پاکستان کی دعوت پر اس وقت پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے آج نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ قابل ذکر بات ہے کہ امریکا اور ایران دونوں نے پاکستان کو دنیا کے خطرناک ترین تنازعات میں سے ایک میں ثالث کے طور پر قبول کیا۔ انہوں نے پاکستانی قیادت کو اس کردار پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کا پاکستان پر اعتماد انتہائی اہم ہے اور یہ عالمی سطح پر پاکستان کے قابل اعتماد ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔
گوتریس 31 دسمبر کو اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں
پُرتگال سے تعلق رکھنے والے گوتریس ایک ایسے وقت میں پاکستان پہنچے ہیں جب دنیا ایک ساتھ کئی بحرانوں سے دوچار ہے اور خود گوتریس کی اقوام متحدہ کے سربراہ کی حیثیت سے تقریباً 10 سالہ مدت بھی اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے نویں سیکرٹری جنرل ہیں اور انہوں نے یکم جنوری 2017 کو اپنے منصب کا چارج سنبھالا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس کو نشان امتیار سے نواز دیا
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جون 2021 میں انہیں دوسری 5 سالہ مدت کے لیے دوبارہ مقرر کیا، جو 31 دسمبر 2026 کو مکمل ہو رہی ہے۔ یوں موجودہ دورہ پاکستان ان کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے آخری سال کے اہم دوروں میں شامل ہے۔
انتونیو گوتریس کی پاکستان سے قربت
گوتریس کی پاکستان سے قربت کا آغاز اگرچہ سیکرٹری جنرل بننے سے بہت پہلے ہو چکا تھا۔ وہ جون 2005 سے دسمبر 2015 تک اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کے ہائی کمشنر رہے اور اسی حیثیت میں وہ متعدد مرتبہ پاکستان آئے اور افغان مہاجرین کے مسئلے کو قریب سے دیکھا۔ ان کے لیے پاکستان محض اقوام متحدہ کا ایک رکن ملک نہیں بلکہ ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ ان کا ذاتی اور پیشہ ورانہ تعلق کئی برسوں پر محیط ہے۔
2020 میں پاکستان کے اپنے پہلے سرکاری دورے کے دوران گوتریس نے خود کہا تھا کہ یو این ایچ سی آر کے سربراہ کی حیثیت سے پاکستان میں گزارے گئے 10 برسوں کے دوران انہوں نے پاکستانی عوام اور پاکستان کے لیے ایک خاص محبت محسوس کی۔ ان کے مطابق افغان مہاجرین کے لیے پاکستان کی طویل عرصے تک میزبانی نے یہ تعلق مضبوط کیا۔
افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کو خراجِ تحسین
2020 میں وہ پاکستان اس بین الاقوامی کانفرنس میں شریک ہونے آئے جس کا مقصد افغان مہاجرین کی پاکستان میں میزبانی کے 40 سال مکمل ہونے پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کی اس پالیسی کو سراہا جس کے تحت لاکھوں افغان مہاجرین کو کئی دہائیوں تک پناہ دی گئی۔
گوتریس نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی کرکے عالمی سطح پر ایک مفاد عامہ کا کام کیا ہے اور عالمی برادری کو پاکستان کی اس میزبانی میں بامعنی مدد کرنی چاہیے۔ آج اپنی پریس کانفرنس کے دوران بھی اُنہوں نے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغان مہاجرین کی باعزت اور منظم وطن واپسی کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
بطور سیکرٹری جنرل قدرتی آفات میں اہم کردار
پاکستان اور گوتریس کے تعلق کا دوسرا اہم پہلو قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ہے۔ وہ بطور یو این ایچ سی آر ہائی کمشنر 2005 کے زلزلے میں کافی متحرک رہے اور بعد ازاں 2020 کے دورے میں انہوں نے خود کشمیر کے زلزلے اور شمالی علاقوں میں تنازع سے متاثرہ افراد سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ ان کی عالمی سفارت کاری میں ایک خصوصی مقام حاصل کر گیا۔
آج کی پریس کانفرنس میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے عالمی سطح پر وسائل متحرک کرنے میں انتونیو گوتریس کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کی قیادت اور سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے عالمی برادری کو متحرک کرنے کی کوششوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز کا دورہ، حکام کی بریفنگ
انتونیو گوتریس نے ستمبر 2022 میں پاکستان کا دورہ کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ پاکستان کو فوری انسانی امداد کے ساتھ ساتھ بحالی اور تعمیر نو کے لیے بھی مدد فراہم کی جائے۔ اس کے بعد اُنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کی تباہ کاریوں کی بہت بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔ 2023 میں سیلاب کے 1 سال بعد انہوں نے پاکستان کو ’کلائمیٹ جسٹس کا لٹمس ٹیسٹ‘ قرار دیتے ہوئے عالمی مالیاتی نظام، قرضوں اور موسمیاتی فنانسنگ میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
انتونیو گوتریس کے دور میں آنے والے چیلنجز
گوتریس کے سیکرٹری جنرل بننے کے بعد دنیا نے جن بڑے بحرانوں کا سامنا کیا، ان میں کووڈ 19 وبا سب سے اہم تھی۔ 2020 میں انہوں نے عالمی جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو مسلح تنازعات کے بجائے وبا کے خلاف مشترکہ جنگ پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کے دور کا ایک اور فیصلہ کن واقعہ روس کا یوکرین پر حملہ تھا۔ فروری 2022 میں روسی فوجی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی گوتریس نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے فوجیں واپس بلانے اور امن کو موقع دینے کی اپیل کی۔
غزہ اور مشرق وسطیٰ کا بحران بھی گوتریس کے آخری دور کی سب سے بڑی آزمائشوں میں شامل رہا۔ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے اور اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد گوتریس نے فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی رسائی کا مطالبہ کیا۔ 2024 میں انہوں نے غزہ میں ہونے والی تباہی کو اپنی بطور سیکرٹری جنرل مدت کے دوران غیر معمولی قرار دیا اور بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام پر زور دیا۔ جنوری 2025 میں غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کا خیرمقدم بھی کیا۔
ان کے دور میں افغانستان، میانمار، شام، یمن، سوڈان، ایتھوپیا اور دیگر تنازعات بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر نمایاں رہے۔ 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان کی واپسی کے بعد انسانی اور معاشی بحران نے اقوام متحدہ کے کردار کو مزید اہم بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
اسی طرح روہنگیا بحران کے دوران گوتریس نے میانمار میں اقلیتوں کے خلاف تشدد، بے دخلی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف عالمی توجہ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے پورے دور میں ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی رہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے درمیان اختلافات نے کئی تنازعات پر اقوام متحدہ کی فیصلہ کن کارروائی کی صلاحیت محدود کی۔
اب گوتریس اپنے عہدے کے آخری چند ماہ میں ہیں۔ 2026 ان کی دوسری مدت کا آخری سال ہے اور اقوام متحدہ میں ان کے جانشین کے انتخاب کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ ان کی دوسری مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہوگی۔ موجودہ مرحلے میں نئے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے لیے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔
اسی پس منظر میں 6 سے 8 اکتوبر 2026 کا پاکستان کا دورہ خصوصی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق گوتریس صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کریں گے۔ وہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر کے ہیڈکوارٹر بھی جائیں گے۔













