بھارتی ریاست پنجاب کے شہر جالندھر میں واقع ‘لوولی پروفیشنل یونیورسٹی’ (LPU) گزشتہ کئی روز سے شدید کشیدگی اور احتجاج کی لپیٹ میں ہے، جہاں بھارتی فضائیہ کے افسران پر گرلز ہاسٹل میں داخل ہو کر ایک طالبہ کو اغوا کرنے اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں مشتعل طلبہ اور مقامی افراد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بھارتی فوج اور ایئرفورس کی گاڑیوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق واقعے کے فوراً بعد یونیورسٹی کے طلبہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کے اشتعال میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب یہ خبر پھیلی کہ ملوث افراد کا تعلق بھارتی فضائیہ سے ہے۔ مشتعل مظاہرین نے فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا اور شدید توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی۔
#WATCH | Jalandhar, Punjab: Students hold protest at Lovely Professional University (LPU)
Dr. Jaspal Singh Sandhu, Vice Chancellor of LPU, says, “The police registered an FIR based on the students’ allegations. All necessary support will be provided. Five students have been… https://t.co/IEWXNrr3Rz pic.twitter.com/EJlAYzYRvs
— ANI (@ANI) September 27, 2026
یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس کا موقف
معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جسپال سنگھ سندھو نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ پولیس نے طلبہ کے الزامات کی بنیاد پر باقاعدہ ایف آئی آر (FIR) درج کر لی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات کو شفاف بنانے کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی ہے جس میں یونیورسٹی کے 5 طلبہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اگر تحقیقات میں واقعے کی صداقت ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘
یہ بھی پڑھیے بھارتی یونیورسٹی میں ہنگامہ، مظاہرین کا فوجی ٹینک اور جنگی طیارہ پر قبضہ
وائس چانسلر نے مزید اعتراف کیا کہ وہ ابتداء میں اس واقعے سے بالکل بے خبر تھے، تاہم اب انتظامیہ طلبہ کے دیگر مطالبات اور تحفظ کے حوالے سے ان کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے اور پولیس کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ لوولی پروفیشنل یونیورسٹی بھارت کی بڑی نجی یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے جہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی اور دیگر ریاستوں کے طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ گرلز ہاسٹل میں باہر سے افراد بالخصوص فوجی اہلکاروں کے باآسانی داخلے نے ہاسٹل سیکیورٹی پر شدید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر کیمپس میں جاری احتجاج اور گاڑیوں کو آگ لگانے کی ویڈیوز وائرل ہونا شروع ہو گئیں، جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے اور علاقے میں تناؤ برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی پنجاب کی یونیورسٹی میں طالبہ سے زیادتی اور خودکشی کا مبینہ واقعہ، پرتشدد احتجاج شروع
احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات کا کہنا ہے کہ جب تک ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کر کے سخت سزا نہیں دی جاتی اور گرلز ہاسٹلز کی سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات نہیں کیے جاتے، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایس آئی ٹی (SIT) کی رپورٹ آنے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے اور قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔












