جسم میں چربی کتنی ضروری، اسے مکمل ختم کرنے کی کوشش کیوں نقصان دہ ہوسکتی ہے؟

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جسم میں موجود چربی کو اکثر صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے اور وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد اسے کم سے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق جسم میں چربی کی ایک مناسب مقدار کا ہونا صحت کے لیے ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وقفے وقفے سے فاسٹنگ: کیا اس کے فوائد واقعی بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں؟

چربی صرف جسم پر اضافی وزن کی صورت میں موجود نہیں ہوتی بلکہ یہ توانائی ذخیرہ کرنے، ہارمونز بنانے، جسمانی درجہ حرارت برقرار رکھنے اور کئی اہم حیاتیاتی افعال میں کردار ادا کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق جس طرح جسم میں بہت زیادہ چربی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے، اسی طرح بہت کم چربی بھی جسم کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ اس لیے صحت مند رہنے کا مقصد جسم کی چربی کو ممکنہ حد تک کم کرنا نہیں بلکہ اسے ایک مناسب سطح پر برقرار رکھنا ہونا چاہیے۔

جسم کی چربی دراصل کرتی کیا ہے؟

غذائی چربی اور جسم میں موجود چربی ایک ہی چیز نہیں۔ غذائی چربی وہ ہے جو ہم خوراک کے ذریعے حاصل کرتے ہیں جبکہ جسمانی چربی اضافی توانائی کو ذخیرہ کرنے کا ایک قدرتی نظام ہے۔

جب ہم ضرورت سے زیادہ کیلوریز لیتے ہیں تو جسم ان اضافی غذائی اجزا کو چربی کے خلیوں میں ذخیرہ کرلیتا ہے۔ تاہم یہ خلیے محض توانائی کا ذخیرہ نہیں بلکہ جسم کے فعال نظام کا حصہ ہیں۔

مزید پڑھیے: کیا نیند میں کمی وزن بڑھنے کا سبب بن سکتی ہے؟

ماہرین کے مطابق جسمانی چربی ایک فعال عضو کی طرح کام کرتی ہے جو جسم کے مختلف افعال کو منظم کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ ضرورت کے وقت یہ ذخیرہ شدہ توانائی فراہم کرتی ہے جبکہ خوراک کی کمی کے دوران یہی توانائی جسم کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

چربی ہارمونز بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے

جسم میں موجود چربی کے خلیے ایسے ہارمونز بناتے ہیں جو دماغ کو جسم میں موجود توانائی کے ذخیرے کے بارے میں معلومات دیتے ہیں۔

ان میں ایک اہم ہارمون لیپٹن ہے جو دماغ کو بتاتا ہے کہ جسم میں توانائی کا ذخیرہ مناسب مقدار میں موجود ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم دوسرے اہم حیاتیاتی کاموں، مثلاً مدافعتی نظام اور تولیدی صحت، پر توجہ دے سکتا ہے۔

اگر جسم میں توانائی کے ذخائر بہت کم ہوجائیں تو دماغ کو یہ سگنل ملتا ہے کہ توانائی محدود ہے جس کے نتیجے میں جسم بعض غیر فوری افعال کو کم ترجیح دینے لگتا ہے۔

جسم کو گرم رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے چربی

جسمانی چربی کا ایک اہم کام جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے میں مدد دینا بھی ہے۔

سفید چربی اضافی توانائی ذخیرہ کرنے کے ساتھ جسم کے لیے ایک حفاظتی تہہ کا کام کرتی ہے جبکہ بھوری اور خاکستری چربی میں ایسے مخصوص خلیے موجود ہوتے ہیں جو توانائی کو حرارت میں تبدیل کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: وزن کم کرنے والی ادویات کے اثرات، امریکی مردوں کی کاسمیٹک سرجریز اور علاج میں ریکارڈ اضافہ

اس طرح جسمانی چربی سردی سے نمٹنے اور جسم کا درجہ حرارت مناسب رکھنے میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے۔

بہت کم چربی ہونے سے کیا ہوتا ہے؟

جسم میں بہت زیادہ چربی کے نقصانات تو عام طور پر زیرِ بحث آتے ہیں۔ موٹاپا دل کی بیماری، ذیابیطس کی قسم دوم، بعض اقسام کے سرطان اور جوڑوں کے مسائل کے خطرے سے منسلک ہے۔

لیکن اگر کیلوریز کی شدید کمی یا مسلسل کم خوراک کے نتیجے میں جسم میں چربی کی مقدار بہت کم ہوجائے تو اس کے بھی سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جسم میں چربی بہت کم ہونے کی صورت میں جسم توانائی بچانے کی کوشش کرتا ہے اور بعض نظاموں کی سرگرمیاں کم ہونے لگتی ہیں۔ مدافعتی نظام متاثر ہوسکتا ہے، جبکہ توانائی کے ذخائر ختم ہونے پر جسم توانائی حاصل کرنے کے لیے پٹھوں کو بھی استعمال کرنا شروع کرسکتا ہے۔

اس کے نتیجے میں پٹھوں کی کمزوری، ہڈیوں کی تعمیر اور مرمت میں کمی، جسمانی کمزوری اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ہارمونز اور تولیدی صحت بھی متاثر ہوسکتی ہے

بہت کم جسمانی چربی ہارمونز اور تولیدی صحت کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

مثلاً ایسے مرد جو طویل عرصے تک اپنی جسمانی ضرورت سے کم خوراک لیتے رہیں اور انتہائی دبلا پن اختیار کرلیں، ان میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح، توانائی اور جسمانی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: دل کی صحت کے لیے وزن سے زیادہ کمر کا سائز اہم ہوسکتا ہے، تحقیق

اسی طرح بہت کم جسمانی چربی رکھنے والی بعض خواتین کھلاڑیوں میں ماہواری بے قاعدہ ہوسکتی ہے یا بعض صورتوں میں مکمل طور پر رک بھی سکتی ہے۔

کیا کچھ اضافی چربی بعض حالات میں فائدہ دے سکتی ہے؟

تحقیق میں ایک دلچسپ مشاہدہ بھی سامنے آیا ہے کہ درمیانی اور بڑی عمر میں نسبتاً زیادہ وزن رکھنے والے بعض افراد میں شدید بیماری کے دوران زندہ رہنے کے امکانات بہتر ہوسکتے ہیں۔

دل کی بیماری، فالج یا کسی دوسری شدید طبی کیفیت کے دوران جسم میں موجود توانائی کے اضافی ذخائر بعض حالات میں جسم کو بحران سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں طبی تحقیق میں موٹاپے کا تضاد نامی ایک مظہر زیرِ بحث آتا ہے، جس میں بعض مطالعات کے مطابق موٹاپے کے شکار افراد میں بعض بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہونے کے باوجود مخصوص شدید طبی حالات میں کم وزن افراد کے مقابلے میں اموات کا تناسب مختلف دیکھا گیا ہے۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ موٹاپا صحت کے لیے فائدہ مند ہے یا جان بوجھ کر اضافی وزن بڑھانا چاہیے۔ موٹاپا متعدد سنگین بیماریوں کے خطرے سے منسلک ہے۔

انتہائی کم جسمانی چربی بعض سنگین حالات میں جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر خوراک سے متعلق بعض ذہنی بیماریوں میں طویل عرصے تک شدید کم خوراک جسم کے اہم اعضا کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

جسم میں کتنی چربی ہونی چاہیے؟

اس سوال کا ایک ایسا جواب موجود نہیں جو ہر شخص پر یکساں لاگو ہو۔ جسمانی چربی کی مناسب مقدار عمر، جنس، جسمانی ساخت اور دیگر عوامل کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہے۔

ایک عمومی رہنما اصول کے طور پر صحت مند بالغ مردوں میں جسمانی چربی تقریباً 10 سے 20 فیصد جبکہ خواتین میں تقریباً 20 سے 29 فیصد تک ہوسکتی ہے۔ موٹاپے کے شکار افراد میں یہ مقدار عموماً 30 فیصد سے زیادہ ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: جدید ٹیکنالوجی ہماری کلائیاں کمزور کر رہی ہے، بڑے نقصان سے بچنے کے آسان طریقے

تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ جسمانی چربی کی کوئی ایک عالمی طور پر مقررہ مثالی شرح نہیں کیونکہ افراد اور مختلف آبادیوں میں جسمانی ساخت مختلف ہوسکتی ہے۔

کھلاڑیوں میں جسمانی چربی کی مقدار عموماً کم ہوتی ہے۔ ایک تحقیق میں 700 سے زائد کھلاڑیوں کے جسمانی اجزا کا جائزہ لیا گیا تو سب سے کم جسمانی چربی ایک مرد کھلاڑی میں 10 فیصد اور ایک خاتون کھلاڑی میں 16 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ بعض کھلاڑیوں کو اس نتیجے پر حیرت ہوئی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے جسم میں چربی کی مقدار صرف ایک سے 2 فیصد کے قریب ہے۔

