سال 2023ء میں مبینہ طور پر بھارتی انٹیلی جنس اہلکار کی قتل کی ناکام سازش کا نشانہ بننے والے معروف سکھ رہنما گورپتونت سنگھ پنوں کی جان کو ایک بار پھر شدید اور ’فوری خطرہ‘ لاحق ہو گیا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے سخت ناقد اور تنظیم ‘سکھس فار جسٹس’ (SFJ) کے رہنما گورپتونت سنگھ پنوں نے بتایا کہ ایف بی آئی کے اہلکاروں نے نیویارک میں ان کے گھر کا دورہ کیا اور آگاہ کیا کہ ان کی زندگی کو ایک ’فوری اور شدید خطرہ‘ لاحق ہے۔
ایف بی آئی اہلکاروں کے مطابق، یہ نیا خطرہ ان کے مجوزہ دورہ کینیڈا سے منسلک ہے جہاں 18 اکتوبر کو ایڈمنٹن میں پنجاب کو آزاد ملک ’خالصتان‘ بنانے کے حوالے سے سکھ برادری کے لیے ایک ریفرنڈم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ تاہم، ایف بی آئی نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور تبصرے کی درخواست کا بھی فوری جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیے امریکا میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارتی شہری نکھل گپتا نے اعتراف کرلیا
پنوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ’سوال یہ نہیں ہے کہ میں کسی اور قتل کی سازش میں بچ پاؤں گا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا سکھ قوم کے حقِ خودارادیت کو قتل کی دھمکیوں سے روکا جا سکتا ہے؟ اور اس کا جواب ہے: ہرگز نہیں۔‘
ماضی کی سازشیں اور مقدمات
امریکی عدالت میں پیش کیے گئے مقدمات کے مطابق، امریکا اور کینیڈا کی دوہری شہریت رکھنے والے پنوں کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں بھارتی شہری نکھل گپتا اور بھارتی انٹیلی جنس کے سابق اہلکار وکاش یادو پر فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔
نکھل گپتا نے رواں سال فروری میں قتل کے لیے سپاری دینے، سازش اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا اعتراف کیا تھا، جس کی سزا کا اعلان نومبر میں متوقع ہے اور پنوں بھی اس سماعت میں اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔
FBI issues “Duty to Warn” on 15 October to American-Canadian Khalistan lawyer Pannun over imminent threat to life ahead of Edmonton Khalistan Referendum
“Either Independence of Punjab or Death — nothing in between.” — Gurpatwant Singh Pannun, SFJ General Counsel
RCMP also warned Pannun of threats to his life and Ontario residence in recent weeks, as Carney government advances trade agreement with Modi’s India
https://t.co/MbTLaE4XPH
— Sikhs For Justice (@SFJ_US_Official) October 15, 2026
یہ تمام واقعات جون 2023ء میں کینیڈا کے شہر سرے (برٹش کولمبیا) میں پنوں کے قریبی دوست اور سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد سے مسلسل جاری ہیں۔
ستمبر 2023ء میں کینیڈین حکومت نے باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ نجر کے قتل میں بھارتی سرکاری ایجنٹ ملوث تھے جو کینیڈا کی خودمختاری کے خلاف ورزی ہے۔ تاہم، بھارت ہمیشہ ان الزامات اور پنو پر حملے کی کوشش کی تردید کرتا رہا ہے اور سکھ الگ پسندوں کو ’دہشتگرد‘ قرار دیتا ہے۔
‘بشنوئی’ گینگ اور مسلسل دھمکیاں
پنوں کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی یا کینیڈین اداروں نے انہیں خبردار کیا ہو۔ اس سے قبل رواں سال اگست اور ستمبر میں بھی ایف بی آئی اور ‘رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس’ (RCMP) نے انہیں الگ الگ خطرات کے بارے میں آراستہ کیا تھا۔
ان انتباہات کا سلسلہ اس وقت تیز ہوا جب جولائی میں لاس اینجلس کے وفاقی پراسیکیوٹرز نے بھارتی منظم جرم کے بدنامِ زمانہ ’بشنوئی‘ گینگ کے رہنما اور اس کے 8 ساتھیوں کے خلاف نجر کے قتل سے تار جوڑتے ہوئے مجرمانہ الزامات کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں سکھوں پر ظلم و ستم اور نسل کشی جاری ہے، گرپتونت سنگھ پنوں
بشنوئی 2015ء سے بھارتی پولیس کی حراست میں ہے، لیکن امریکی فردِ جرم کے مطابق وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے بھی اپنا بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ بشنوئی کا بچپن کا دوست ستیندر جیت سنگھ برار مبینہ طور پر شمالی امریکا میں اس گینگ کی کارروائیوں کو کنٹرول کرتا ہے اور اس پر بھی قتل کا حکم دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔














