برطانیہ: گرین پارٹی کا تاریخی فیصلہ، فلسطین جمہوری ریاست، صہیونیت کو نسل پرستی قرار دے دیا، اسرائیل سیخ پا

اتوار 4 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کی بائیں بازو کی گرین پارٹی نے اپنے سالانہ اجلاس میں ’صہیونیت کو نسل پرستی‘ قرار دینے کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی ہے، جس پر برطانوی یہودی تنظیموں اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

برطانیہ کے 650 نشستوں پر مشتمل ایوان میں 5 اراکینِ پارلیمنٹ رکھنے والی گرین پارٹی کے سالانہ اجلاس میں اس حساس معاملے پر رائے شماری کی گئی۔

واضح رہے کہ حالیہ مقامی اور ضمنی انتخابات میں اس پارٹی کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ قرارداد کے حق میں 1022 جبکہ مخالفت میں 813 ووٹ آئے، جس کے بعد اسے باقاعدہ پالیسی کا حصہ بنا لیا گیا۔

اس قرارداد کے مطابق اب پارٹی میں ’صہیونیت‘ کو کسی بھی دوسری نسل پرستی کی طرح ہی سمجھا جائے گا۔

اس کے علاوہ، پارٹی نے پورے فلسطین کے علاقے میں ایک واحد اور جمہوری فلسطینی ریاست کے قیام کی باقاعدہ حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔

گرین پارٹی کے ایک ترجمان نے اس فیصلے کو پارٹی اراکین کے درمیان ایک ’سنجیدہ اور گہری بحث‘ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

گرین پارٹی کا مؤقف اور مشترکہ اعلامیہ

رائے شماری کے بعد پارٹی لیڈر زیک پولانسکی، شریک نائب قائدین اور 5 اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں واضح کیا گیا کہ وہ کسی قسم کے امتیازی سلوک کو برداشت نہیں کریں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پارٹی نسل کشی، نسلی تطہیر، رنگ بھید اور غیر قانونی قبضے کی مخالفت جاری رکھے گی۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ نیتن یاہو حکومت کے ’سنگین جرائم‘ کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے اور گرین پارٹی کو ہر لحاظ سے ایک نسل پرستی مخالف جماعت بنائیں گے۔

اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ فلسطینیوں اور یہودیوں کے حقوق کی حمایت میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

یہودی تنظیموں اور اسرائیل کا شدید ردعمل

رائے شماری سے قبل، ’بورڈ آف ڈیپوٹیز‘، ’کمیونٹی سیکیورٹی ٹرسٹ‘ اور ’جوش لیڈرشپ کونسل‘ کے سربراہان نے پارٹی کو لکھے گئے ایک خط میں متنبہ کیا تھا کہ یہ قرارداد گرین پارٹی کو برطانیہ کی پہلی ایسی نمایاں سیاسی جماعت بنا دے گی جس کا سیاسی پلیٹ فارم کھلے عام ’یہود دشمنی‘ پر مبنی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید مہنگی پڑ گئی، اقوام متحدہ کا اہلکار برطرف

انہوں نے برطانوی یہودیوں کے تحفظ اور فلاح کے حوالے سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اس پالیسی کو ’جائز سیاسی بحث کی حدود سے بہت آگے کی چیز‘ قرار دیا ہے۔

اسرائیل نے برسرِ اقتدار لیبر پارٹی سمیت برطانیہ کی تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس ’مسخ شدہ قرارداد‘ کو واضح طور پر مسترد کریں۔

پارٹی کے اندرونی اختلافات اور زیک پولانسکی کا کردار

اس قرارداد نے گرین پارٹی کے اندرونی اختلافات کو بھی عیاں کر دیا ہے۔ پارٹی کے 5 میں سے کم از کم 3 اراکینِ پارلیمنٹ نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پارٹی لیڈر زیک پولانسکی نے اس رائے شماری میں حصہ ہی نہیں لیا، جو اس وقت سابق وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کے لندن کے حلقے سے رکنِ پارلیمنٹ بننے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

تاہم، رواں ہفتے کے آغاز میں زیک پولانسکی نے بیان دیا تھا کہ فلسطینی عوام کی دربدری اور ان کی نسل کشی ’واضح طور پر نسل پرستی‘ ہے۔

واضح رہے کہ زیک پولانسکی کی کرشماتی قیادت میں گرین پارٹی کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر لیبر حکومت کے مؤقف سے مایوس ہونے والے ووٹرز نے گرین پارٹی کا رخ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا مؤقف

ادھر یہ بات بھی اہم ہے کہ اقوامِ متحدہ کے تفتیش کاروں نے حال ہی میں غزہ جنگ کے دوران اسرائیل پر ’نسل کشی‘ کا الزام عائد کیا ہے، تاہم اسرائیل کی جانب سے ان الزامات کو مسلسل مسترد کیا جاتا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp