مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجا ناصر عباس اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور قومی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ مشاورت سے اتفاقِ رائے پیدا ہوتا ہے اور بہتر فیصلے ہوتے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر پاکستان کے مسائل پر بات کریں۔ پہلے مسائل کی تشخیص کرنا ہوگی، اس کے بعد ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کو پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے مل بیٹھنے کی دعوت دی ہے۔
مزید پڑھیں:جماعت اسلامی کی امیر حافظ نعیم الرحمان سے منسوب خبروں کی تردید
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال پر ہمارا مؤقف واضح ہے، حافظ نعیم الرحمان نے بھی ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف بیان دیا ہے۔ ایسے اقدامات پاکستان کو مزید عدم استحکام کا شکار کریں گے۔ سیاسی جماعتیں باہمی احترام کے ساتھ مل بیٹھیں تو پاکستان کو مشکلات سے نکالا جاسکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ علامہ راجا ناصر عباس کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کی دعوت قبول کرلی ہے اور جماعت اسلامی اس میں شرکت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے قومی ایجنڈے اور اتفاقِ رائے کی اشد ضرورت ہے، امن و امان، معاشی صورتحال اور عوامی حکمرانی پر اتفاقِ رائے ہونا چاہیے۔
جماعتِ اسلامی کا موقف بھی یہی ہے اور ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ سیاسی عمل کو بحال کرنے، بنیادی انسانی حقوق کی بحالی، ملک میں سیاسی، جمہوری اور آئینی معاملات کو آگے بڑھانے اور سب کے حقوق کے لیے جو بھی کوششیں ہوں گی، جماعتِ اسلامی ان کے ساتھ ہے۔
خاص طور پر مہنگائی کے حوالے سے،… pic.twitter.com/onRz9b12B6— WE News (@WENewsPk) October 2, 2026
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ قومی اتفاقِ رائے کے بعد عوام کے ساتھ مل کر پاکستان کو آگے لے جانا ہوگا، پاکستان کسی ایک جماعت یا ادارے کا نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا ملک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں خون خرابہ بند اور سیاسی تقسیم ختم ہونی چاہیے، تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر قومی ایجنڈے پر متفق ہوں۔
خیبرپختونخوا کی صورتحال پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی بات چل رہی ہے، جماعت اسلامی آئین کو معطل یا پامال کرنے والے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی اور ایمرجنسی کے نفاذ کی بھی حمایت نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپوزیشن سے مذاکرات میں بہت پہلے پیشرفت کرنی چاہیے تھی۔ مذاکراتی کمیٹی کا بننا خوش آئند ہے اور اسے نتیجے تک پہنچنا چاہیے، پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کے ذریعے پیشرفت ہونی چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ انہوں نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے بات کی ہے اور وہ مذاکرات سے انکاری نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں:اسرائیل کی اصولی مخالفت پر قائداعظم کی مہر بھی ثبت ہے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتوں پر پابندی کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عمران خان ایک سیاسی جماعت کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم ہیں، ان سے ملاقاتوں کی اجازت فوری بحال ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تحفظات دور کیے جائیں، سیاسی اختلاف کے باوجود انسانی بنیادوں پر صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی زیر حراست خواتین رہنماؤں کو بھی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔













