وفاقی پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے خلوص کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے کھلے رکھے اور مفاہمت و مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوشش کی، تاہم تمام ڈرافٹ فائنل ہونے کے بعد ایک آواز نے پورا عمل ختم کردیا۔ پی ٹی آئی لوگوں کو اشتعال دلا کر وفاق کے خلاف کھڑا کرتی ہے، حالانکہ سیاسی قیادت کا کام لوگوں کو اکٹھا کرنا، مفاہمت اور مسائل کے حل کی بات کرنا ہے۔
مزید پڑھیں:فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیر مناسب ہے، بیرسٹر دانیال چوہدری
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کبھی بہنیں، کبھی خیبرپختونخوا حکومت اور کبھی اپوزیشن مذاکرات کی قیادت کرتی رہی، حکومت کی اولین ترجیح دھرنا ختم کرانا نہیں بلکہ امن و امان کا قیام ہے۔
دانیال چودھری کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال عوام کے لیے عذاب بن چکی ہے، دہشتگردی کے واقعات میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز فرنٹ لائن پر ہیں، اس لیے اپنے شہدا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حق میں آواز اٹھانا بھی ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں 15 سال سے حکومت ہے تو دہشتگردی کے خلاف مؤثر پالیسی کیوں نہیں بن سکی؟ دہشتگردی کے خلاف پالیسی نہ بنانا کس کی نااہلی اور کمزوری ہے؟ ان کے مطابق نواز شریف کے دور میں نیشنل ایکشن پلان پر دن رات کام ہوتا تھا، تاہم آج تک اس پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا سوالیہ نشان ہے۔
لیگی رہنما نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور ڈرگ مافیا سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟ بارڈر کراسنگ رکنے پر چیخیں نکلتی ہیں، کوئی تو اس کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ عوام ان معاملات پر سوال پوچھ رہے ہیں اور جواب بھی مانگیں گے۔
مزید پڑھیں:خود کو شیخ مجیب سمجھنے والے پاکستان کو توڑ نہیں سکتے، بیرسٹر دانیال چوہدری
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا مہم میں دہشتگردی اور سرحد پار دراندازی کے خلاف بات نہیں کی جاتی، غیرقانونی راستوں اور اسمگلنگ کی حمایت دہشتگردی کی سہولتکاری ہے۔ حکومت کی پالیسی غیرقانونی معیشت اور اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے ہے، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اور ڈرگ مافیا بھی غیرقانونی معیشت کا حصہ ہیں۔
دانیال چوہدری نے کہا کہ اپنی اولاد کو محفوظ رکھ کر دوسروں کے بچوں کو قربانی کے لیے بھیجنا سیاست نہیں۔ ملک میں تفریق اور تشدد کی سیاست سے عوام اور املاک کو نقصان پہنچتا ہے، جبکہ طاقت اور اسلحے کے زور پر حکمرانی کی سوچ کسی سیاسی جماعت کے لیے قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔












