امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پانیوالی خاتون کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن دینے کے باوجود مبینہ طور پر ہلاک نہ کیا جاسکا، جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے چند گھنٹے قبل پھانسی پر عملدرآمد کی اجازت دی گئی تھی، خاتون کے وکلا نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاستی حکام پھانسی پر عملدرآمد میں ناکام رہے۔
کرسٹا پائیک کو جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے دریائے بینڈ میکسمم سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دی جانی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا: مجرم کو پہلی بار نائٹروجن گیس کے ذریعے سزائے موت دیدی گئی
پھانسی کے لیے 2 انجیکشن، پینٹوباربیٹل، استعمال کیے گئے، تاہم موقع پر موجود گواہوں کے مطابق انجیکشن دیے جانے کے بعد بھی پائیک سانس لے رہی تھیں۔
ان کے وکلا نے ایک بیان میں کہا کہ ریاست ٹینیسی ایک بار پھر قانونی پھانسی پر عملدرآمد میں ناکام رہی اور کرسٹا کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
وکلا کے مطابق انہیں تاحال ان کی حالت کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔
BREAKING: “I’ve witnessed, I believe, 5 executions in Tennessee. Nothing about today was normal, typical at all.”
Shocking new details emerge from the failed attempt to execute Christa Pike, the 50-year-old inmate who has spent nearly 30 years on Tennessee’s death row.
At a… pic.twitter.com/gDofxP1Lz5
— Fox News (@FoxNews) October 1, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق پھانسی کے موقع پر موجود تحقیقاتی صحافی جان نارتھ نے بتایا کہ صورتحال منصوبے کے مطابق ہوتی دکھائی نہیں دی۔
ان کے مطابق جب وہ عمارت سے باہر نکلے تو ان کی معلومات کے مطابق پائیک ممکنہ طور پر زندہ تھیں۔
موقع کی براہ راست ویڈیو میں ایک ایمبولینس کو روشنیاں جلاتے ہوئے پھانسی کی جگہ سے نکلتے بھی دیکھا گیا، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا ایمبولینس میں پائیک موجود تھیں۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ خطرناک مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے فائرنگ اسکواڈ بحال کریں گے، امریکی محکمہ انصاف
سپریم کورٹ کے فیصلے میں 3 لبرل ججز، سونیا سوتومےئر، ایلینا کیگن اور کیتن جی براؤن جیکسن نے اختلاف کیا۔
اختلافی ججز نے مؤقف اختیار کیا کہ فیصلے سے زیریں عدالت کو پائیک کے دعوے پر مناسب غور کرنے کا موقع نہیں ملا اور ریاست کو اس وقت پھانسی دینے کی اجازت دی گئی جب ان کی سزا کے خلاف قانونی کارروائی مکمل نہیں ہوئی تھی۔
کرسٹا پائیک کو 1995 میں 19 سالہ کولیِن سلیمر کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا، اس وقت پائیک کی عمر 18 سال تھی۔
The high-profile execution of convicted murderer Christa Pike is in disarray after two lethal injections failed to kill her. Witnesses say prison officials administered the drugs but 40 minutes later Pike was still alive. pic.twitter.com/2b9RlVQyuz
— Al Jazeera English (@AJEnglish) October 1, 2026
پائیک اور ان کے بوائے فرینڈ نے نوجوانوں کے لیے قائم ایک تربیتی کیمپ میں سلیمر کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا تھا۔ مقتولہ کی لاش پر پینٹاگرام کا نشان کندہ ہونے کے باعث یہ کیس قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا۔
پائیک کے وکلا نے کم عمری اور ذہنی صحت کے مسائل کو بنیاد بناتے ہوئے رحم کی اپیل کی تھی۔
ان کے مطابق پائیک بچپن میں جنسی تشدد کا شکار رہیں اور قتل کے وقت شدید ذہنی بیماری کا سامنا کر رہی تھیں، گورنر بل لی نے رحم کی اپیل میں مداخلت سے انکار کیا۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ سزائے موت پر عملدر آمد میں دلچسپی کیوں لے رہے ہیں؟
اقوام متحدہ کے آزاد انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی امریکی حکومت اور ٹینیسی حکام سے پھانسی روکنے اور سزائے موت کو تبدیل کرنے کی اپیل کی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق 1976 کے بعد امریکا میں اب تک صرف 18 خواتین کو سزائے موت دی گئی ہے۔














