شہزادہ ولیم اور کنگ چارلس گزشتہ ہفتے کے دوران شدید دباؤ کا شکار رہے، جبکہ دونوں کے درمیان مختلف معاملات پر غصے اور بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
برطانوی شاہی خاندان کے معاملات پر نظر رکھنے والی ماہر کنزی شوفیلڈ نے امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دونوں شاہی خاندانوں کے ردعمل کے حوالے سے جو اطلاعات مل رہی ہیں، ان کے مطابق غصہ اور مایوسی پائی جاتی ہے، تاہم دونوں کی وجوہات مختلف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شہزادی ڈیانا کی موت کے بعد شہزادہ ہیری انتہائی مشکل دور سے گزرے، شاہی خاندان کے رکن کا دعویٰ
کنزی شوفیلڈ کے مطابق کنگ چارلس کو تقریباً 30 سال بعد بھی شہزادی ڈیانا سے متعلق کہانی میں ایک مرتبہ پھر ان کے کردار پر حملے کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چارلس کئی دہائیوں سے ڈیانا کی کہانی میں ولن کے طور پر پیش کیے جانے کے تجربے سے گزر رہے ہیں، اس لیے کسی اور کے بیان کردہ واقعے میں برا شخص قرار دیا جانا ان کے لیے نیا نہیں۔
انہوں نے شہزادہ ولیم کے حوالے سے کہا کہ ان کے لیے معاملہ زیادہ تکلیف دہ ہے کیوں کہ چارلس اسپینسر ان کے اپنے ماموں ہیں، جنہوں نے ڈیانا کی آخری رسومات میں کھڑے ہوکر شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کو ان کے ‘خون کے رشتے داروں’ کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شہزادہ ولیم اور ہیری کے درمیان ایک بار پھر ٹھن گئی، وجہ کیا بنی؟
کنزی شوفیلڈ کے مطابق ولیم کے لیے یہ احساسِ اعتماد شکنی کا معاملہ بھی ہے، کیونکہ انہیں اب اپنے اسی ماموں کی جانب سے بچپن کے انتہائی تکلیف دہ واقعات دوبارہ سامنے لانے اور اپنے والد کے خلاف سنگین الزامات سننے پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ولیم صرف کنگ چارلس کے بیٹے نہیں بلکہ مستقبل کے بادشاہ بھی ہیں، اس لیے جس بادشاہت پر چارلس اسپینسر تنقید کررہے ہیں، ولیم مستقبل میں اسی ادارے کی سربراہی سنبھالیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیانا کی موت پر کنگ چارلس ’لاٹری جیتنے والے شخص‘ کی طرح خوش تھے، بھائی کا انکشاف
کنزی شوفیلڈ کے مطابق ولیم یہ سوال بھی اٹھا سکتے ہیں کہ 30 سال پرانی متنازع نجی گفتگو کو دوبارہ سامنے لانے، شاہ چارلس پر تنقید کرنے اور شاہ چارلس و شہزادی ڈیانا کے تعلقات سے جڑے تلخ ترین واقعات کو دوبارہ زندہ کرنے سے ان کے بھانجے کے مفاد میں کیا حاصل ہوگا۔














