امریکی محکمہ انصاف نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ وفاقی سطح پر سزائے موت کے مقدمات میں توسیع اور پھانسی کے طریقۂ کار میں تبدیلی چاہتا ہے۔ نئے منصوبے کے تحت مہلک انجیکشن کے ساتھ ساتھ فائرنگ اسکواڈ، بجلی کی کرسی اور گیس کے ذریعے بھی سزائے موت دی جا سکے گی۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی 8 خواتین کی رہائی کا مطالبہ کردیا
قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے کہا کہ سابقہ انتظامیہ نے خطرناک مجرموں، دہشت گردوں، بچوں کے قاتلوں اور پولیس اہلکاروں کے قاتلوں کو سزا دلوانے میں ناکامی دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں محکمہ انصاف دوبارہ قانون نافذ کر رہا ہے اور متاثرین کے ساتھ کھڑا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں 2020 میں وفاقی پھانسیوں پر 17 سالہ پابندی ختم کر دی تھی۔ ان کے اقتدار کے آخری 6 ماہ میں 13 مجرموں کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دی گئی، جو گزشتہ 120 برس میں کسی بھی امریکی صدر کے دور میں سب سے زیادہ تھیں۔
سابق صدر جو بائیڈن، جو سزائے موت کے مخالف تھے، نے وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے قبل وفاقی ڈیتھ رو کے 40 میں سے 37 قیدیوں کی سزائیں عمر قید میں تبدیل کر دی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: باپ کے قتل میں ملوث مجرم کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے اپیل مسترد کر دی
ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کے پہلے روز ہی انتہائی سنگین جرائم کے لیے سزائے موت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس وقت امریکا کی 5 ریاستیں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزا کی اجازت دیتی ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں صرف جنوبی کیرولائنا نے اس طریقے کو استعمال کیا ہے۔ 9 ریاستوں میں بجلی کی کرسی قانونی ہے، جبکہ دو ریاستوں میں نائٹروجن گیس کے ذریعے بھی حالیہ عرصے میں سزائے موت دی گئی ہے۔














