صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

اتوار 4 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی تو گریز نہیں کریں گے۔

گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف کے کارکنان لانگ مارچ سے بچنے کے لیے چھپ رہے ہیں اور جان بوجھ کر خود کو گرفتار کروا رہے ہیں۔

اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ تحریک انصاف نے اس سے قبل اپنا لانگ مارچ 27 ستمبر سے ملتوی کر کے 4 اکتوبر تک بڑھا دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:جو پاکستان کے آئین کو نہیں مانے گا، اس سے کوئی بات نہیں ہوگی، فیصل کریم کنڈی

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے 25 ستمبر کو نئی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے اسے پارٹی کی ’سیاسی حکمتِ عملی‘ قرار دیا تھا۔  ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت سے مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رہے گا۔

ایمرجنسی کا امکان اور گورنر کا چیلنج

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر حالات خراب ہوئے تو صدر، وزیرِ اعظم اور دیگر متعلقہ ادارے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کر سکتے ہیں۔

انہوں نے لانگ مارچ کے شرکا کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایمرجنسی لگی تو ان کے لیے میں اکیلا ہی کافی ہوں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ پی ٹی آئی والوں کی طرح محض دھمکیاں نہیں دیتے بلکہ جب میدان سجے گا تو وہ خود ان سے نمٹ لیں گے۔

لانگ مارچ پر طنز اور تنقید

گورنر خیبر پختونخوا نے احتجاج کے حجم پر سوال اٹھاتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’کون سا لانگ مارچ؟ کیا پشاور میں کچھ ہو رہا ہے؟ کیا آپ کو کہیں کوئی بینرز نظر آئے ہیں؟‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ کے نام پر اب تک صرف ’خود ساختہ گرفتاریاں‘ اور لوگوں کا روپوش ہونا ہی دیکھا گیا ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے چیلنج کیا کہ پی ٹی آئی والے پہلے صوابی تو پار کر کے دکھائیں، انہیں تو اس میں بھی ایک مہینہ لگ جائے گا۔

مذاکرات میں ڈیڈلاک

گورنر کا یہ سخت بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دو راؤنڈز اتوار کی علی الصبح کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔

مزید پڑھیں:گورنر راج کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی، پی ٹی آئی اراکین مارچ سے راہِ فرار کے لیے خود کو گرفتار کروا رہے ہیں، فیصل کریم کنڈی

اپوزیشن کا اصرار تھا کہ لانگ مارچ ختم کرنے سے قبل انہیں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

اس کے علاوہ عمران خان تک ذاتی معالجین کی رسائی اور خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشتگردی کے حوالے سے وفاقی حکومت کی مجوزہ پالیسی پر بھی شدید اختلافات برقرار رہے۔

لانگ مارچ کا باقاعدہ آغاز

مذاکرات میں ناکامی کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے لانگ مارچ شیڈول کے مطابق جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ کے مطابق مارچ کے پہلے مرحلے کا آغاز اتوار کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے ہو چکا ہے، جس میں مختلف جنوبی اضلاع سے آنے والے قافلوں کے شامل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp