غیر ملکی یا دوہری شہریت ظاہر نہ کرنے والے سول سرونٹس کو ایک ہفتے کی مہلت

ہفتہ 3 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے اپنی یا زیرکفالت افراد کی غیر ملکی یا دوہری شہریت ظاہر نہ کرنے والے سرکاری افسران کو ایک ہفتے کے اندر مطلوبہ ڈیکلریشن جمع کرانے کی ہدایت کردی، بصورت دیگر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز، صوبائی چیف سیکریٹریز اور پولیس سربراہان کو جاری آفس میمورنڈم میں کہا ہے کہ سول سرونٹس (غیر ملکی اور دوہری شہریت کے انکشاف اور ممانعت) رولز 2026 کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے اپنی اور اپنے زیرکفالت افراد کی شہریت سے متعلق معلومات ظاہر کرنا لازمی ہے۔

رولز کی شق 3(3) کے تحت تمام سول سرونٹس کو یکم جون کو سرکاری گزٹ میں قواعد کی اشاعت کے 90 روز کے اندر اپنی اور اپنے زیرکفالت افراد کی غیر ملکی یا دوہری شہریت ظاہر کرنا تھی، اس مدت کی آخری تاریخ یکم ستمبر تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سفارتکاروں کے لیے دوہری شہریت مکمل ختم کرنے کی تیاری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 17 جولائی کو بھی متعلقہ محکموں کو یاد دہانی کرائی تھی کہ مقررہ مدت کے اندر اپنے اور زیرکفالت افراد کے شہریت اسٹیٹس، غیر ملکی سفری دستاویزات رکھنے اور کسی غیر ملکی شہری سے شادی سے متعلق معلومات مقررہ فارمیٹ میں جمع کرائی جائیں۔

تازہ مراسلے کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (سابق ڈی ایم جی)، پولیس سروس آف پاکستان، سیکریٹریٹ گروپ اور آفس مینجمنٹ گروپ سے تعلق رکھنے والے متعدد افسران نے تاحال اپنی غیر ملکی شہریت سے متعلق ڈیکلریشن جمع نہیں کرائی۔

مجاز اتھارٹی نے ہدایت کی ہے کہ جو افسران ایک ہفتے کے اندر مطلوبہ ڈیکلریشن جمع نہیں کرائیں گے، ان کے خلاف سول سرونٹس (ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: بیوروکریٹس کو بھی دوہری شہریت رکھنے سے روکا جائے، نور عالم خان

رولز کی شق 3(4) کے مطابق ڈیکلریشن جمع نہ کرانا یا غلط ڈیکلریشن دینا مس کنڈکٹ تصور ہوگا۔

2026 کے قواعد کے تحت ہر سول سرونٹ کو تقرری کے وقت اپنے کیڈر ایڈمنسٹریٹر کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ آیا وہ خود یا اس کا کوئی زیرکفالت فرد غیر ملکی شہری ہے یا اس کے پاس کسی دوسرے ملک کا سفری دستاویز موجود ہے۔

ایسی معلومات فراہم نہ کرنے یا غلط ڈیکلریشن دینے کی صورت میں تقرری ابتدا ہی سے کالعدم قرار دی جاسکتی ہے اور ملازمت کسی بھی وقت ختم کی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

سرکاری ملازمین کو سالانہ بنیادوں پر بھی اپنی اور اپنے زیرکفالت افراد کی غیر ملکی شہریت کی حیثیت ظاہر کرنا ہوگی۔

اگر کوئی ملازم یا اس کا زیرکفالت فرد غیر ملکی شہریت یا سفری دستاویز حاصل کرچکا ہو یا اس کے حصول کی کوشش کررہا ہو تو اس کی بھی اطلاع دینا لازم ہوگا۔

قواعد کے تحت پیشگی منظوری کے بغیر غیر ملکی شہریت یا سفری دستاویز کے لیے درخواست دینا عمومی طور پر ممنوع ہے۔

مزید پڑھیں: پاسپورٹ نظام میں بڑی اصلاحات کا فیصلہ، مکمل ای پاسپورٹ سسٹم متعارف کرانے کا اعلان

ایسے ملک کی شہریت یا سفری دستاویز کے لیے منظوری بھی نہیں دی جاسکتی جہاں متعلقہ افسر سفارتی تعیناتی پر خدمات انجام دے رہا ہو یا دے چکا ہو۔

غیر ملکی شہری سے شادی کے معاملے میں سول سرونٹس پر گورنمنٹ سرونٹس (میرج ود فارن نیشنلز) رولز 1962 کا اطلاق برقرار رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ میں نسل کشی کی رپورٹ سے لے کر نوبیل انعام تک، ناوی پلے کی جیت پر عالمی سیاست میں بھونچال

سیکیورٹی خدشات، راولپنڈی اور مری میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کی موت پر وزیراعظم، وزیر داخلہ کے حکم پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی بازگشت، پولیس کی تیاری مکمل، اشتعال انگیزی کرنے والوں کی ویڈیوز ریکارڈ کرنے کی ہدایت

چین میں جراسک دور کے سب سے بڑے ممالیہ نما جانور کی دریافت، 160 ملین سال پرانا فوسل توجہ کا مرکز

ویڈیو

پی ٹی آئی کا مارچ لانگ نہیں، گول مارچ ہے، صوابی سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے، ارکان اسمبلی کی رائے

پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیا، صوبہ پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا گیا، عطا اللہ تارڑ

نیشنل ٹیکنالوجی پارک کا نام ’دانش آئی ٹی پارک‘ رکھ دیا گیا، ملک بھر میں توسیع کا اعلان

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی