نومبر کے بجلی بلوں میں 2.56 روپے فی یونٹ کا اضافہ ہوگا، پاور ڈویژن کا اعلان

جمعرات 15 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاور ڈویژن نے ستمبر کی فیول کاسٹ ایڈجسمنٹ کے تحت نومبر کے بجلی بلوں میں 2.56 روپے فی یونٹ اضافے کا تخمینہ لگایا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بروقت اقدامات اور ٹارگٹڈ لوڈ مینجمنٹ کی وجہ سے صارفین کو اس سے بھی بڑے یعنی 5 سے 6 روپے فی یونٹ کے اضافے سے بچا لیا گیا ہے۔

پاور ڈویژن نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ستمبر میں بجلی کی پیداوار کے لیے مہنگا ایندھن استعمال کرنے پر نومبر کے بلوں میں 2.56 روپے فی یونٹ کا اضافہ متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صارفین اور خزانے پر پڑنے والا 3400 ارب کا بوجھ ختم، پاور ڈویژن کی کارکردگی رپورٹ جاری

اس اضافے سے پاور ڈویژن کو تقریباً 33 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ وزارتِ توانائی نے بین الاقوامی مارکیٹ میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایل این جی کی سپلائی میں مشکلات کے باوجود یہ اقدامات کیے ہیں۔

بڑے بحران سے بچاؤ اور ٹارگٹڈ لوڈ مینجمنٹ

پاور ڈویژن کے بیان کے مطابق اضافی ایف سی اے اس سے کہیں زیادہ یعنی تقریباً 3.44 روپے فی یونٹ ہو سکتا تھا، لیکن ٹارگٹڈ لوڈ مینجمنٹ نے اس اضافے کو محدود کرنے میں مدد دی۔

وزارت نے واضح کیا کہ ٹارگٹڈ لوڈ مینجمنٹ اور دیگر اقدامات کی بدولت مہنگے ایندھن کے اثرات کو محدود کیا گیا، جس سے صارفین کو 3.44 روپے فی یونٹ تک کے اضافی بوجھ سے بچایا گیا۔

ستمبر کے دوران تقریباً 2 سے ڈھائی گھنٹے کی ٹارگٹڈ لوڈ مینجمنٹ کی گئی، جس سے فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل جیسے مہنگے متبادل ایندھن پر انحصار کم ہوا اور ایف پی اے میں متوقع اضافے کو روکا گیا۔

مقامی گیس کی قیمتوں پر درآمد شدہ آر ایل این جی کی فراہمی سے بھی صارفین کا بوجھ 83 پیسے فی یونٹ کم ہوا۔

عالمی بحران اور قطر کا فورس میجور

بیان میں بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایندھن کی سپلائی چین متاثر ہوئی اور بین الاقوامی قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں:سولر نیٹ میٹرنگ کی نئی پالیسی، پاور ڈویژن اور سولر صارفین کا اس پر کیا مؤقف ہے؟

اس پس منظر میں قطر کے فورس میجور کے اعلان کے باوجود پاکستان نے معاہدے کے تحت سپلائی اور اضافی اسپاٹ کارگوز کے ذریعے اپنی آر ایل این جی کی ضروریات پوری کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔

پاور ڈویژن کا دعویٰ ہے کہ جنوری تا اگست کے دوران فیول پرائس ایڈجسمنٹس اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسمنٹس کا مجموعی اثر صرف 65 پیسے فی یونٹ تک محدود رہا، جو بیس بجلی کے ٹیرف پر صرف 1.9 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

اس کا سبب ٹیرف ریشنلائزیشن کے اقدامات اور صنعتی و زرعی صارفین کے لیے اضافی بجلی کی کھپت کا پیکیج تھا۔

ستمبر کے ایف سی اے کا مالی حجم

ستمبر کا ایف سی اے اگست کے 1.11 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں 1.45 روپے فی یونٹ زیادہ رہنے کی توقع ہے، جس کا نومبر میں صارفین کے بجلی بلوں پر تخمینہ شدہ مالی اثر 32.7 ارب روپے ہوگا۔

پاور ڈویژن عالمی ایندھن کی مارکیٹس اور سپلائی چینز پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ بیرونی قیمتوں کے جھٹکوں کو کم سے کم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:سولر نیٹ میٹرنگ کی نئی پالیسی، پاور ڈویژن اور سولر صارفین کا اس پر کیا مؤقف ہے؟

دوسری جانب صنعتی صارفین نے انکریمنٹل کھپت پر صنعتی سپورٹ پیکیج کے مثبت اثرات کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 22.96 روپے فی یونٹ مارجنل کاسٹ ریٹ سے چند لوگوں کو فائدہ ہو رہا ہے جبکہ 34 روپے فی یونٹ کی اصل مارجنل کاسٹ اوسط صارف کے ٹیرف میں 11 روپے فی یونٹ کا بوجھ بن رہی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پچھلے ہفتے انکریمنٹل پیکیج پر نظرثانی یا معطلی کے حوالے سے عوامی سماعت کی تھی جس کا فیصلہ تاحال آنا باقی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp