پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں مزید اضافہ، نئے ریٹس 2 دن تک برقرار رہیں گے

جمعہ 2 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 2.10 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 0.30 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق ان نئی قیمتوں کا اطلاق 3 اکتوبر سے 5 اکتوبر تک ہوگا۔

قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 392.76 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی ریٹیل قیمت 399.64 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

حکومت کی جانب سے پیٹرول پر فی لیٹر 114 روپے جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی وصولی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ارکان پارلیمنٹ پر کیا اثر پڑا؟

اعداد و شمار کے مطابق 3 اپریل کو ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520.35 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ 28 فروری کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد اس کی قیمت 281 روپے فی لیٹر سے بڑھنا شروع ہوئی تھی۔

دوسری جانب پیٹرول کی قیمت جو مارچ کے پہلے ہفتے میں 266 روپے تھی، وہ بھی اپنی اڑان بھرتے ہوئے 3 اپریل کو 458.41 روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی۔

کفایت شعاری مہم اور مارکیٹوں کی بندش

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر حکومت نے کفایت شعاری کے متعدد اقدامات دوبارہ نافذ کر دیے ہیں۔

ان اقدامات کے تحت تمام مارکیٹیں رات 9 بجے تک بند کرنے کی لازمی ہدایت کی گئی ہے۔ مزید برآں سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کے کوٹے میں 3 ماہ کے لیے 50 فیصد کٹوتی کر دی گئی ہے۔

پیٹرولیم ریلیف اسکیم کی کامیابی

عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ایک ’ریلیف اسکیم‘ کا اعلان کیا تھا۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 29 ستمبر کو اس اسکیم کی کامیابی کو سراہتے ہوئے اسے پوری حکومت کی مشترکہ اور بہترین حکمتِ عملی قرار دیا تھا۔

نائب وزیراعظم کی زیرِ صدارت فیول سبسڈی سے متعلق نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ وزارتِ اطلاعات، آئی ٹی اور پیٹرولیم ڈویژن کے علاوہ اوگرا، اسٹیٹ بینک اور تمام صوبوں نے اس اسکیم کی کامیابی کے لیے بھرپور کاوشیں کی ہیں۔

مزید پڑھیں:پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹیز کی طلب میں نمایاں اضافہ

 اب تک 7.60 ملین رجسٹریشنز کامیابی سے مکمل ہو چکی ہیں اور ٹوکن کے حصول کا عمل دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ اب تک 7.71 ملین ٹوکنز استعمال کیے جا چکے ہیں۔

قیمتوں کے یومیہ تعین کا فیصلہ

وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے 17 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر اب ایندھن کی قیمتیں یومیہ بنیادوں پر مقرر کی جائیں گی۔

کابینہ اور وزیراعظم نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ عالمی رجحانات کی روشنی میں روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرے۔

ایندھن کی کھپت اور معاشی اثرات

اس سے قبل حکومت مارچ کے اوائل سے ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں ردوبدل کر رہی تھی، جبکہ اپریل میں ٹارگٹڈ ریلیف بھی دیا گیا تھا۔

پیٹرول بنیادی طور پر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، جس کی قیمت بدلنے سے متوسط اور نچلا طبقہ براہ راست متاثر ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp