وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ
بات چیت میں وقفے کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور انہیں مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، جس کے بعد حکومت کی جانب سے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسپیکر کا ثالثی کردار
وفود کی آمد پر اسپیکر ایاز صادق نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ صرف ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دفتر مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ کھلا ہے اور اختلافات دور کرنے کا واحد راستہ پارلیمنٹ ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ عہدے اور دفاتر عارضی ہوتے ہیں، اس لیے اپوزیشن کو مسلسل بات چیت میں شامل ہونے کی دعوت دی جاتی رہی ہے۔
اپوزیشن کی شرائط اور سخت وارننگ
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے مذاکرات کے وقفے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ ‘دیانتداری’ سے بات چیت کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے بڑے مسائل اور جنگوں کا حل نکل سکتا ہے لیکن اس کا انحصار حکومت کی نیت پر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک کوئی حل تلاش نہیں کیا جاتا، لانگ مارچ کی کال ’برقرار‘رہے گی۔
چونکہ پی ٹی آئی مارچ کے لیے پرعزم ہے، وفاقی وزرا نے بھی متنبہ کیا تھا کہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر مرکز کے پاس خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
مذاکراتی عمل اور شرکاء
ایکس پر جاری ایک بیان میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے بھی تصدیق کی کہ حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
ایک روز قبل ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور محسن نقوی سمیت دیگر رہنماؤں کا اجلاس ہوا تھا جس میں پیپلز پارٹی اور حکومت کا مشترکہ وفد تشکیل دیا گیا۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ‘آف دی ریکارڈ’ مذاکرات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی نے احتجاج ملتوی نہ کیا تو حکومت کے پاس انہیں روکنے کے مکمل انتظامات ہیں۔
اجلاس میں حکومتی اتحاد کی جانب سے امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن نقوی، طلال چوہدری، طارق فضل چوہدری، سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی نے شرکت کی۔
دوسری جانب اپوزیشن کی نمائندگی بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، اسد قیصر اور سلمان اکرم راجہ نے کی۔
حکومت کی جانب سے مثبت پیشرفت ہوئی تو مثبت جواب دیں گے، عامر ڈوگر
حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگیا، پارلیمنٹ ہاؤس میں دونوں فریقین کے وفود کی ملاقات جاری ہے۔
مذاکرات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہو رہے ہیں، جس میں حکومتی اور پی ٹی آئی رہنما شریک ہیں۔
اپوزیشن وفد میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان، علامہ راجا ناصر عباس، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سلمان اکرم راجا، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں۔
پہلے ہم حکومت کو سنیں گے پھر اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھیں گے۔ لانگ مارچ کا ہونا یا نہ ہونا حکومت کی نیت پر منحصر ہے۔بیرسٹر گوہر، رہنما پی ٹی آئی pic.twitter.com/QCOxp6Pva0
— WE News (@WENewsPk) October 2, 2026
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی گزشتہ روز ملاقات میں پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس میں مذکورہ حکومتی و اتحادی رہنما شامل ہیں۔
حکومتی وفد اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات سپیکر چیمبر میں شروع!! pic.twitter.com/Kr9Bo9nnIl
— WE News (@WENewsPk) October 2, 2026












