بلوچستان میں گرین بس سروس، لوڈر رکشوں کے لیے آسان قرضے، وزیر ٹرانسپورٹ نے تفصیل بتادی

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 بلوچستان حکومت نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں گرین بس سروس کے بعد صوبے کے دیگر اضلاع تک جدید پبلک ٹرانسپورٹ کا دائرہ بڑھانے کا اعلان کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھانے کے 3 ارب روپے کے منصوبے کا اعلان

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خضدار، گوادر، پشین اور ڈیرہ بگٹی سمیت دیگر اضلاع میں بھی گرین بس سروس شروع کرنے پر کام جاری ہے اور الیکٹرک بسیں بھی چند ماہ میں سڑکوں پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

میر لیاقت لہڑی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں گرین بس سروس کو توسیع دی گئی ہے جبکہ الیکٹرک بسوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ بھی بات چیت ہوئی ہے اور آئندہ چند ماہ میں الیکٹرک بسیں کوئٹہ کی سڑکوں پر نظر آنا شروع ہوجائیں گی۔

صوبائی وزیر کے مطابق کوئٹہ کے لیے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آئی ٹی) کا بھی ایک بڑا منصوبہ زیر غور ہے جس کی مالیت تقریباً 10 ارب روپے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ معاہدہ ہوچکا ہے جبکہ فزیبلٹی پر کام شروع کردیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بی آئی ٹی منصوبہ مکمل ہونے میں تقریباً 5 سال لگ سکتے ہیں اور اس کے ذریعے کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں کو جدید پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے میں بسوں کے لیے علیحدہ روٹس کا تصور شامل ہے جس سے شہریوں کے سفر کا وقت اور اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

میر لیاقت لہڑی نے بتایا کہ حکومت نے محنت کش اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے 10 ہزار لوڈر رکشوں کی فراہمی کا منصوبہ بھی بنایا ہے جس کے لیے ٹینڈر منظور ہوچکا ہے۔

مزید پڑھیے: حب میں جدید آئل سٹی، بلوچستان کو پاکستان کا توانائی و تجارتی گیٹ وے بنانے کی تیاری

ان کے مطابق مستحق افراد کو لوڈر رکشے آسان شرائط پر فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ روزگار کما سکیں اور اقساط بھی ادا کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ درخواست کے لیے شناختی کارڈ اور محدود ضمانتی شرائط رکھنے کی تجویز ہے تاکہ غریب طبقے پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے خواتین اور طلبہ کے لیے پنک اسکوٹیز اور دیگر ٹرانسپورٹ سہولیات کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج: 12 منصوبے مکمل، 7 پر کام جاری، 5 نئے منصوبے تجویز

میر لیاقت لہڑی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اور کاروباری سرگرمیوں کے مسائل حکومت کے لیے اہم چیلنج ہیں تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ حالات میں بہتری لائی جائے تاکہ عام شہری، کاروباری طبقہ اور محنت کش بہتر ماحول میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp