بھارتی پنجاب کی یونیورسٹی میں طالبہ سے  زیادتی اور خودکشی کا مبینہ واقعہ،  پرتشدد احتجاج شروع

اتوار 27 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی ریاست پنجاب کی نامور نجی درسگاہ ’لیولی پروفیشنل یونیورسٹی‘ (LPU) میں اس وقت شدید کشیدگی اور احتجاجی لہر پھیل گئی جب طلبہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ کیمپس کے اندر ایک زیرِ تعمیر عمارت میں کام کرنے والے مزدور نے طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ دوسری جانب پولیس حکام نے ان تمام دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض ایک افواہ قرار دیا ہے۔

احتجاج کرنے والے طلبہ کا دعویٰ ہے کہ کیمپس میں ایک تعمیراتی مزدور نے طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے متاثرہ طالبہ کو گھر بھیج دیا، جہاں اس نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔

یہ بھی پڑھیے بھارتی ریاست اتر پردیش میں درندگی: علاج معالجے کے نام پر 13 سالہ بچی سے زیادتی، عامل گرفتار

واقعے کی خبر پھیلتے ہی بڑی تعداد میں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے جالندھر پھگواڑہ قومی شاہراہ کو بلاک کر کے یونیورسٹی انتظامیہ اور سیکیورٹی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس دوران کیمپس کے باہر اور اندر ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات بھی دیکھنے میں آئے، جس سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا۔

پولیس اور انتظامیہ کا ردِعمل

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس حکام نے طلبہ اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ خبروں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق کیمپس کے اندر جنسی زیادتی کا ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور نہ ہی کسی طالبہ کی خودکشی کی تصدیق ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے بھارت میں امریکی خاتون سیاح کے ساتھ جنسی زیادتی اور غیرقانونی قید میں رکھنے کا لرزہ خیر واقعہ، 2ملزمان گرفتار

پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp