12 ستمبر سے یکم اکتوبر تک یہودی تعطیلات کے دوران مجموعی طور پر 11,409 اسرائیلی قابضین نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا۔
یہ بھی پڑھیں: ’او وی خوب دیہاڑے سَن‘، خوشیاں لانے والی سردیاں اور بارشیں اب غزہ والوں کے دل کیوں دہلا دیتی ہیں؟
فلسطینی حکام نے جمعہ کے روز بتایا کہ یروشلم گورنریٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ تعداد تعطیلات کے آغاز سے لے کر جمعرات تک کے دھاووں پر محیط ہے۔
بیان کے مطابق 13 ستمبر کو 593 قابضین مسجد کے احاطے میں داخل ہوئے جبکہ اس سے ایک دن قبل ہفتہ ہونے کی وجہ سے داخلے بند تھے۔
بیان کے مطابق 20 اور 21 ستمبر کو مزید 1,678 قابضین داخل ہوئے جن میں پہلے دن 992 اور دوسرے دن 686 شامل تھے۔
گورنریٹ نے بتایا کہ سکوٹ کی تعطیلات کے پہلے 5 دنوں 27 ستمبر سے یکم اکتوبر کے دوران 9,138 قابضین احاطے میں داخل ہوئے۔
مزید پڑھیے: غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید مہنگی پڑ گئی، اقوام متحدہ کا اہلکار برطرف
بیان میں کہا گیا کہ جمعہ کے روز بھی دھاوے جاری رہے اور ہفتہ کو مزید داخلوں کی توقع ہے۔
گورنریٹ نے کہا کہ ان دھاووں کے دوران اسرائیلی وزرا، ربیوں، حکام اور سیاسی شخصیات کی جانب سے کھلے عام اور وسیع پیمانے پر مذہبی رسومات ادا کی گئیں۔
بیان کے مطابق ان میں حصہ لینے والوں میں انتہا پسند قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر، زیہوت پارٹی کے سربراہ موشے فیگلن اور ربی یہودا گلک شامل تھے۔
گورنریٹ نے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی دیوارِ براق پر مذہبی رسومات میں شرکت کی۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ کے آغاز سے اسرائیلی حملوں میں 262 فلسطینی صحافی شہید
بیان کے مطابق مسجد اقصیٰ کے احاطے کے اندر اجتماعی دعائیں، سجدہ ریزی، نعرے بازی، رقص، گانے، تالیاں بجانا اور بگل بجانے جیسے کام کیے گئے۔
شرکا نے دعائیہ کتابیں اور اوراق بھی اٹھا رکھے تھے اور مذہبی لباس اور ایسی شرٹس پہن رکھی تھیں جن پر نام نہاد ’ٹیمپل‘ سے منسوب تصاویر اور نعرے درج تھے۔
تاریخی اور قانونی اسٹیٹس کو کے تحت مسجد اقصیٰ کا انتظام یروشلم اسلامی وقف کے پاس ہے جو اردن کی وزارت اوقاف سے منسلک ہے اور یہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ فلوٹیلا پر حملہ کیس، ترکیہ کا نیتن یاہو سمیت 35 افراد کے خلاف بڑا اقدام
سنہ2003 سے اسرائیلی پولیس قابضین کو پولیس کی حفاظت میں مغربی دروازے سے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دے رہی ہے حالانکہ فلسطینی اور اردنی حکام بار بار ان دھاووں کو روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔










