امریکا میں سزائے موت پانیوالی خاتون مہلک انجیکشن کے بعد بھی زندہ، اسپتال منتقل

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پانیوالی خاتون کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن دینے کے باوجود مبینہ طور پر ہلاک نہ کیا جاسکا، جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے چند گھنٹے قبل پھانسی پر عملدرآمد کی اجازت دی گئی تھی، خاتون کے وکلا نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاستی حکام پھانسی پر عملدرآمد میں ناکام رہے۔

کرسٹا پائیک کو جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے دریائے بینڈ میکسمم سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دی جانی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: مجرم کو پہلی بار نائٹروجن گیس کے ذریعے سزائے موت دیدی گئی

پھانسی کے لیے 2 انجیکشن، پینٹوباربیٹل، استعمال کیے گئے، تاہم موقع پر موجود گواہوں کے مطابق انجیکشن دیے جانے کے بعد بھی پائیک سانس لے رہی تھیں۔

ان کے وکلا نے ایک بیان میں کہا کہ ریاست ٹینیسی ایک بار پھر قانونی پھانسی پر عملدرآمد میں ناکام رہی اور کرسٹا کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

وکلا کے مطابق انہیں تاحال ان کی حالت کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پھانسی کے موقع پر موجود تحقیقاتی صحافی جان نارتھ نے بتایا کہ صورتحال منصوبے کے مطابق ہوتی دکھائی نہیں دی۔

ان کے مطابق جب وہ عمارت سے باہر نکلے تو ان کی معلومات کے مطابق پائیک ممکنہ طور پر زندہ تھیں۔

موقع کی براہ راست ویڈیو میں ایک ایمبولینس کو روشنیاں جلاتے ہوئے پھانسی کی جگہ سے نکلتے بھی دیکھا گیا، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا ایمبولینس میں پائیک موجود تھیں۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ خطرناک مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے فائرنگ اسکواڈ بحال کریں گے، امریکی محکمہ انصاف

سپریم کورٹ کے فیصلے میں 3 لبرل ججز، سونیا سوتومےئر، ایلینا کیگن اور کیتن جی براؤن جیکسن نے اختلاف کیا۔

اختلافی ججز نے مؤقف اختیار کیا کہ فیصلے سے زیریں عدالت کو پائیک کے دعوے پر مناسب غور کرنے کا موقع نہیں ملا اور ریاست کو اس وقت پھانسی دینے کی اجازت دی گئی جب ان کی سزا کے خلاف قانونی کارروائی مکمل نہیں ہوئی تھی۔

کرسٹا پائیک کو 1995 میں 19 سالہ کولیِن سلیمر کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا، اس وقت پائیک کی عمر 18 سال تھی۔

پائیک اور ان کے بوائے فرینڈ نے نوجوانوں کے لیے قائم ایک تربیتی کیمپ میں سلیمر کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا تھا۔ مقتولہ کی لاش پر پینٹاگرام کا نشان کندہ ہونے کے باعث یہ کیس قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا۔

پائیک کے وکلا نے کم عمری اور ذہنی صحت کے مسائل کو بنیاد بناتے ہوئے رحم کی اپیل کی تھی۔

ان کے مطابق پائیک بچپن میں جنسی تشدد کا شکار رہیں اور قتل کے وقت شدید ذہنی بیماری کا سامنا کر رہی تھیں، گورنر بل لی نے رحم کی اپیل میں مداخلت سے انکار کیا۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ سزائے موت پر عملدر آمد میں دلچسپی کیوں لے رہے ہیں؟

اقوام متحدہ کے آزاد انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی امریکی حکومت اور ٹینیسی حکام سے پھانسی روکنے اور سزائے موت کو تبدیل کرنے کی اپیل کی تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق 1976 کے بعد امریکا میں اب تک صرف 18 خواتین کو سزائے موت دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp