افغانستان کے صوبہ ہلمند کے ضلع گرمسیر میں بی ایل اے کے مبینہ میڈیا آپریشنز مرکز کو نشانہ بنائے جانے اور کارروائی کے دوران اہم کمانڈروں سمیت 9 دہشتگرد ہلاک کردیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی یکم اکتوبر کی صبح تقریباً 4 بج کر 45 منٹ پر کی گئی، جس میں دہشتگرد تنظیم کے مبینہ پروپیگنڈا اور میڈیا نیٹ ورک کے مرکز کو تباہ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی میں میڈیا سرگرمیوں کے ذمہ دار سمجھے جانے والے کمانڈروں شیروان، حذیفہ، فاروق اور حضرت بلوچ سمیت 9 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں بی ایل اے کمانڈر ’نوخاب‘ ہلاک، سرحد پار دہشتگرد نیٹ ورک بے نقاب
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمپاؤنڈ ملا نادر کی ملکیت تھا، جو نیمروز میں طالبان بارڈر فورس کا کمانڈر اور ہلمند و نیمروز میں بی ایل اے کا مبینہ اہم سہولت کار بتایا جاتا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق کارروائی کا مقصد دہشت گردوں کے ایسے نیٹ ورک کو نشانہ بنانا تھا جو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا، بھرتی اور دہشتگردی کے لیے ذہن سازی میں مبینہ طور پر ملوث تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگرد تنظیم کے پروپیگنڈا نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ افغانستان میں قائم مبینہ مراکز بھی اس سلسلے کا اہم حصہ ہیں۔
BLA Media Command Hub Destroyed in Pakistani Precision Strike in Helmand, Afghanistan
Eagle Eye Exclusive
On 1 October 2026 at approximately 0445 hours, Pakistan carried out a precision strike against a compound in Safar, Garmser District, Helmand, Afghanistan, identified as… pic.twitter.com/g2qmZ9O20L
— Eagle Eye (@zarrar_11PK) October 1, 2026
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار دہشت گردی اور مسلح گروہوں کی موجودگی کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود بعض مسلح گروہ پاکستانی علاقوں میں حملوں کے لیے اپنی کارروائیاں منظم کرتے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی اور دہشت گردی کو پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتی رہی ہے۔
وزارت اطلاعات نے یکم اکتوبر کو افغانستان میں 2 مقامات پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملوں میں دہشتگردوں کے مراکز اور محفوظ ٹھکانے نشانہ بنائے گئے۔
مزید پڑھیں: زیارت کراس حملہ: ٹی ٹی پی نے کارروائی کی، ذمہ داری بی ایل اے نے کیوں قبول کی؟ باہمی تعاون پر سوالات اٹھ گئے
وزارت کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں 22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر تباہ ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلمند اور کنڑ میں ہونے والی کارروائیوں میں 9 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے، جبکہ 3 مکانات بھی تباہ ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں دہشتگردوں کے تنظیمی، مالی، ابلاغی اور سہولت کاری کے نیٹ ورکس کو بھی ہدف بنایا جائے گا اور سرحد پار موجود دہشت گرد انفراسٹرکچر کو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے اس کے خلاف اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔














