پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی اور پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن حنا پرویز بٹ نے ڈراما ‘دارالنجات’ سے سبق لیتے ہوئے شادی شدہ جوڑوں کو ایک دوسرے سے کھل کر بات کرنے اور ماضی کی غلطیوں کو بار بار موضوع بحث بنانے سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔
حنا پرویز بٹ نے ہفتے کو انسٹاگرام پر جاری ایک ویڈیو میں ڈرامے کے ایک اہم منظر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میاں بیوی کے درمیان کسی بھی غلط فہمی کو غصے کے بجائے کھل کر بات چیت کے ذریعے دور کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: مذہبی روایات اور محبت سے بھرپور ڈراما سیریل ’دارالنجات‘ کا ٹیزر جاری، شہریار ، درِفشاں کا مرکزی کردار
انہوں نے کہا کہ شادی کے بعد ماضی کے کسی تعلق یا ذاتی معاملے سے متعلق کوئی راز سامنے آنے سے میاں بیوی کے رشتے پر اثر پڑ سکتا ہے، تاہم ایسی صورتحال میں غصہ کرنے کے بجائے معاملے کو سمجھنے اور مل کر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حنا پرویز بٹ کے مطابق شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے سے باتیں چھپانے یا جھوٹ بولنے کے بجائے ہر معاملے پر کھل کر گفتگو کرنی چاہیے۔ اگر کوئی غلط فہمی پیدا ہو جائے تو اسے ایمانداری سے بات چیت کرکے دور کرنا چاہیے۔
انہوں نے ازدواجی زندگی میں اعتماد اور ایک دوسرے کے احترام کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ماضی کے تعلقات یا غلطیوں پر طعنے دینے سے گریز کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: حنا پرویز بٹ کی ٹک ٹاک لائیو اور فیملی وی لاگرز پر تنقید، بچوں کو ’خراب کرنے‘ کا الزام
حنا پرویز بٹ نے کہا کہ ماضی کو ماضی ہی رہنے دینا چاہیے اور موجودہ زندگی کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کے یہ خیالات اے آر وائی ڈیجیٹل کے ڈرامے ‘دارِ نجات’ کے اس منظر کے بعد سامنے آئے جس میں ڈرامے کے منفی کردار زمیل، جو نامیر خان نے ادا کیا ہے، اپنی دیرینہ محبوبہ زریاب، جس کا کردار درفشاں سلیم نے نبھایا ہے، سے شادی کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ زمیل کا مؤقف ہوتا ہے کہ زریاب اس کے لیے ایک اچھی مسلمان بیوی نہیں بن سکتی۔
ڈرامے کی اب تک 17 اقساط نشر ہوچکی ہیں، جن میں رشتوں، محبت میں ناکامی، ماضی کی غلطیوں اور دوہرے معیار جیسے موضوعات پر بحث چھڑی ہے۔ حنا پرویز بٹ نے بھی اسی کہانی کو بنیاد بنا کر ازدواجی رشتوں میں سچائی اور باہمی گفتگو کی اہمیت اجاگر کی۔
یہ بھی پڑھیں: وہ کیسز جنہوں نے چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ کی نیندیں اڑادیں
پاکستانی معاشرے میں شادی سے پہلے تعلقات کو اب بھی بڑی حد تک ناپسند کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض حلقوں میں منگنی کے بعد لڑکے اور لڑکی کے ایک دوسرے سے ملنے کو بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں شادی شدہ جوڑوں کے لیے ماضی کے ذاتی معاملات پر کھل کر بات کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
ڈرامے میں بھی ماضی کے تعلقات اور ان کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کو موضوع بنایا گیا ہے، جبکہ حنا پرویز بٹ نے اس موقع پر میاں بیوی کے درمیان اعتماد، احترام اور واضح گفتگو کی ضرورت پر زور دیا۔














