پاکستان کی میڈیا انڈسٹری ایک ایسی تبدیلی سے گزر رہی ہے جس میں ملازمتیں سکڑ رہی ہیں، بڑے نیوز آپریشن محدود ہو رہے ہیں اور کئی دہائیوں سے قائم کاروباری ماڈل تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا بھر میں میڈیا ادارے معاشی دباؤ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور اب مصنوعی ذہانت کے باعث اپنے آپریشنز اور افرادی قوت کے ڈھانچے پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
صحافی اس تبدیلی کو شاید دوسرے شعبوں سے زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ان کا کام ہی اپنے اردگرد ہونے والی تبدیلیوں، ان کے اسباب اور اثرات کا جائزہ لینا ہے۔ لیکن جب یہی تبدیلی خود میڈیا انڈسٹری اور صحافیوں کی ملازمتوں تک پہنچتی ہے تو بعض اوقات مسئلے کو وسیع تر معاشی اور انتظامی تناظر میں دیکھنے کے بجائے اسے کسی دوسری وجہ سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
کسی صحافی کی ملازمت ختم ہونے کی صورت میں کبھی ریاستی دباؤ، کسی مافیا، سیاسی تنازعے یا دیگر عوامل کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اور متاثرہ فرد خود کو کسی بڑے صحافتی مشن یا دباؤ کا نشانہ قرار دیتا ہے۔ بعض معاملات میں واقعی سیاسی، ادارہ جاتی یا دیگر دباؤ موجود ہو سکتا ہے، لیکن ہر کیس کو اسی تناظر میں دیکھنے سے میڈیا انڈسٹری میں جاری مسلسل رائٹ سائزنگ، ری اسٹرکچرنگ، بیوروز کی بندش اور ملازمتوں کی بدلتی نوعیت جیسے بنیادی عوامل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
دو دہائیوں میں میڈیا کا ماڈل کیسے تبدیل ہوا؟
پاکستان میں نجی الیکٹرانک میڈیا کے پھیلاؤ کے ابتدائی برسوں، خصوصاً مشرف دور کے بعد، بڑے شہروں کے ساتھ چھوٹے شہروں میں بھی ٹی وی چینلز نے مکمل بیوروز قائم کیے۔ کئی مقامات پر 16، 20 یا 25 افراد تک کا اسٹاف موجود ہوتا تھا۔ رپورٹرز، کیمرہ مین، تکنیکی عملہ، ڈی ایس این جی آپریٹرز اور دیگر ملازمین ایک مکمل نیوز آپریشن کا حصہ ہوتے تھے۔
بعد کے برسوں میں یہ ماڈل بتدریج سکڑتا چلا گیا۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے پھیلاؤ، نئی ٹیکنالوجی اور اب مصنوعی ذہانت نے نیوز پروڈکشن کا طریقہ تبدیل کر دیا ہے۔ ایک وقت میں جس نیوز آپریشن کے لیے کئی افراد درکار ہوتے تھے، وہی کام اب محدود افرادی قوت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
ایک بڑے میڈیا گروپ کے پاکستان میں کبھی 11 سے زیادہ مقامات پر مکمل بیوروز موجود تھے۔ ملتان، رحیم یار خان، فیصل آباد، حیدرآباد، سکھر، کوئٹہ، سوات، گلگت بلتستان، کشمیر اور دیگر علاقوں میں مستقل اسٹاف اور مکمل آپریشن چل رہے تھے۔ آج ان میں سے کئی مقامات پر وہ انفراسٹرکچر موجود نہیں رہا۔ مستقل ملازمین کی جگہ محدود ٹیموں، نمائندوں اور سٹنگرز نے لے لی ہے۔
یہ تبدیلی صرف چھوٹے شہروں تک محدود نہیں۔ بڑے نیوز رومز بھی سکڑے ہیں، اسٹاف میں کمی ہوئی ہے اور کئی بڑے شعبے ختم یا محدود کیے گئے ہیں۔ پرنٹ میڈیا بھی اسی بحران سے دوچار ہے۔
اسلام آباد جیسے بڑے میڈیا مرکز میں بھی صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔ آج نیوز کے اسلام آباد آپریشن میں ایک وقت میں بیورو چیف، ڈی این، اینکرز، رپورٹرز اور اسٹوڈیو سمیت مکمل انفراسٹرکچر موجود تھا، لیکن اب میڈیا اداروں کے لیے بڑی عمارتیں اور وسیع آپریشن برقرار رکھنا پہلے کی نسبت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
نوائے وقت کی بڑی عمارت کبھی ایک ہی میڈیا ادارے کے وسیع آپریشن کا مرکز تھی، جبکہ بعد میں ایسی عمارتوں میں دوسرے اداروں کو بھی جگہ کرائے پر دینا پڑی۔ جنگ گروپ کی لاہور میں اپنی بڑی بیورو بلڈنگ تھی اور راولپنڈی سمیت دیگر شہروں میں بھی وقت کے ساتھ آپریشنل صورتحال تبدیل ہوئی۔
یہ کسی ایک چینل یا کسی ایک صحافی کا مسئلہ نہیں بلکہ میڈیا کے پورے کاروباری ماڈل میں آنے والی تبدیلی کا حصہ ہے۔
پشاور بیورو اور فرزانہ علی کا معاملہ
پشاور بیورو کے تناظر میں فرزانہ علی تقریباً دو دہائیوں سے آج نیوز سے وابستہ رہی ہیں۔ اس طویل عرصے کے دوران ان کی موجودگی میں بھی متعدد مرتبہ ڈاؤن سائزنگ ہوئی اور کئی ملازمین کی ملازمتیں ختم ہوئیں۔
موجودہ صورتحال میں دستیاب معلومات کے مطابق فرزانہ علی کے ساتھ عبدالبصیر قلندر اور ملک تنویر کو بھی ملازمت سے فارغ کیا گیا ہے۔ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال کے دوران تکنیکی عملے، کیمرہ مینوں اور دیگر ملازمین سمیت تقریباً 10 سے 12 افراد کی ملازمتیں ختم ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب اس سے پہلے اسی ادارے میں مسلسل ملازمتیں ختم ہو رہی تھیں تو اس صورتحال اور اس کی وجوہات پر اسی شدت سے آواز کیوں سامنے نہیں آئی۔
آج نیوز کے پشاور بیورو میں اس وقت ڈی ایس این جی موجود نہیں اور نہ ہی ادارے کی گاڑی دستیاب ہے۔ یہ بھی سوال ہے کہ جب بیورو سے یہ وسائل بتدریج ختم ہو رہے تھے تو اس وقت بیورو کی آپریشنل ضروریات کے حوالے سے آواز کیوں نہیں اٹھائی گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر میڈیا ادارے کی اپنی مالی صورتحال، ترجیحات اور آپریشنل ضروریات ہوتی ہیں۔ اگر کسی ادارے کی مالی پوزیشن کسی مخصوص ماڈل کو برقرار رکھنے کی اجازت نہ دے تو اسے خسارے کے باوجود اسی انداز میں آپریشن جاری رکھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
آج نیوز کے بارے میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق ادارہ مالی مشکلات سے دوچار ہے اور پشاور بیورو کا موجودہ ڈھانچہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے، یہاں تک کہ بیورو کی بندش یا مزید تنظیم نو کا امکان بھی زیر بحث ہے۔ ایسے حالات میں فرزانہ علی کی ملازمت کے خاتمے کو صرف ایک علیحدہ یا غیر معمولی واقعہ قرار دینے کے بجائے ادارے کی مجموعی مالی اور انتظامی صورتحال کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
پشاور کے دوسرے بیوروز بھی سکڑ گئے
یہ صورتحال صرف آج نیوز تک محدود نہیں۔ پشاور میں تقریباً تمام بڑے میڈیا اداروں کے بیوروز گزشتہ کئی برسوں میں نمایاں طور پر سکڑے ہیں۔
گزشتہ 10 سے 12 سال کا جائزہ لیا جائے تو بیشتر ٹی وی چینلز کے اسٹاف میں بڑی کمی آ چکی ہے۔ بعض بیوروز اب صرف تین، چار یا پانچ رپورٹرز اور محدود تکنیکی و معاون عملے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
ڈی ایس این جی گاڑیوں کی تعداد میں کمی بھی اسی تبدیلی کی ایک مثال ہے۔ اب گنے چنے چینلز کے پاس ہی اپنی ڈی ایس این جی گاڑیاں اور اس سے متعلق مکمل عملہ موجود ہے کیونکہ موبائل فون، لائیو اسٹریمنگ اور دوسرے ڈیجیٹل ذرائع نے وہ بہت سا کام آسان بنا دیا ہے جس کے لیے پہلے بڑے تکنیکی سیٹ اپ کی ضرورت ہوتی تھی۔
اسی وجہ سے آج صحافی اپنے بنیادی پیشہ ورانہ کام کے ساتھ متبادل ذرائع آمدن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف بھی جا رہے ہیں۔ پوڈکاسٹس، یوٹیوب، سوشل میڈیا اور دوسرے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال صحافیوں میں عام ہو چکا ہے۔
مستقبل کا صحافی اور ون مین نیوز آپریشن
میڈیا کا موجودہ رجحان اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ آنے والے برسوں میں نیوز آپریشن مزید تیزی سے محدود ٹیموں اور ون مین شو کی طرف جا سکتے ہیں۔ ایک صحافی بیک وقت رپورٹر، کیمرہ مین، ویڈیو ایڈیٹر اور ڈیجیٹل ڈسٹری بیوٹر کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسے اپنی تکنیکی، مالی اور انتظامی ضروریات کا بھی زیادہ حصہ خود سنبھالنا پڑ سکتا ہے۔
ضروری نہیں کہ ایسا صحافی کسی روایتی نیوز روم یا دفتر میں موجود ہو۔ ریموٹ ورک اور گھر سے کام کرنے کا رجحان مزید بڑھ سکتا ہے۔ صحافی موقع سے ہی خبر تیار، ریکارڈ اور ایڈٹ کرکے براہ راست ادارے کو فراہم کر سکتا ہے۔ یہ محض مستقبل کا تصور نہیں بلکہ دنیا کے کئی میڈیا آپریشنز پہلے ہی اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔
ہر ملازمت کے فیصلے کو سازش قرار دینا درست سوال نہیں
صحافی کو اپنے ادارے کے کسی بھی فیصلے پر سوال اٹھانے کا مکمل حق ہے۔ لیکن صحافت کسی شخص کو معمول کے انتظامی فیصلوں، رائٹ سائزنگ یا پیشہ ورانہ احتساب سے بالاتر بھی نہیں بناتی۔ آج کا میڈیا ماحول کارکردگی، ریٹنگ، آڈیئنس ریچ، مالی استحکام اور ادارتی ضروریات سے جڑا ہوا ہے۔ ادارے اپنی ضروریات اور وسائل کے مطابق افرادی قوت اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں کرتے ہیں۔
فرزانہ علی کے معاملے میں بھی اگر بنیادی عوامل ادارے کی مالی مشکلات، پشاور بیورو کا سکڑتا ہوا آپریشن اور تنظیم نو ہیں تو سب سے پہلے انہی حقائق کو سامنے لانا چاہیے۔ کسی انتظامی فیصلے کو سازش یا ادارہ جاتی دباؤ سے جوڑنے کے لیے شواہد ضروری ہیں۔
اگر کوئی صحافی اپنے ادارے کی مالی اور انتظامی مشکلات سے آگاہ ہونے کے باوجود اپنے ذاتی معاملے کو پورے تناظر سے الگ کرکے پیش کرتا ہے اور خود کو ایک متبادل بیانیے کے ذریعے مظلوم یا ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس موقف کا بھی انڈسٹری کی مجموعی صورتحال کی روشنی میں جائزہ لیا جانا چاہیے۔
کسی پر انگلی اٹھانے سے پہلے ایک ذمہ دار صحافی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازمت یا انتظامی فیصلے سے متعلق حقائق معلوم کرے اور پھر ثبوت کی بنیاد پر بات کرے، نہ کہ محض الزام یا دعوے کی بنیاد پر۔
بعض حلقوں میں پیشہ ورانہ یا ملازمت سے متعلق تنازعات کو ریاستی اداروں سے متعلق الزامات میں تبدیل کرنے کا رجحان بھی زیر بحث رہا ہے۔ اس طرز عمل کا ایک نقصان یہ ہے کہ میڈیا پر حقیقی دباؤ کے واقعات اور غیر ثابت شدہ الزامات کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ماضی میں بھی ایسے معاملات پر بحث ہوتی رہی ہے جن میں الزام تراشی، سخت بیانات اور بعد میں بیرون ملک منتقل ہونے جیسے معاملات سامنے آئے۔ طحہ صدیقی، معید پیرزادہ، نورانی، عمران ریاض اور بعض دیگر نام اس نوعیت کی بحث میں مختلف اوقات میں زیر بحث رہے ہیں۔ تاہم کسی بھی انفرادی معاملے کا فیصلہ متعلقہ شواہد اور حقائق کی بنیاد پر ہی ہونا چاہیے۔
وہ حقیقت جس کا اعتراف ضروری ہے
اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ آج کتنے صحافی بے روزگار ہوئے ہیں۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ میڈیا کا وہ پورا ماڈل تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے جس میں ہزاروں افراد کے لیے مستقل ملازمتیں، بڑے بیوروز، اسٹوڈیوز، ڈی ایس این جیز اور مستقل عہدے موجود تھے۔ یہ تبدیلی ابھی مکمل نہیں ہوئی بلکہ آنے والے برسوں میں مزید تیز ہو سکتی ہے۔
صحافت صرف دوسروں کی خبر دینے کا نام نہیں بلکہ اپنے شعبے میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنا بھی اس پیشے کا حصہ ہے۔ دوسروں کے روزگار کے بحران پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو اپنے شعبے میں جاری روزگار کے بحران، تکنیکی تبدیلی اور معاشی دباؤ کا بھی اسی دیانت داری سے جائزہ لینا چاہیے۔
یہ وہ حقائق ہیں جو میڈیا انڈسٹری اور صحافیوں کے سامنے موجود ہیں، لیکن اکثر ان پر کھل کر بات نہیں ہوتی۔ تمام مسائل کو اداروں، ریاست یا کسی سازش سے جوڑ دینے سے وقتی طور پر ذاتی تشہیر یا ہیرو بننے کا تاثر تو پیدا ہو سکتا ہے، لیکن اس سے صحافیوں کے اجتماعی معاشی اور پیشہ ورانہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔
صحافت ایک معزز پیشہ ہے اور اس کی ساکھ اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب صحافی دوسروں سے جس تصدیق، غیر جانب داری اور شواہد کا تقاضا کرتے ہیں، اپنے معاملات میں بھی وہی معیار اختیار کریں۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ صرف ایک صحافی کی ملازمت کیوں ختم ہوئی۔ اصل سوال یہ ہے کہ جس میڈیا ماڈل میں کبھی بڑے بیوروز، درجنوں ملازمین، گاڑیاں، ڈی ایس این جیز اور مکمل تکنیکی سیٹ اپ معمول کا حصہ تھے، وہ تیزی سے ختم یا تبدیل ہو رہا ہے۔ جو صحافی اس تبدیلی کو نہیں سمجھے گا، اس کے لیے آنے والے میڈیا میں اپنی جگہ برقرار رکھنا مزید مشکل ہوتا جائے گا۔

















