ترکیہ نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا میں سوار کارکنوں کے خلاف اسرائیلی کارروائی کے معاملے پر وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کردی ہے۔
ترکیہ کے وزیر انصاف آکین گرلیک کے مطابق نیتن یاہو اور دیگر افراد کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ پہلے ہی جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ مقدمے میں مجموعی طور پر 35 ملزمان شامل ہیں۔
ترکیہ نے فلوٹیلا واقعے میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
#BREAKING: Türkiye requests Interpol to issue a red notice for Israeli PM Benjamin Netanyahu as part of an ongoing prosecution over an attack on activists aboard the Global Sumud Flotilla carrying humanitarian aid to Gaza – Justice Minister Akin Gurlek pic.twitter.com/NvgkvNSIIH
— TRT World (@trtworld) August 21, 2026
ترکیہ کے وزیر انصاف آکین گرلیک نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وزارت انصاف نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور دیگر ملزمان کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرانے کے لیے متعلقہ حکام کو کارروائی آگے بڑھانے کی ہدایت کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی جیل میں ہم پر کُتے چھوڑے گئے، رہائی پانے والے سابق سینیٹر مشتاق نے آنکھوں دیکھا حال بتا دیا
گرلیک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر بتایا کہ یہ اقدام غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو اسرائیل کی جانب سے روکنے اور اس میں سوار کارکنوں کے خلاف مبینہ کارروائی کی تحقیقات کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق نیتن یاہو اور افیک موسکووچ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ 14 جولائی کو نسل کشی کے الزامات کے تحت جاری کیے گئے تھے۔ بعد ازاں ترک وزارت انصاف نے وزارت داخلہ سے کہا کہ دونوں کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس کے اجرا کے لیے ضروری کارروائی کی جائے۔
35 ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی جاری
ترک وزیر انصاف کے مطابق استنبول کی 11ویں ہائی کریمنل کورٹ میں اس معاملے پر عدالتی کارروائی جاری ہے، جس میں بینجمن نیتن یاہو اور افیک موسکووچ سمیت مجموعی طور پر 35 افراد ملزم نامزد ہیں۔
یہ مقدمہ بین الاقوامی پانیوں میں غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کو روکنے اور اس میں موجود کارکنوں کے خلاف مبینہ کارروائی سے متعلق ہے۔
ترکیہ نے اس معاملے میں متعلقہ دستاویزات وزارت خارجہ کو بھی ارسال کردی ہیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی کے لیے ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔
سنگین الزامات کی فہرست
ترکیہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق نیتن یاہو اور دیگر ملزمان کے خلاف جن الزامات پر کارروائی کی جارہی ہے، ان میں بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے شہریوں کے خلاف مسلح مداخلت اور کارکنوں کو حراست میں لینا شامل ہے۔
Turkish Justice Minister Akin Gurlek says Türkiye requests Interpol red notice for Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu over ongoing prosecution on charge of genocide. pic.twitter.com/gfAwGtqPIP
— Straturka (@straturka) August 21, 2026
مقدمے میں انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی، آزادی سے سنگین محرومی، دانستہ جسمانی نقصان پہنچانے، تشدد، املاک کو نقصان پہنچانے، سنگین نوعیت کی ڈکیتی اور ذرائع نقل و حمل کو ہائی جیک کرنے جیسے الزامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
ترکیہ کا مؤقف
آکین گرلیک نے کہا کہ ترکیہ غزہ میں مبینہ طور پر ہونے والے جرائم کو پردے میں جانے نہیں دے گا اور ان کے ذمہ داروں کو احتساب سے بچانے کے لیے کسی قسم کی ‘استثنیٰ کی ڈھال’ قبول نہیں کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:اسرائیلی جنگی طیاروں کے شام میں فوجی ہوائی اڈے پر 4 فضائی حملے
انہوں نے کہا کہ ترکیہ قومی اور بین الاقوامی قانون کے تحت دستیاب تمام ذرائع کو ‘مستقل عزم’ کے ساتھ استعمال کرے گا۔
واضح رہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا ایک بین الاقوامی امدادی مہم ہے جس کا مقصد غزہ تک انسانی امداد پہنچانا اور علاقے میں جاری اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف عالمی توجہ مبذول کرانا ہے۔ فلوٹیلا میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کارکن اور رضاکار شامل رہے ہیں۔
فلوٹیلا کو بین الاقوامی پانیوں میں روکنے اور اس میں سوار کارکنوں کو حراست میں لینے کے واقعات نے پہلے ہی عالمی سطح پر قانونی اور سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔
ترکیہ کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس کے لیے درخواست اسی معاملے کو اب ایک نئے بین الاقوامی قانونی مرحلے میں لے جاتی ہے۔
تاہم، انٹرپول ریڈ نوٹس خود گرفتاری کا بین الاقوامی وارنٹ نہیں ہوتا بلکہ رکن ممالک سے کسی مطلوب شخص کی تلاش اور عارضی گرفتاری میں تعاون کی درخواست ہوتی ہے۔ کسی فرد کی گرفتاری یا حوالگی کا حتمی فیصلہ متعلقہ ملک اپنے قوانین کے تحت کرتا ہے۔














