دریائے سندھ کے کنارے آباد لیہ کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں پانی کی فراوانی تو دکھائی دیتی ہے، مگر صاف اور محفوظ پینے کے پانی تک رسائی آج بھی کئی خاندانوں کے لیے ایک مشکل سوال بنی ہوئی ہے۔
دریا کے وسیع پانی کے سامنے دوسری جانب ایسے گھر بھی ہیں جہاں خواتین اور بچے روزانہ پینے کے پانی کے حصول کے لیے دور دراز ذرائع کا رخ کرتے ہیں، پانی بھر کر گھروں تک پہنچاتے ہیں اور اسے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مقامی آبادی کے مطابق کئی خاندان نہروں، نلکوں یا دیگر دستیاب ذرائع سے پانی حاصل کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ پانی کے معیار کے حوالے سے بھی انہیں مختلف خدشات کا سامنا رہتا ہے۔
مسئلہ پانی کی کمی نہیں، بلکہ صاف اور صاف پانی تک رسائی کا ہے، جس کا اثر براہِ راست خواتین، بچوں اور دیہی خاندانوں کی روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔ دریائے سندھ کا پانی اپنی جگہ موجود ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس کے کنارے بسنے والے ان خاندانوں کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی کب اور کیسے میسر آئے گا ؟
لیہ کے شہریوں کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ تختِ لاہور اُن کے مسائل اور وسائل سے بےخبر ہے، اور نہ ہی اتنا بڑا صوبہ وہ اکیلے ٹھیک سے چلا سکتے ہیں۔ شہریوں کے مطابق اُن کے مسائل کا حل نئے صوبے اور نئے انتظامی یونٹس میں ہی ہے، تاکہ گورننس پر گرفت مضبوط ہو سکے، اور شہریوں کے مسائل اُن کی دہلیز پر حل ہوں۔













