مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار سہیل آفریدی ہیں، لانگ مارچ شروع ہونے پر بات چیت کا سلسلہ ختم ہوگیا، محسن نقوی

اتوار 4 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں 99 فیصد معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا، تاہم مذاکرات اس وقت خراب ہوئے جب معاملہ دہشتگردی کے خلاف اقدامات پر پہنچا۔ مذاکراتی عمل کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر عائد ہوتی ہے، اب ہم ایک اور 9 مئی نہیں ہونے دیں گے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہاکہ کسی بھی صورت 9 مئی جیسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے دیں گے۔ لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد مزید مذاکرات نہیں ہوں گے۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے مسلسل واقعات کے باوجود سیاسی احتجاج تشویشناک ہے، شازیہ مری

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کسی بھی شکل میں ہو، قانون اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے۔ لانگ مارچ میں شریک افراد کو توہین عدالت کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے لیے آنے والی ٹیم سنجیدہ اور معقول تھی، وہ اسے ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے۔ مذاکراتی عمل کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی پر عائد ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر فیصلے سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو انہیں خود مذاکرات میں آنا چاہیے تھا۔ سہیل آفریدی یا ان کے نمائندے کو مذاکرات میں شامل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بدقسمتی سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مذاکرات سبوتاژ کیے۔ ڈرافٹ فائنل ہونے کے بعد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نہیں مانتے، بعد میں فائنل معاہدے میں بھی تبدیلیاں کردیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں پتا ہوتا کہ کے پی حکومت سب کچھ ویٹو کردے گی تو ہم مذاکرات کرتے ہی نہیں۔ اگر سہیل آفریدی نے فیصلے کرنے تھے تو وہ خود آجاتے۔

محسن نقوی نے کہا کہ اللہ نہ کرے کوئی جان گئی تو اس کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر ہوگی۔

دہشتگردی کے معاملے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمارا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ مکمل طور پر دہشتگردی سے متعلق ہے۔ ہمارا مقصد صرف دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی طے کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں دو الگ معاہدوں پر بات ہوئی، ایک اعلامیہ اور دوسرا دہشتگردی سے متعلق تھا۔ دہشتگردی سے متعلق معاہدے میں افغانستان، ٹی ٹی پی اور سابق فاٹا کے معاملات شامل تھے، جبکہ ضم شدہ اضلاع اور نیشنل ایکشن پلان بھی نکات میں شامل تھے۔

محسن نقوی نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم نے دہشتگردی سے متعلق آؤٹ لائن شیئر کی، معمولی تحفظات بھی دور کیے گئے۔ ہماری تجویز تھی کہ دہشتگردی سے متعلق نکات کی صرف آؤٹ لائن طے کی جائے، تفصیلات بعد میں مشترکہ اجلاس میں طے ہونی تھیں۔

ان کے مطابق دہشتگردی کے معاملے پر بات ہوئی تو خیبرپختونخوا حکومت کی ٹیم نے مزید گفتگو سے انکار کیا اور دہشتگردی کے معاملے پر بات نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے معاملے پر وفاق اور صوبے کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کا وفاق اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہدا کے جنازوں میں شرکت اور یکجہتی کا اظہار ضروری ہے، جبکہ مقامی سطح پر دہشتگردوں کی مبینہ معاونت کسی صورت قابل قبول نہیں۔

دہشتگردی کے خلاف معاہدے سے انکار پر سوالات اٹھتے ہیں

محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف باقاعدہ معاہدہ کرنے کی ضرورت مقامی سطح پر دہشتگردوں کو پارٹی حمایت کی شکایات اور اطلاعات کے باعث پیش آئی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے دہشتگردوں کی حمایت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ دہشتگردی سے متعلق مجوزہ معاہدے میں سیاست کا کوئی نکتہ شامل نہیں تھا، بلکہ دہشتگردی کے خلاف چھ سات نکات پر مشتمل معاہدہ بالکل واضح تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشتگردی کے خلاف سوچ ہے تو معاہدے پر دستخط میں ایک منٹ بھی نہیں لگنا چاہیے۔ دہشتگردی کے خلاف معاہدے سے انکار پر حکومت کے مفادات اور ترجیحات پر سوال اٹھتے ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ مذاکراتی عمل مکمل ہونے کا مطلب کسی کو دہشتگردوں سے جوڑنا نہیں۔ ہماری خواہش تھی کہ تمام نکات پر اتفاق کے بعد معاہدے پر دستخط کیے جائیں تاکہ دونوں جانب کی غلط فہمیاں ختم ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں اعلامیے کے تمام نکات پر مکمل اتفاق ہوگیا تھا۔ مذاکراتی کمیٹی نے 12 گھنٹے مسلسل مذاکرات میں مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی اور چھوٹے اور بڑے تمام مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔

محسن نقوی کے مطابق مذاکراتی کمیٹی نے ڈرافٹ کو ایک نہیں بلکہ چار مرتبہ حتمی شکل دی۔ ڈرافٹ کی زبان اور نکات کے تمام مسائل مذاکرات میں ایک ایک کرکے حل کیے گئے، تاہم مذاکرات کے دوران چار مرتبہ ڈرافٹ فائنل اور چار مرتبہ تبدیل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ فائنل ڈرافٹ میں دوبارہ کئی تبدیلیاں سامنے آنے سے پریشانی ہوئی۔ ڈرافٹ فائنل ہونے کے بعد کے پی حکومت کی جانب سے بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔

