جرمنی کے سابق غیرملکی انٹیلیجنس سربراہ آگسٹ ہاننگ کو خفیہ دستاویزات تک رسائی کے لیے رقم ادا کرنے اور ان معلومات کو غیرملکی انٹیلیجنس ادارے کے لیے تجزیہ تیار کرنے میں استعمال کرنے کے شبے میں گرفتار کرلیا گیا۔
وفاقی استغاثہ کے مطابق ہاننگ نے 2005 میں جرمنی کی وفاقی انٹیلیجنس سروس کے سربراہ کی حیثیت سے عہدہ چھوڑنے کے 5 سال بعد ادارے کے ایک سابق دفتر منتظم کے ساتھ معاہدہ کیا، جس کے تحت وہ رقم کے عوض خفیہ انٹیلیجنس معلومات حاصل کرتا رہا۔
استغاثہ کے مطابق سابق دفتر منتظم، جس کی شناخت رازداری کے قوانین کے تحت منفریڈ ڈی کے نام سے ظاہر کی گئی ہے، کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے کئی برسوں کے دوران تقریباً 2,000 دستاویزات فراہم کیں، جن میں وفاقی انٹیلیجنس سروس کے اندرونی استعمال کے لیے مخصوص خفیہ مواد اور جرمن چانسلری میں اعلیٰ سطح کی انٹیلیجنس بریفنگز بھی شامل تھیں۔
استغاثہ کے مطابق ہاننگ نے منفریڈ ڈی کی جانب سے فراہم کردہ خفیہ معلومات استعمال کرتے ہوئے ایک غیرملکی انٹیلیجنس ادارے کے افسر کے لیے تجزیہ تیار کیا جبکہ کئی برس تک ایک دوسرے غیرملکی انٹیلیجنس ادارے کے نمائندے کے ساتھ سیاسی معلومات بھی شیئر کرتا رہا۔
استغاثہ نے غیرملکی انٹیلیجنس ادارے کی شناخت ظاہر نہیں کی اور یہ بھی واضح نہیں کہ تیار کیا گیا تجزیہ اپنے مطلوبہ وصول کنندہ تک پہنچا یا نہیں۔ جرمن اخبار ایس زیڈ کی حاصل کردہ معلومات کے مطابق اس معاملے کا تعلق روس سے نہیں ہے۔
پولیس نے منگل کو باویریا، نارتھ رائن ویسٹ فیلیا اور برلن میں گرفتاریاں اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔ دونوں ملزمان کو جرمنی کی وفاقی عدالت انصاف کے جج کے سامنے پیش کیا جانا تھا۔














