وزیراعظم کے مشیر خصوصی سینیٹر رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت نے اسلام آباد کو دھرنوں اور لانگ مارچ سے پاک رکھنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے، اس وقت لانگ مارچ ثانوی، خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کا خاتمہ اور امن و امان بنیادی مسئلہ ہے ۔
وزیراعظم کے مشیر خصوصی سینیٹر رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اپوزیشن بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ پہلے دور کی بات چیت انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان درپردہ مذاکرات جاری، ناکامی پر گورنر راج بھی زیرِ غور ہے، رانا ثنا اللہ
انہوں نے بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان یہ طے پایا ہے کہ آج کی ملاقات اور بات چیت کی تفصیلات کے حوالے سے میڈیا میں فی الحال کوئی ایسی بات نہ کی جائے جس سے کل ہونے والے مذاکرات کے اگلے دور پر کوئی بھی منفی اثر پڑے۔
سینیٹر رانا ثنا اللہ کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے زیادہ تر گفتگو پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے کی۔
پی ٹی آئی کے وفد نے اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کرتے ہوئے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں، قائم کردہ مقدمات، باہمی ملاقاتوں پر پابندیوں اور بانی پی ٹی آئی کے علاج معالجے اور ملاقاتوں سے متعلق تحفظات اور مسائل حکومت کے سامنے رکھے۔
پرامن احتجاج کا حق اور پرتشدد راستے سے گریز
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ حکومتی وفد نے پی ٹی آئی کو واضح کیا کہ وہ اپنے مطالبات کے پیش نظر سیاسی طریقہ کار اپنائیں اور تشدد کے راستے پر بالکل نہ جائیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور حکومت اس حق کو مکمل تسلیم کرتی ہے، تاہم کسی کو بھی پرتشدد احتجاج یا ملک میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد کے بجائے صوبوں میں احتجاج کا مشورہ
سینیٹر رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ عسکری اور سیاسی قیادت نے باہمی مشاورت سے یہ پالیسی طے کی ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے دور ہونے چاہییں۔
مزید پڑھیں:نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق بحث میں 6 سے 8 ماہ لگ سکتے ہیں، رانا ثنا اللہ
انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ اپنے مطالبات ضرور سامنے لائے لیکن لانگ مارچ کے ذریعے اسلام آباد کا رخ نہ کرے۔
انہوں نے تجویز دی کہ اگر پی ٹی آئی کو مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج یا لانگ مارچ کرنا ہی ہے تو وہ خیبر پختونخوا کے شہروں پشاور اور مردان، یا پھر لاہور اور کراچی میں کرے جہاں ان کے لیے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی جائے گی۔
کے پی میں بدانتظامی، دہشتگردی اور امن کی ترجیح
حکومتی نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہماری جانب سے بنیادی گفتگو خیبر پختونخوا حکومت سے متعلق تھی۔
حکومت نے پی ٹی آئی وفد کے سامنے کے پی حکومت کی بدانتظامیوں، نااہلیوں اور وہاں روز بروز بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے خدشات پر بات کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ دوسرا اور ثانوی مسئلہ ہے، جبکہ اصل اور بنیادی مسئلہ صوبے میں دہشتگردی کا بڑھتا ہوا گراف ہے۔
وفاقی حکومت کی پہلی ترجیح خیبر پختونخوا میں قیامِ امن کے لیے صوبائی حکومت کا وفاق کے ساتھ مکمل تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ جب تک خیبر پختونخوا میں امن قائم نہیں ہوگا، تب تک وہاں نہ تو تعمیر و ترقی ممکن ہے اور نہ ہی عام عوام کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
اس لیے وفاق کی خواہش ہے کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور معاونت کرے۔