صرف وزن نہیں، چربی کہاں جمع ہے یہ بھی اہم ہے

جسم میں چربی کی مقدار کے ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ چربی کہاں جمع ہے۔

پیٹ کے اندرونی حصے میں موجود احشائی چربی جسے عام طور پر پیٹ کی اندرونی چربی کہا جاتا ہے زیادہ مقدار میں موجود ہو تو خاص طور پر نقصان دہ ہوسکتی ہے۔

یہ چربی اندرونی اہم اعضا کے گرد جمع ہوتی ہے اور ایسے کیمیائی مادے خارج کرسکتی ہے جو جسم میں سوزش، بلڈ پریشر میں اضافے اور انسولین کے کام میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں، جس سے ذیابیطس کی قسم دوم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

کیا گھر پر جسمانی چربی کی مقدار معلوم کی جاسکتی ہے؟

جسم میں چربی کی درست مقدار معلوم کرنا اتنا آسان نہیں جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔

جسمانی ساخت کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ڈیکسا اسکین استعمال کیا جاسکتا ہے، جو چربی، پٹھوں اور ہڈیوں کی مقدار میں فرق کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے خصوصی آلات درکار ہوتے ہیں اور یہ مہنگا بھی ہوسکتا ہے۔

گھر پر بعض افراد جلد کے نیچے موجود چربی کی تہہ کو مخصوص آلے کے ذریعے ناپتے ہیں، لیکن یہ طریقہ جسم کے مخصوص حصوں تک محدود ہوتا ہے اور اندرونی چربی کی براہ راست پیمائش نہیں کرسکتا۔ اس کے نتائج بھی ہمیشہ درست نہیں ہوتے۔

مزید پڑھیے: موٹاپے کا علاج صرف وزن کم کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے، جانیے دیگر ضروری اہداف

اسی طرح جسمانی چربی ناپنے والا جدید اسمارٹ ترازو بھی استعمال کی جاتا ہے جو جسم میں معمولی برقی رو گزار کر چربی کی مقدار کا اندازہ لگاتا ہے۔ تاہم جسم میں پانی کی مقدار ان کے نتائج کو متاثر کرسکتی ہے اس لیے انہیں جسمانی چربی کی درست پیمائش کا قابل اعتماد متبادل نہیں سمجھا جاتا۔ یہ ترازو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ جسم میں چربی کہاں جمع ہے یا کتنی مقدار اندرونی اعضا کے گرد موجود ہے۔

کمر کی پیمائش بھی ایک مفید اشارہ ہوسکتی ہے

صحت مند جسمانی ساخت کا جائزہ لینے کے لیے ہر شخص کو اپنی چربی کا باریک بینی سے حساب لگانا ضروری نہیں۔

کمر اور قد کا تناسب پیٹ کے گرد موجود چربی کا ایک عمومی اندازہ فراہم کرسکتا ہے۔ اسی طرح کمر اور کولہوں کے تناسب سے بھی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جسم میں چربی کہاں زیادہ جمع ہے۔

ماہرین کے مطابق صرف جسمانی وزن یا جسمانی کمیت کا اشاریہ (بی ایم آئی) بھی ہمیشہ جسم میں چربی کی درست مقدار نہیں بتاتا کیونکہ یہ چربی اور پٹھوں میں فرق نہیں کرسکتا۔ زیادہ پٹھوں والے کسی شخص کا بی ایم آئی زیادہ ہوسکتا ہے حالانکہ اس کے جسم میں چربی بہت کم ہو۔

عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی ساخت پر نظر رکھنا کیوں ضروری ہے؟

عمر بڑھنے کے ساتھ عام طور پر جسم میں چربی کی مقدار بڑھ سکتی ہے جبکہ پٹھوں اور ہڈیوں کی مقدار کم ہونے لگتی ہے۔ اس لیے عمر کے ساتھ متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور طاقت بڑھانے والی ورزشیں اہم ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے جسم کی چربی کو مکمل طور پر ختم کرنے یا انتہائی کم سطح تک پہنچانے کی کوشش کے بجائے متوازن جسمانی ساخت پر توجہ دینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: جسم میں چھپی سوزش دل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے، نئی تحقیق

جسمانی چربی نہ تو محض ایک غیر ضروری بوجھ ہے اور نہ ہی اسے جتنا ممکن ہو کم کرنا صحت کی علامت ہے۔ اصل مقصد جسم میں مناسب مقدار برقرار رکھنا ہے کیونکہ چربی جسم کے کئی اہم افعال میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp