مصنوعی ذہانت کے ایسے ایجنٹس تیزی سے سامنے آرہے ہیں جو صرف سوالوں کے جواب دینے تک محدود نہیں بلکہ صارفین کی جانب سے خودکار طور پر مختلف کام انجام دے سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا نے نیا اے آئی ٹول ’میوز امیج‘ متعارف کرا دیا، انسٹاگرام پوسٹس سے نئی تصاویر بنائی جاسکیں گی
ماہرین کے مطابق ان ٹیکنالوجیز کے پھیلاؤ سے انٹرنیٹ پر پہلے سے موجود کئی مسائل مزید سنگین ہوسکتے ہیں اور صارفین کو آن لائن دنیا میں ایک نئے دور کی افراتفری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
میٹا کا نیا اے آئی ایجنٹ ’میوز‘ بھی اسی نئی ٹیکنالوجی کی ایک مثال ہے۔ یہ ایسا اے آئی ایجنٹ ہے جو اپنے ویب براؤزر کے ذریعے صارف کی جانب سے مختلف کام انجام دے سکتا ہے جن میں جم کی رکنیت ختم کرنا، کسٹمر سروس سے قیمت یا معاملات پر بات چیت کرنا، اشیا خریدنا اور دوستوں کو تقریبات میں مدعو کرنا شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق مستقبل میں میوز فون کالز بھی کرسکے گا۔
میوز ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کی جانب سے پیش کیا جانے والا پہلا مفت اور مکمل فیچر رکھنے والا اے آئی ایجنٹ ہے۔ اس کے ابتدائی ہفتوں میں لاکھوں افراد اسے ڈاؤن لوڈ کرچکے ہیں جبکہ اوپن اے آئی نے بھی اپنے نئے اے آئی ایجنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ اس طرح انٹرنیٹ ایک ایسے نئے دور میں داخل ہورہا ہے جہاں انسانوں کے بجائے اے آئی ایجنٹس بھی بڑی تعداد میں ویب پر سرگرم ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ انٹرنیٹ بنیادی طور پر ایسے انسانوں کے لیے بنایا گیا تھا جن کے پاس وقت اور صبر محدود ہوتا ہے لیکن اے آئی ایجنٹس پر یہ پابندیاں لاگو نہیں ہوتیں۔ اس کے نتیجے میں صارفین کو کنسرٹ کی ٹکٹوں اور مختلف اپائنٹمنٹس کے حصول کے لیے خودکار بوٹس کا مقابلہ کرنا پڑسکتا ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے میٹا کے مقابلے میں خودکار ایجنٹس ’ڈاٹس‘ متعارف کرا دیے
چھوٹے کاروبار بھی اے آئی ایجنٹس کی جانب سے بڑی تعداد میں خودکار درخواستوں اور پیغامات کے دباؤ میں آسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اے آئی ایجنٹس اشتہارات نہیں دیکھتے جس سے ان ویب سائٹس کے کاروباری ماڈل کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے جو اشتہارات سے آمدنی حاصل کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق صارفین کو انسان ہونے کا ثبوت دینے کے لیے مزید ’کیپچا‘ اور دیگر مراحل سے بھی گزرنا پڑ سکتا ہے۔
میوز کو کتنی معلومات تک رسائی حاصل ہوتی ہے؟
میوز استعمال کرنے کے لیے صارف کو اسے انتہائی حساس معلومات اور اپنے ڈیجیٹل وسائل تک وسیع رسائی دینا پڑ سکتی ہے۔ ایپ کھولنے پر یہ صارف سے نام پوچھنے کے بعد جی میل، کیلنڈر اور میک کمپیوٹر استعمال کرنے کی صورت میں پورے کمپیوٹر تک رسائی مانگ سکتی ہے۔
سیکیورٹی ماہر پیٹرک وارڈل جو امریکی غیر منافع بخش سکیورٹی ادارے آبجیکٹو سی کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل ہیں نے میوز میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی طور پر اسے استعمال نہیں کریں گے اور صارفین کو اسے ان انسٹال کرنے کا مشورہ دیں گے۔
تاہم میٹا کا کہنا ہے کہ میوز ہر ایک کے لیے بنایا گیا ذاتی اے آئی ایجنٹ ہے جسے محفوظ، سکیور اور نجی رکھنے کے لیے حفاظتی اقدامات اور صارف کنٹرولز شامل کیے گئے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ایجنٹ کو وسیع پیمانے پر ٹیسٹ کیا گیا ہے اور سیکیورٹی اس کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
’سوئفٹی مسئلہ‘ کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق اے آئی ایجنٹس کے بڑھتے استعمال سے آن لائن وسائل کے حصول میں مقابلہ مزید شدید ہوسکتا ہے۔ اس کی ایک مثال کنسرٹ کی ٹکٹیں ہیں۔
سنہ 2024 میں امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے کنسرٹس کی ٹکٹوں کے حصول کے لیے بعض امریکی مداح یورپ تک گئے جبکہ ٹکٹیں خرید کر مہنگے داموں دوبارہ فروخت کرنے والے افراد کی وجہ سے امریکا میں قیمتیں اس حد تک بڑھ گئیں کہ بعض صورتوں میں بیرون ملک کنسرٹ دیکھنے کے لیے ہوائی سفر کرنا زیادہ سستا پڑا۔
مزید پڑھیں: اے آئی ایجنٹ ’میوز‘ کو اسپاٹیفائی تک رسائی، موسیقی گفتگو کے ذریعے کنٹرول ہوگی
اب یہی کام ہر شخص کے لیے ایک ذاتی بوٹ کرسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح ’سوئفٹی مسئلہ‘ مزید بڑے پیمانے پر سامنے آسکتا ہے۔
الیکٹرانک پرائیویسی انفارمیشن سینٹر کے اے آئی اینڈ ہیومن رائٹس پروگرام کی ڈائریکٹر کالی شروڈر کا کہنا ہے کہ بوٹس سے پیدا ہونے والے موجودہ مسائل میں بہت زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔
اس صورت حال میں مقبول ریسٹورنٹس میں بکنگ، پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید جیسی اپائنٹمنٹس بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔ لوگ کسی ایک ضرورت کے لیے بیک وقت کئی اپائنٹمنٹس بک کروا کر وسائل اپنے لیے محفوظ رکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں کیونکہ اے آئی ایجنٹ کے ذریعے ایسا کرنا انتہائی آسان ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ایک ممکنہ حل یہ ہوسکتا ہے کہ ’پہلے آؤ، پہلے پاؤ‘ کے اصول کے بجائے وسائل اور اپائنٹمنٹس کی تقسیم کے لیے قرعہ اندازی جیسے نظام کو اپنایا جائے تاہم یہ موجودہ طرز زندگی میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔
اے آئی ایجنٹس ویب سائٹس پر کتنا دباؤ ڈال سکتے ہیں؟
اے آئی ایجنٹس ایک ہی وقت میں لاکھوں یا اربوں کی تعداد میں مختلف کام انجام دینے لگیں تو ویب سائٹس پر غیر معمولی دباؤ پڑسکتا ہے۔
میوز کے تجربے کے دوران اسے فیس بک مارکیٹ پلیس پر ایک فروخت کنندہ سے سوالات کرنے، پسندیدہ ڈینٹل فلاس منگوانے اور ایک سافٹ ویئر سبسکرپشن پر 31 ڈالر کی رعایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
لیکن ماہرین کا سوال ہے کہ اگر یہی کام کروڑوں ایجنٹس بیک وقت کرنے لگیں تو کیا ہوگا؟
شروڈر کے مطابق اگر کوئی بوٹ کسی ویب سائٹ کو روزانہ 600 درخواستیں بھیجے، جبکہ ایک عام انسان شاید صرف 2 درخواستیں بھیجے تو کاروباری اداروں اور عام افراد کے لیے اس صورت حال سے نمٹنا مشکل ہوجائے گا۔
اے آئی پہلے ہی آن لائن کاروبار کو متاثر کر رہی ہے۔ گوگل اور چیٹ بوٹس صارفین کے سوالات کے جواب براہ راست فراہم کررہے ہیں جس کے باعث لوگ پہلے کی نسبت کم ویب سائٹس پر جارہے ہیں۔ اے آئی بوٹس نہ اشتہارات پر کلک کرتے ہیں اور نہ ہی سبسکرپشن خریدتے ہیں جس سے متعدد آن لائن کمپنیوں کے کاروباری ماڈل دباؤ میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پرائیویسی خدشات کے باوجود میٹا کا مصنوعی ذہانت اور اسمارٹ عینکوں پر زور
ایک تجزیے کے مطابق جون 2026 تک ایک سال کے دوران ویب ٹریفک میں بوٹس کی سرگرمی 124 فیصد بڑھی۔ بعض ویب سائٹس اور آن لائن سروسز پہلے ہی اس اضافی ڈیجیٹل بوجھ سے متاثر ہورہی ہیں کیونکہ ان کا بنیادی ڈھانچہ اس سطح کی سرگرمی کے لیے تیار نہیں۔
کیا اے آئی ایجنٹ صارف کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق ذاتی اے آئی ایجنٹ کو خریداری، پسند اور دیگر ترجیحات سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار دینا صارف کو استحصال کے خطرے سے دوچار کرسکتا ہے۔
مثلاً اگر میوز کسی صارف کے لیے تعطیلات کا سفر ترتیب دے تو صارف کے لیے یہ جاننا مشکل ہوسکتا ہے کہ اے آئی نے واقعی بہترین سودا تلاش کیا یا ایسے ہوٹل اور پروازیں منتخب کیں جن سے میٹا کے کاروباری شراکت داروں کو فائدہ پہنچتا ہو۔
اسی طرح موسیقی کی سفارشات میں بھی یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ آیا اے آئی صارف کے ذوق کے مطابق موسیقی تجویز کررہا ہے یا ان فنکاروں کو ترجیح دے رہا ہے جن کے میٹا کے ساتھ کاروباری معاہدے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ میوز میں موجود حفاظتی اقدامات اور صارف کنٹرولز لوگوں کو اس کے استعمال پر مکمل اختیار دیتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق میوز ایک ایسے ذاتی معاون کی طرح کام کرتا ہے جو ایک فرد کی جانب سے کام کرتا ہے اور صارف کے تحفظ کے لیے اخلاقی اصولوں کی پیروی کرتا ہے۔
تاہم شروڈر کا کہنا ہے کہ انہوں نے میوز کی سروس کی شرائط کا جائزہ لیا ہے اور ان میں ایسی کوئی ضمانت موجود نہیں کہ ایپ ہر صورت صارف کے مفاد میں کام کرے گی۔
اے آئی کے لیے ’سڑک کے اصول‘ بنانے کی ضرورت
میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر رمیش راسکر جو اے آئی ایجنٹس پر تحقیق کرتے ہیں کے مطابق اے آئی ایجنٹس کے لیے مخصوص ضابطوں کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق اے آئی ماڈلز کو انجن اور اے آئی ایجنٹس کو گاڑیوں سے تشبیہ دی جاسکتی ہے اس لیے اب ’سڑک کے اصول‘ طے کرنا ضروری ہیں جن میں ونڈ اسکرین، بریک اور ٹریفک لائٹس جیسے حفاظتی نظام شامل ہوں۔
مزید پڑھیں: میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام
اے آئی صنعت میں ایسے پروٹوکولز اور معیارات پر بھی کام ہورہا ہے جن کے ذریعے بوٹس مختلف آن لائن سروسز سے زیادہ منظم انداز میں رابطہ کرسکیں۔ بعض کمپنیاں ایسے نظام تیار کررہی ہیں جن کے تحت ویب سائٹس سے بڑی مقدار میں معلومات حاصل کرنے والے اے آئی سسٹمز سے فیس وصول کی جاسکے گی۔
ماہرین کے مطابق ضابطے ایسے بھی ہوسکتے ہیں جو اے آئی ایجنٹس کو صارف کے بہترین مفاد میں کام کرنے کا پابند کریں۔
کچھ ریسٹورنٹ ریزرویشن پلیٹ فارمز نے اے آئی کے غلط استعمال پر صارفین پر پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ برطانیہ نے بوٹس سے نمٹنے کے لیے ڈرائیونگ ٹیسٹ کی بکنگ کے قوانین میں بھی تبدیلی کی ہے۔
راسکر کے مطابق اے آئی ایجنٹس سرمایہ کاری، جدت اور نئی قدر پیدا کرنے کے وسیع مواقع فراہم کرسکتے ہیں تاہم یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ نئے قواعد اور نظام کسی کمپنی کو غیر منصفانہ فائدہ نہ دیں۔
ذاتی ڈیٹا پہلے سے زیادہ خطرے میں؟
اے آئی ایجنٹس کے استعمال کے ساتھ صارفین کی ذاتی معلومات کے تحفظ کا سوال بھی اہم ہوگیا ہے۔
میوز کے تجربے کے دوران ایک صارف نے بتایا کہ اس کا جی میل اکاؤنٹ 21 برس سے استعمال ہورہا ہے اور اس کے ذریعے سیکڑوں اکاؤنٹس تک رسائی حاصل ہے۔ اس ای میل اکاؤنٹ میں طبی ٹیسٹوں کے نتائج، معاہدے، قانونی دستاویزات، اہل خانہ سے گفتگو، رسیدیں اور مالی معلومات موجود ہیں۔
میوز کو جی میل تک رسائی دینے کے بعد یہ معلومات اے آئی ایجنٹ کے سامنے آسکتی ہیں۔ میوز نے صارف کو اپنے بینک اکاؤنٹس تک رسائی دینے کی تجویز بھی دی تاہم اسے قبول نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیے: اپنی انسٹاگرام تصاویر کو میٹا کے اے آئی سے بچانا چاہتے ہیں؟ صرف ایک سیٹنگ تبدیل کرکے خود کو محفوظ بنائیں
میٹا کا کہنا ہے کہ وہ میوز کے ذریعے جمع ہونے والے ڈیٹا کو اپنے اشتہاری نظام سے منسلک نہیں کرے گا۔ کمپنی کے مطابق خصوصی نظام اے آئی کو پاس ورڈز اور ادائیگی کی معلومات دیکھنے سے روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
جی میل سے منسلک ہونے پر میوز صارف سے یہ بھی پوچھتا ہے کہ آیا وہ پوری ای میلز اسکین کرے یا صرف مخصوص کام سے متعلق پیغامات پڑھے۔
تاہم میٹا میوز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو بطور ڈیفالٹ اپنے نئے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرتا ہے۔ شروڈر کے مطابق ایک بار اے آئی ماڈل میں شامل ہونے والے ڈیٹا کو مکمل طور پر نکالنا ممکن نہیں ہوتا اور بعض اوقات اے آئی سسٹمز کو ان کے تربیتی ڈیٹا کے بارے میں معلومات ظاہر کرنے پر بھی مجبور کیا جاسکتا ہے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ اے آئی ماڈلز کی تربیت سے پہلے صارف کا ڈیٹا ’صاف‘ کیا جاتا ہے تاکہ ذاتی شناخت ظاہر کرنے والی معلومات ختم ہوجائیں جبکہ صارف سیٹنگز کے ذریعے اے آئی ٹریننگ کے لیے اپنے ڈیٹا کے استعمال سے انکار بھی کرسکتا ہے۔
میوز میں سکیورٹی خامی بھی سامنے آگئی
میوز کے اجرا کے کچھ ہی عرصے بعد سیکیورٹی ماہر پیٹرک وارڈل نے ایپ میں ایک سنگین خامی دریافت کی۔
ان کے مطابق صرف 20 منٹ تک ایپ کا جائزہ لینے کے دوران سامنے آنے والی اس خامی کے ذریعے ممکنہ طور پر حملہ آور میوز اور اس کے ڈیٹا پر قبضہ کرسکتا تھا حتیٰ کہ اس سے منسلک دیگر آلات، جیسے فون یا اسمارٹ لاک کو بھی کنٹرول کرنے کا خطرہ موجود تھا۔
میٹا نے اس خامی کو فوری طور پر دور کردیا، تاہم وارڈل کے مطابق اس واقعے نے ان کے لیے کمپنی کے پرائیویسی اور سکیورٹی سے متعلق وعدوں پر اعتماد کرنا مشکل بنا دیا۔
میٹا نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ میوز کی تیاری اور اجرا میں کئی ماہ کی تاخیر کی گئی تاکہ پرائیویسی اور سکیورٹی کے مزید ٹیسٹ کیے جاسکیں۔
میوز کے عملی استعمال کے دوران یہ ایجنٹ مختلف کاموں میں مفید ثابت ہوا، تاہم اسٹوری کے مصنف نے آخر میں اسے اپنے جی میل اکاؤنٹ تک رسائی سے محروم کردیا اور ایپ سے اپنے بارے میں جمع کیا گیا تمام ڈیٹا حذف کرنے کو کہا۔
مزید پڑھیے: بغیر اطلاع اے آئی تصاویر کی تیاری، میٹا کے نئے فیچر پر صارفین پریشان
یوں اے آئی ایجنٹس کی افادیت کے باوجود ذاتی معلومات، سکیورٹی اور انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے پر ان کے ممکنہ اثرات کے سوالات بدستور موجود ہیں۔














