وزارت اطلاعات و نشریات نے نورستان میں لڑائی کا الزام پاکستان پر عائد کرنے کے افغان طالبان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیانات اندرونی جبر، اختلافات اور عدم استحکام سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان کے خلاف مزاحمت میں اضافہ، نورستان و کنڑ میں مقامی افراد بھی میدان میں آگئے
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری فیکٹ چیک میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت کے نام نہاد وزیر برائے سرحدی امور اور دیگر ترجمانوں کی جانب سے نورستان میں لڑائی کو پاکستان سے منسوب کرنے کے الزامات محض خود ساختہ بیانیہ ہیں، جن کا مقصد دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی حکومت کو درپیش سنگین اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔
𝐅𝐚𝐜𝐭 𝐂𝐡𝐞𝐜𝐤 | 𝐌𝐢𝐧𝐢𝐬𝐭𝐫𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 & 𝐁𝐫𝐨𝐚𝐝𝐜𝐚𝐬𝐭𝐢𝐧𝐠
◼️ The latest allegations by so called Minister for Borders and other mouthpieces of the Taliban regime seeking to attribute the fighting in Nuristan to Pakistan are self rhetorical… pic.twitter.com/S4z5EYre5K
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) September 30, 2026
بیان کے مطابق افغان طالبان ایک غیر جامع اور غیر نمائندہ حکومت ہیں، جنہوں نے طاقت کے ذریعے افغانستان کے عوام پر اپنا اقتدار مسلط کر رکھا ہے۔ اپنے اندرونی مسائل کا ذمہ دار بیرونی قوتوں کو ٹھہرانے اور پاکستان کے خلاف بیانات دینے سے طالبان حکومت کی مایوسی اور اپنے مسائل سے نمٹنے میں ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ افغان طالبان اپنے چند رہنماؤں کے مفادات اور لالچ کی خاطر دہشت گردی کی معاونت کر رہے ہیں اور ہندوتوا کے ایجنڈے کے لیے پراکسی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نورستان میں طالبان اور افغان فریڈم فرنٹ کے درمیان جھڑپیں، متعدد چیک پوسٹیں قبضے میں لینے کا دعویٰ
فیکٹ چیک میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بعض اداروں کی پراکسی کے طور پر مالی مفادات کی خاطر کام کرنے کا یہ طریقہ افغان طالبان کو خود تباہی کے راستے پر لے جا رہا ہے، جہاں عزت اور وقار کی کوئی گنجائش نہیں۔
یاد رہے کہ افغان طالبان کے سرحدی امور کے وزیر نور اللہ نوری نے پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی پر نورستان میں جنگجو بھیجنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ طالبان کے صبر کا امتحان نہ لیں اور سوویت یونین اور امریکا سے سبق سیکھیں۔














