حصے میں مذہبی رسومات ادا کرتے دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا اسرائیلی وزیر کی مسجد الاقصیٰ میں اشتعال انگیزی پر شدید ردعمل

اس سے ایک روز قبل اتوار کو ایک ہزار 500 سے زائد اسرائیلی آبادکار، جن میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر بھی شامل تھے، پولیس کی سخت سیکیورٹی میں مسجد الاقصیٰ میں داخل ہوئے اور سکوت کی تقریبات منائیں۔

فلسطینی صدارتی ترجمان نبیل ابو ردینہ نے مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنے اور خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل خطے میں مذہبی جنگ بھڑکانے کی کوشش کررہا ہے۔

مسجد الاقصیٰ مسلمانوں کے لیے دنیا کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، جبکہ یہودی اس علاقے کو ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ قدیم زمانے میں یہاں 2 یہودی معبد قائم تھے۔

یہودی مذہبی تہواروں کے آغاز کے بعد سے مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازیوں میں اضافہ ہوا ہے، جہاں اسرائیلی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کی موجودگی میں صحن میں تلمودی رسومات اور دعائیں کی جارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: الاقصیٰ کے امام شیخ عکرمہ صبری پر ’اشتعال انگیزی‘ کا مقدمہ؛ الزامات من گھڑت قرار

یہودی تہواروں کا سلسلہ 12 اور 13 ستمبر کو روش ہشنا سے شروع ہوا، جس کے بعد 21 اور 22 ستمبر کو یوم کپور منایا گیا۔ سکوت کا تہوار 26 ستمبر سے 2 اکتوبر تک جاری رہے گا جبکہ 3 اکتوبر کو سمحت توراہ منایا جائے گا۔

پیر کو مسجد الاقصیٰ میں داخلے کے ساتھ اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے قدیم شہر میں واقع کاٹن مرچنٹس مارکیٹ کے درجنوں فلسطینی دکانداروں کو اپنی دکانیں، کیفے اور ریسٹورنٹس بند رکھنے کا حکم دیا، جبکہ تقریباً 200 فلسطینی رہائشیوں کو بھی دعاؤں کے دوران گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی۔

اسرائیل میں شہری حقوق کی تنظیم کے مطابق یروشلم کے قدیم شہر میں کاٹن مرچنٹس مارکیٹ کے درجنوں فلسطینی دکان مالکان کو سکوت کے دوران کاروبار بند رکھنے کا حکم دیا گیا تاکہ مارکیٹ میں یہودی دعاؤں کے لیے جگہ فراہم کی جاسکے۔

تنظیم کے مطابق دعاؤں کے راستے میں رہنے والے تقریباً 200 فلسطینیوں کو بھی دعاؤں کے دوران اپنے گھروں سے باہر نہ نکلنے کا حکم دیا گیا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب انہیں پورے تہوار کے دوران کاروبار بند رکھنے کا حکم دیا گیا، اس سے قبل پابندیاں صرف مخصوص اوقات تک محدود رہتی تھیں۔

کاٹن مرچنٹس مارکیٹ مسجد الاقصیٰ کی جانب جانے والے راستے پر واقع ہے اور اس میں 56 دکانیں، کیفے اور ریسٹورنٹس موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: الاقصیٰ پر اسرائیلی وزرا اور آبادکاروں کا دھاوا قابل مذمت ہے، وزیراعظم پاکستان

تنظیم کے مطابق اسرائیلی پولیس نے گزشتہ ہفتے فون پر تاجروں کو دکانیں بند رکھنے کی اطلاع دی، جس کے بعد اہلکار کاروباری مراکز پر پہنچے اور مالکان کو براہ راست بتایا کہ انہیں تہوار کے بیشتر دنوں میں کاروبار بند رکھنا ہوگا۔

اسرائیلی پولیس نے دکانیں بند رکھنے کے حوالے سے کوئی تحریری حکم یا ہدایات جاری نہیں کیں اور تاجروں کو صرف یہ بتایا گیا کہ یہ اقدام مارکیٹ میں یہودی دعائیں کرانے کے لیے کیا جارہا ہے۔

اسرائیل میں شہری حقوق کی تنظیم نے کہا کہ صورتحال میں ایسا کوئی سیکیورٹی واقعہ پیش نہیں آیا تھا جو مسلسل کئی دنوں تک اس نوعیت کی سخت پابندیوں کا جواز بنتا ہو۔ تنظیم کے مطابق پولیس دعاؤں کا راستہ تبدیل، دعاؤں کے اوقات مختصر یا تاجروں اور ان کے کاروبار کے تحفظ کے لیے اضافی نفری تعینات کرسکتی تھی۔

تنظیم کی وکیل تال حسین نے کہا کہ درجنوں فلسطینی تاجروں کو پورے تہوار کے دوران کاروبار بند رکھنے اور سیکڑوں رہائشیوں کو اپنے گھروں میں رہنے پر مجبور کرنا ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق پولیس رہائشیوں کے تحفظ، ان کی روزمرہ زندگی جاری رکھنے اور املاک کی حفاظت کے بجائے انہیں اس صورتحال کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کررہی ہے۔

فلسطینی مقبوضہ مشرقی یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔ بین الاقوامی قراردادیں 1967 میں مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے اور 1980 میں اس کے الحاق کو تسلیم نہیں کرتیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp