امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے سائبر نظام میں مبینہ دراندازی کے بعد موجودہ اور سابق اہلکاروں میں خوف اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہیکرز کا ایف بی آئی کے تقریباً تمام ایجنٹس کا ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ
ہیکنگ گروپ کے ہاتھ اہلکاروں کی ذاتی معلومات لگنے کے دعوے نے نہ صرف ان کی اپنی بلکہ ان کے خاندانوں کی سلامتی سے متعلق بھی سنگین خدشات پیدا کردیے ہیں۔
بی ی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ہیکنگ گروپ شائنی ہنٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایف بی آئی کے ملازمین اور ملازمت کے امیدواروں سے متعلق بڑی مقدار میں حساس معلومات حاصل کرلی ہیں۔
امریکی ادارے نے ابتدا میں واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی تھی جبکہ بعد کی اطلاعات میں ایف بی آئی نے کہا کہ وہ معاملے کی جارحانہ انداز میں تحقیقات کررہی ہے اور خطرات کم کرنے کے لیے متعلقہ فریقوں کے ساتھ کام کررہی ہے۔
’یہ ہمارے خفیہ اہلکاروں کے لیے بہت خطرناک ہے‘
ایک سابق ایف بی آئی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے سے سب سے زیادہ تشویش ان اہلکاروں کے بارے میں ہے جو خفیہ کارروائیوں اور حساس تحقیقات میں کام کرتے ہیں۔
سابق سائبر تفتیش کار کے مطابق وہ موجودہ ایف بی آئی اہلکاروں کے ایک گروپ میں شامل ہیں جہاں ڈیٹا کے ممکنہ طور پر جرائم پیشہ افراد اور بیرونی ریاستی ہیکرز کے ہاتھ لگنے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ ان کی ذاتی معلومات سامنے آنے کے بعد انہیں نشانہ بنایا جاسکتا ہے جبکہ جرائم پیشہ افراد ان معلومات کو انتہائی حقیقت سے قریب جعلی پیغامات، دھوکا دہی، بلیک میلنگ یا دیگر سائبر حملوں کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
بعض اہلکاروں کو یہ خوف بھی ہے کہ جن جرائم پیشہ افراد کے خلاف انہوں نے تحقیقات کیں وہ ذاتی معلومات استعمال کرتے ہوئے انہیں یا ان کے خاندانوں کو جسمانی نقصان پہنچانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
گھر کے پتے اور خاندانوں کی معلومات پر تشویش
ایک سائبر سیکیورٹی کمپنی میں سیکیورٹی آپریشنز کے نائب صدر اور سابق ایف بی آئی اہلکار مائیکل میک فیرسن کے مطابق یہ معاملہ خاص طور پر اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
ان کے مطابق ایف بی آئی اہلکار اپنے پیشے کے خطرات سے واقف ہوتے ہیں لیکن اگر گھر کے پتے، فون نمبرز اور رابطے کی معلومات بھی مجرموں کے ہاتھ لگ جائیں تو خطرہ ان اہلکاروں کے ان خاندانوں تک پہنچ سکتا ہے جو عام طور پر ان کے پیشے سے وابستہ خطرات سے محفوظ رہتے ہیں۔
مزید پڑھیے: کیا گلیمر گرل پروین بوبی امریکی ایف بی آئی کے ہاتھوں ہلاک ہوئیں؟
رپورٹس کے مطابق ہیکرز نے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مبینہ طور پر چوری شدہ ڈیٹا کے نمونے صحافیوں کے ساتھ بھی شیئر کیے ہیں۔ ان نمونوں میں نام، پتے، فون نمبرز، عہدے، بیج نمبرز اور بعض اہلکاروں کے شریکِ حیات سے متعلق معلومات شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بعض نمونے صحافیوں اور سیکیورٹی ماہرین کو حقیقی معلوم ہوئے تاہم مکمل چوری شدہ ڈیٹا کی آزادانہ تصدیق ابھی نہیں ہوسکی۔
طبی معلومات سامنے آنے کا خدشہ
اس معاملے کا ایک انتہائی حساس پہلو ایف بی آئی اہلکاروں کی طبی معلومات سے متعلق ہے۔
بی بی سی کے مطابق اسے مبینہ طور پر چوری کیے گئے ایسے طبی معائنے کے نمونے بھی دیکھنے کو ملے جنہیں ملازمت کے لیے فٹنس جانچنے کے مقصد سے تیار کیا گیا تھا۔ ان میں طبی ٹیسٹوں کے نتائج اور ڈاکٹروں کے نوٹس جیسی حساس معلومات شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایسی معلومات واقعی بڑے پیمانے پر چوری ہوئی ہیں تو اس کے اثرات صرف نجی زندگی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اہلکاروں کی سلامتی، بلیک میلنگ کے خطرے اور ادارے کی مجموعی سیکیورٹی پر بھی پڑسکتے ہیں۔
ایف بی آئی کی سابق سائبر ڈپٹی ڈائریکٹر سنتھیا کائزر کے مطابق خدشہ ہے کہ چوری شدہ معلومات کا کچھ حصہ پہلے ہی مختلف آن لائن گروپس میں گردش کررہا ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ نقصان مکمل ڈیٹا کے باضابطہ طور پر جاری ہونے سے پہلے بھی شروع ہوسکتا ہے۔
ان کے مطابق ماضی میں ایف بی آئی سے متعلق ڈیٹا لیک ہونے کے واقعات میں سامنے آنے والی معلومات برسوں تک خفیہ آن لائن نیٹ ورکس میں گردش کرتی رہی ہیں۔
قومی سلامتی کے خدشات بھی سامنے آگئے
ماہرین کو اس واقعے کے قومی سلامتی پر ممکنہ اثرات کی بھی تشویش ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر حساس اہلکاروں کی شناخت، تعیناتی اور ذاتی معلومات دشمن ریاستوں یا ان سے وابستہ خفیہ اداروں تک پہنچ گئیں تو انہیں مستقبل میں بھرتی، دباؤ یا بلیک میلنگ کی کوششوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایف بی آئی کا شمالی کورین ہیکرز پر ڈیڑھ ارب ڈالر کے ورچوئل اثاثے چرانے کا الزام
رائٹرز کی ایک الگ رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر سامنے آنے والے ڈیٹا میں بعض ایف بی آئی اہلکاروں کی حساس ذمہ داریوں اور مختلف تحقیقات سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں جن میں چینی اور روسی جاسوسی نیٹ ورکس اور منشیات کے جرائم کے خلاف کام کرنے والے اہلکاروں کی تفصیلات شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اہلکار ایف بی آئی سے بھی ناراض
خوف کے ساتھ ساتھ اس واقعے نے ایف بی آئی کے اندر غصہ بھی پیدا کیا ہے۔
موجودہ اور سابق اہلکاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ دنیا کے انتہائی وسائل رکھنے والے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ملازمین کا حساس ڈیٹا سائبر حملے کی زد میں کیسے آسکتا ہے۔
ایک سابق سائبر اہلکار نے مبینہ سیکیورٹی خامیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ادارے کے لیے انتہائی شرمندگی کا باعث قرار دیا۔
ایک اور سابق اہلکار کے مطابق اہلکاروں کو یہ بات خاص طور پر پریشان کررہی ہے کہ ایسی معلومات جو عام طور پر انٹرنیٹ سے مکمل طور پر محفوظ ہونی چاہییں مبینہ طور پر سائبر مجرموں تک کیسے پہنچ گئیں۔
ہیکرز نے رقم کے بجائے کیا مطالبہ کیا؟
اس واقعے میں ایک غیر معمولی بات یہ بھی ہے کہ شائنی ہنٹرز نے روایتی طور پر سائبر حملوں میں کیے جانے والے تاوان کے مطالبے کے بجائے ایف بی آئی سے ایک پرانی عوامی تنبیہ واپس لینے یا تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایف بی آئی نے مئی 2026 میں شائنی ہنٹرز کو بڑے پیمانے پر ڈیٹا چوری اور بھتہ خوری سے منسلک سائبر مجرمانہ گروپ قرار دیتے ہوئے عوام کو اس کے طریقہ کار سے خبردار کیا تھا۔ ہیکنگ گروپ کا دعویٰ ہے کہ اسے اس بیان پر اعتراض تھا اور اسی وجہ سے اس نے ایف بی آئی کو نشانہ بنایا۔
گروپ نے مبینہ طور پر دھمکی دی ہے کہ اگر ایف بی آئی نے اس کی شرائط نہ مانیں تو وہ چوری شدہ معلومات بڑے پیمانے پر جاری کرسکتا ہے۔
’نقصان شاید پہلے ہی ہوچکا ہے‘
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق کسی حساس ادارے کے ملازمین کا ذاتی ڈیٹا ایک مرتبہ غیر قانونی گروہوں تک پہنچ جائے تو اسے مکمل طور پر واپس لینا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔
معلومات مختلف سائبر مجرمانہ گروپس میں منتقل ہوسکتی ہیں اور مستقبل میں جعلی پیغامات، دھوکا دہی، بلیک میلنگ یا اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایف بی آئی کے موجودہ اور سابق اہلکار اس خدشے میں مبتلا ہیں کہ معاملہ صرف ایک سائبر حملے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات طویل عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایف بی آئی نے کہا ہے کہ وہ واقعے کی سنجیدگی سے تحقیقات کررہی ہے اور خطرات کم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں اور خدمات فراہم کرنے والوں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے جاسوسوں کی آن لائن بھرتی شروع کردی
یوں دنیا کے بڑے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شمار ہونے والے ایف بی آئی کے لیے یہ واقعہ صرف ڈیٹا چوری کا معاملہ نہیں بلکہ اپنے ہی اہلکاروں، ان کے خاندانوں اور حساس تحقیقات سے متعلق معلومات کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت کا بھی بڑا امتحان بن گیا ہے۔