رات گئے نیا ڈرافٹ پیش کیا گیا

محسن نقوی نے کہا کہ رات 12 سے ساڑھے 12 بجے کے دوران کے پی حکومت نے نیا ڈرافٹ پیش کردیا۔ نئے ڈرافٹ میں مذاکرات کے دوران طے کیے گئے نکات سے مختلف چیزیں شامل کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم دوسرے کمرے میں جاتی تو طے شدہ نکات دوبارہ تبدیل ہوجاتے۔ مذاکرات میں نکات طے ہونے کے باوجود بار بار تبدیلیاں کی جاتی رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی ارکان بڑی محنت سے ڈرافٹ کو بار بار حتمی شکل دیتے رہے۔ رانا ثنااللہ، امیر مقام، طلال چوہدری اور دیگر ارکان نے بھرپور نیک نیتی سے مذاکرات کیے۔

محسن نقوی نے کہاکہ راجا ناصر عباس اور دیگر ارکان سنجیدگی سے مذاکرات کر رہے تھے، تاہم مذاکراتی ارکان کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت سے چار گھنٹے مذاکرات کے بعد وفد کو مذاکرات کا مینڈیٹ دیا گیا۔ کے پی حکومت نے وفد کو حتمی نکات پر معاہدے کا اختیار دے دیا تھا۔

محسن نقوی کے مطابق اسد قیصر نے دہشتگردی کے تمام نکات پر ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ہم ان تمام نکات پر آپ کے ساتھ ہیں۔ اسد قیصر نے بھی دہشتگردی کے خلاف معاہدے پر دستخط کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ اسد قیصر نے مذاکرات میں بعض معاملات پر مثبت اور واضح جواب دیا اور دہشتگردی کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح قرار دیا۔

حکومت نے مذاکرات ناکام بنانے کی خواہش نہیں کی

محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کی مذاکرات ناکام کرنے یا کوئی متبادل راستہ اختیار کرنے کی خواہش نہیں تھی۔ صدر اور وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کو ہر ممکن کوشش کی ہدایت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم کی ہدایت تھی کہ مذاکرات کامیابی کے ساتھ مکمل کیے جائیں۔ حکومت کی نیت واضح تھی کہ ہر صورت مذاکرات کامیاب کرائے جائیں۔

ان کے مطابق صدر اور وزیراعظم کو مسلسل مذاکراتی صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ صدر اور وزیراعظم جو بھی فیصلہ کریں گے، ملکی مفاد میں ہوگا اور حکومت اس پر عملدرآمد کرے گی۔

محسن نقوی نے کہا کہ فائنل معاہدہ لے کر صدر مملکت کے پاس گیا اور وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

لانگ مارچ مؤخر کرنے کی شرط حکومت کی طرف سے نہیں تھی

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست نہیں کی تھی، پیپلز پارٹی نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا ضرور کہا تھا۔ پیپلز پارٹی کی خواہش تھی کہ لانگ مارچ ملتوی ہو تاکہ سیاسی درجہ حرارت کم ہو۔

دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوشش ضروری ہے

محسن نقوی نے کہا کہ ہم صرف دہشتگردی کے معاملے پر کے پی حکومت کا ساتھ چاہتے تھے، باقی سیاسی معاملات پر ہمارا کوئی اعتراض نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری درخواست تھی کہ کے پی حکومت دہشتگردی کے معاملے پر وفاق کے ساتھ کھڑی ہو۔ دہشتگردی روکنے کے لیے پہلے مشترکہ کوشش اور اس کے بعد سیاسی معاملات پر بات ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن میں کون سی بندوق، گولی یا ڈرون استعمال ہوگا، یہ حکومت طے نہیں کرتی۔ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات طے کرنا حکومت کا نہیں بلکہ سیکیورٹی اداروں کا کام ہے۔

لانگ مارچ سے عوام اور معیشت کو مشکلات کا خدشہ

محسن نقوی نے کہا کہ لانگ مارچ سے اسٹاک ایکسچینج اور عوام کو مشکلات سمیت کئی نقصانات ہوتے ہیں۔ کوئی حکومت نہیں چاہتی کہ لانگ مارچ سے عوام کے لیے مشکلات پیدا ہوں۔

انہوں نے واضح کیاکہ لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد مزید مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ان کو بتا دیا تھا کہ جب آپ کا لانگ مارچ شروع ہوگا تو مذاکرات ختم ہوجائیں گے۔

سیاسی قیادت کی ناپختگی نے مذاکرات کو نقصان پہنچایا

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سیاسی قیادت کی ناپختگی نے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچایا۔ سیاست میں غیر معمولی رویوں کے باعث معاملات خراب ہوئے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پراکسیز پر سرمایہ کاری بڑھائی گئی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری

انہوں نے کہا کہ اقتدار بھی انجوائے کریں اور دھونس و دھمکی بھی دیں، یہ ممکن نہیں۔ اقتدار کے ساتھ دھونس اور دھمکی کی سیاست نہیں چل سکتی۔

محسن نقوی نے کہا کہ بدقسمتی سے پسِ پردہ بعض عناصر کے مفادات کے باعث معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp