گزشتہ 4 سے 5 ہفتوں کے دوران پی ٹی آئی اور حکام کے درمیان نصف درجن سے زائد پس پردہ ملاقاتیں ہوئیں لیکن ان رابطوں کے باوجود اسلام آباد کی جانب پارٹی کے مجوزہ مارچ کے معاملے پر پیدا ہونے والا تعطل ختم نہ ہوسکا اور ان ملاقاتوں میں بنیادی سوال یہی رہا کہ پی ٹی آئی اپنی مجوزہ احتجاجی مہم صرف ملتوی کرے گی یا اسے مکمل طور پر منسوخ کرنے پر آمادہ ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی لانگ مارچ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا عندیہ دے دیا
سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی کے مطابق حکومت اور سیکیورٹی حکام کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا کہ پی ٹی آئی کے لیے سیاسی گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے لیکن احتجاج، تشدد، سڑکوں کی بندش اور مارچ پر مبنی سیاست قابل قبول نہیں ہوگی ان رابطوں کا بنیادی مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا پی ٹی آئی کے لیے سیاسی گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے اور آیا مارچ کے گرد جاری محاذ آرائی سے باہمی طور پر قابل عمل انتظام کے ذریعے بچا جاسکتا ہے۔
انصار عباسی کے مطابق مارچ منسوخ کرانے کے لیے محمود خان اچکزئی سے بھی رابطہ کیا گیا۔ اس دوران اچکزئی نے مبینہ طور پر تجویز دی کہ اگر انہیں جیل میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی سہولت فراہم کی جائے تو مارچ منسوخ کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔
تاہم اس تجویز کو قبول نہیں کیا گیا اور دوسری جانب سے پہلے مارچ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس کے بعد عمران خان سے ملاقات، وکلا تک رسائی اور طبی علاج کے معاملات میں قابل اطلاق ضابطہ کار کے تحت سہولت فراہم کرنے پر بات ہوسکتی تھی۔
ان رابطوں میں عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، مذاکرات میں زیر بحث ممکنہ سہولتوں کا تعلق ملاقاتوں، قانونی رسائی اور طبی علاج جیسے معاملات سے تھا۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی جاچکی ہے لیکن پی ٹی آئی کے اندر مختلف آوازوں اور قیادت کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے بات چیت آگے بڑھانے میں مشکلات ہیں۔
مزید پڑھیے: پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار تو حکومت بھی تیار، وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بھی اپوزیشن لیڈر کو متعدد مرتبہ مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں اور وزرا کی جانب سے بھی رابطے کیے گئے ہیں۔ تاہم ان کے بقول، مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اپنے نمائندوں کو بات چیت کے لیے واضح اختیار دے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت سیاسی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اسلام آباد پر چڑھائی یا نظام کو مفلوج کرنے کی دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی سیاسی معاملات کے حل کے لیے پارلیمنٹ کو موزوں فورم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کے لیے پہلے شرائط منوانے کے بجائے میز پر بیٹھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت میں ایک دوسرے کو قائل کرنے اور مطالبات پر لین دین کی گنجائش ہوتی ہے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے تصدیق کی ہے کہ حکومت کے ساتھ رابطے برقرار ہیں اور بات چیت ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے حقوق اور انصاف کے لیے آواز اٹھا رہی ہے اور بارہا مطالبات سامنے رکھنے کے باوجود اسے نہیں سنا گیا۔
بیرسٹر گوہر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کی جانب سے مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا گیا تاہم ان کے مؤقف میں احتجاج اور اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھانے کے حق پر زور دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت کے لیے اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا وہ مارچ کی منسوخی کے حکومتی مطالبے پر کوئی لچک دکھاتی ہے یا احتجاج کی دھمکی کو برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے کسی سیاسی پیشرفت کے لیے کوشش کرتی ہے۔
پی ٹی آئی کے سابق رہنما شیر افضل مروت نے مذاکرات کی موجودہ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات ہونے تھے تو پہلے ہی ہوجانے چاہئیں تھے، تاکہ موجودہ کشیدگی پیدا نہ ہوتی۔
ان کے خیال میں حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی سے یہ مطالبہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ مارچ منسوخ کرے بلکہ آئندہ بھی اسلام آباد کی جانب مارچ نہ کرنے کا اعلان کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا مطالبہ پی ٹی آئی کے لیے قبول کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
شیر افضل مروت کے بیان سے مذاکرات میں موجود اختلاف کی نوعیت واضح ہوتی ہے جہاں ایک طرف حکومت احتجاجی مارچ کو مکمل طور پر روکنے کی خواہاں ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی کے لیے مستقبل میں احتجاج کے امکان سے دستبردار ہونا ایک اہم سیاسی فیصلہ ہوگا۔
سینیئر تجزیہ کار شہزاد اقبال کے مطابق دونوں جانب سے ملنے والے اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی حلقوں اور پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی خواہش سامنے آئی ہے۔
شہزاد اقبال کے مطابق پی ٹی آئی کی حکمت عملی میں مارچ کے اعلان کو دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر برقرار رکھنے کی خواہش بھی شامل ہوسکتی ہے تاکہ مذاکرات میں پارٹی کے مطالبات پر پیش رفت ہوسکے۔
ان کے بقول پارٹی کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ احتجاج کی دھمکی برقرار رہے لیکن وہ ایسے مرحلے تک نہ پہنچے جہاں مارچ کے نتیجے میں سیاسی عمل مزید پیچیدہ ہوجائے۔
انہوں نے حکومتی وزیر طلال چوہدری کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں مثبت اشارے سامنے آنے کی بات بھی کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کو یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ مارچ کی صورت میں اس کے بعد ہونے والے سیاسی عمل کی ٹائم لائن لازماً پارٹی کی خواہش کے مطابق نہیں ہوگی۔ تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ معاہدہ سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی کی قیادت کو لانگ مارچ کیوں ’موخر‘ کرنا پڑا؟
پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا عمل ختم نہیں ہوا لیکن مارچ کی منسوخی پر اختلاف نے بات چیت کو تعطل کا شکار بنایا ہوا ہے۔ ایک جانب حکومت احتجاجی مہم سے دستبرداری کو مذاکرات کی بنیادی شرط قرار دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی اپنے حقوق کے حصول اور احتجاج کے مطالبے کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں فریق اس اختلاف کو دور کرنے کے لیے کوئی ایسا درمیانی راستہ نکال پاتے ہیں یا نہیں جس سے مذاکرات باقاعدہ طور پر آگے بڑھ سکیں۔













