وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ختم، رابطے بحال، کیا لانگ مارچ مزید ’لانگ‘ ہونے والا ہے؟

پیر 5 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعہ 3 اکتوبر اور ہفتے کے روز اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل میں تعطل پیدا ہونے کے بعد سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا دونوں فریق مذاکرات دوبارہ شروع کرچکے ہیں یا اس حوالے سے کوئی پیشرفت متوقع ہے؟ تاہم، فی الحال حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز نہیں ہوا، البتہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطے بحال ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے آدھے درجن سے زیادہ صوبائی و مرکزی رہنماؤں نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اس وقت کسی قسم کے باقاعدہ مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم کئی رہنماؤں کے درمیان ذاتی نوعیت کے رابطے بحال ہیں، جو دونوں فریقین کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: مذاکرات ختم لانگ مارچ شروع، پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟

پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما علی محمد خان نے ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک پیغام میں کہاکہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے دونوں فریقین کو فوری طور پر مذاکرات شروع کرنے چاہییں۔

پی ٹی آئی کے ایک اور اہم مرکزی رہنما نے تصدیق کی ہے کہ مسلم لیگ ن کے علاوہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ بھی پی ٹی آئی کے رابطے ہیں، جبکہ دونوں فریقین میں موجود بعض شخصیات اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ مذاکرات جلد از جلد دوبارہ شروع کیے جانے چاہییں۔

اتوار کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ لانگ مارچ کے آغاز کے بعد پی ٹی آئی کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے، تاہم مسلم لیگ ن کے ایک اہم مرکزی رہنما کا کہنا ہے کہ سیاست میں مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔

پی ٹی آئی کے صوبائی رہنماؤں کے مطابق پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر وفاقی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ تاحال مسلسل رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے دیگر اہم رہنماؤں، جن میں اسد قیصر، جنید اکبر، عاطف خان اور ڈاکٹر امجد شامل ہیں، کے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ساتھ ’ٹریک ٹو‘ رابطے بھی بحال ہیں۔

مسلم لیگ ن کے ایک اہم رہنما نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران پیپلز پارٹی کے وفد نے اہم کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کو کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کی۔

پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مذاکرات میں اصل اختلاف خیبرپختونخوا میں جاری سیکیورٹی آپریشنز کے معاملے پر پیدا ہوا، جسے سیاسی طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر مذاکرات کے تیسرے دور کا آغاز ہوتا ہے تو سیکیورٹی آپریشنز، لانگ مارچ، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی اور ملاقاتوں سمیت کئی اہم امور زیر بحث آسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت نے پی ٹی آئی سے کون سے 7 مطالبات کیے؟ طارق فضل چوہدری نے بتا دیا

دلچسپ امر یہ ہے کہ اگر پسِ پردہ رابطے کسی پیشرفت کا باعث بنتے ہیں تو سیاسی مذاکرات کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کا اعلان کردہ لانگ مارچ بھی مزید ’لانگ‘ ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp