الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے کہا ہے کہ وہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے، تاہم اسلام آباد، خیبر پختونخوا، کوئٹہ اور کنٹونمنٹ بورڈز میں انتخابات کے انعقاد میں قانونی اور انتظامی رکاوٹیں درپیش ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں تمام صوبوں، اسلام آباد اور کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن کو صوبہ وار پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا ڈرافٹ شیڈول صوبائی حکومت کو بھجوا دیا گیا
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے الیکشن کمیشن تیار ہے اور انتخابی شیڈول کا مسودہ صوبائی حکومت کو بھجوا دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے ضلعی ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کے لیے فہرستیں بھی طلب کرلی ہیں، جبکہ پنجاب حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ انتخابی شیڈول کے مسودے پر جلد از جلد جواب دے۔
سندھ میں بھی بلدیاتی انتخابات کی تیاری شروع
الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ میں بروقت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے تیاری شروع کردی گئی ہے اور متعلقہ دفتر کو تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
اسلام آباد میں قانون سازی کا معاملہ درپیش
اسلام آباد کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ حلقہ بندی مکمل ہوچکی ہے، تاہم اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ترمیمی آرڈیننس 2026 اپنی مدت پوری ہونے کے باعث ختم ہوچکا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے آرڈیننس کے مطابق قانون سازی کی منظوری دے دی ہے، اس لیے الیکشن کمیشن نے فوری طور پر قانون سازی مکمل کرنے کے معاملے کو وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے کہاکہ اگر قانون سازی نہ کی گئی تو وہ موجودہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت انتخابات کرانے کی کارروائی آگے بڑھائے گا۔
کنٹونمنٹ بورڈز میں حلقہ بندیاں مکمل، وفاقی حکومت کی درخواست کا انتظار
کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ تمام کنٹونمنٹ بورڈز کی حلقہ بندیاں مکمل ہوچکی ہیں اور الیکشن کمیشن انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے۔
تاہم ترمیم شدہ کنٹونمنٹس ایکٹ کی دفعہ 19-D کے تحت وفاقی حکومت کو انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن سے باضابطہ درخواست کرنا ضروری ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق یاد دہانیوں اور چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے وزیراعظم کو خط لکھے جانے کے باوجود تاحال ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔
الیکشن کمیشن نے وزارت دفاع کو آخری خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا میں نئی حد مقرر ہونے سے حلقہ بندی کا عمل متاثر
خیبر پختونخوا کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے بتایا کہ 23 اضلاع میں حلقہ بندی مکمل جبکہ 7 اضلاع میں جاری تھی کہ صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی دفعہ 6 میں ترمیم کردی۔
ترمیم کے تحت ویلج اور نیبرہڈ کونسلز کے لیے آبادی کی حد 5 ہزار سے 15 ہزار افراد سے بڑھا کر 30 ہزار سے 40 ہزار کردی گئی۔
الیکشن کمیشن نے نوٹ کیاکہ نئی مقرر کردہ حد ایکٹ کے نویں شیڈول میں دی گئی ویلج اور نیبرہڈ کونسلز کی تعداد سے مطابقت نہیں رکھتی، جس کے باعث حلقہ بندی کا عمل قابل عمل نہیں رہا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق صوبائی حکومت سے تعاون اور نویں شیڈول میں کونسلز کی تعداد میں مناسب ترمیم کرنے کے لیے کہا گیا تھا، تاہم کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ معاملہ اس وقت الیکشن کمیشن کے سامنے زیر سماعت ہے، جو اس حوالے سے مناسب فیصلہ کرے گا۔
بلوچستان حکومت کا ردعمل انتہائی سست قرار
بلوچستان کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے بتایا کہ بلدیاتی اداروں کی مدت 8 فروری 2027 کو ختم ہوگی، تاہم وفاقی آئینی عدالت کے احکامات کے باوجود کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوسکے۔
الیکشن کمیشن نے کہاکہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے 21 مئی 2026 کو حلقہ بندی مکمل کرلی گئی تھی، تاہم صوبائی حکومت نے کوئٹہ کو 2 اضلاع میں تقسیم کردیا، لیکن نئی حدود اور دیگر ضروری ڈیٹا فراہم نہیں کیا۔
الیکشن کمیشن نے بلوچستان حکومت کے اس معاملے پر ردعمل کو انتہائی سست قرار دیا۔
الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کو جلد قانون سازی مکمل کرنے اور وفاقی آئینی عدالت کے حکم پر عملدرآمد کے لیے خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس میں الیکشن کمیشن کے ارکان نثار احمد درانی، شاہ محمد جتوئی اور جسٹس (ر) اکرام اللہ، سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید اور دیگر سینیئر افسران نے شرکت کی۔














