وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے دور میں داخل ہو رہا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا ابھی ’پتھر کے زمانے‘ میں ہے۔ تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل نوجوانوں، مریضوں، سڑکوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں پر خرچ ہونے چاہیے تھے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے پنجاب میں ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس کی تقسیم 5 نومبر سے شروع کرنے کا اعلان بھی کیا، جن میں سے زیادہ تر طالبات کے لیے مختص ہیں۔
ساہیوال میں ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ کی تقسیم میں میرٹ کو ترجیح دی ہے اور طلبہ سے ان کا سیاسی پس منظر نہیں پوچھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے علاوہ خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے طلبہ کے لیے بھی ان پروگراموں میں حصہ رکھا گیا ہے۔
میرے بچو سمر بریک کے دوران آپ سے ملاقاتوں کا سلسلہ رکا تو میں نے آپ کو بہت یاد کیا۔ دل چاہتا ہے کہ ایک ایک بیٹے اور بیٹی کے پاس جاؤں، گلے لگاؤں اور کہوں کہ مجھے آپ پر یقین تھا اور آپ نے میرا یقین سچ ثابت کر دکھایا۔ آپ کو لیپ ٹاپ اور ہونہار اسکالرشپ اپنی محنت، اہلیت اور قابلیت کی… pic.twitter.com/6QsZ8tuk9y
— PMLN (@pmln_org) October 16, 2026
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس فراہم کی جا رہی ہیں، جن کے لیے اب تک 12 لاکھ سے زیادہ رجسٹریشنز اور 4 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ درخواستوں کی جانچ پڑتال جاری ہے اور تقسیم کا پہلا مرحلہ 5 نومبر سے شروع ہوگا۔ لڑکیوں کے لیے گلابی اور لڑکوں کے لیے سیاہ رنگ کی بائیکس رکھی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ جن طلبہ کو بائیک چلانا نہیں آتی، انہیں ضلعی پولیس اور ٹریفک محکموں کے ذریعے کم از کم 2 روزہ مفت ڈرائیونگ تربیت دی جائے گی۔ انہوں نے والدین اور بھائیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں پر اعتماد کریں تاکہ وہ تعلیم اور روزمرہ سفر کے لیے خودمختار ہو سکیں۔
خیبرپختونخوا اور تحریک انصاف پر تنقید
مریم نواز نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں چھت گرنے سے 30 بچوں کی اموات پر انہیں دکھ ہے اور انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر کی دعا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کو بھی ترقی، خدمت اور بہتر سہولتوں کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کسی دوسرے نے ختم نہیں کی بلکہ پارٹی نے خود اپنی حکومت ختم کی۔ ان کے بقول یہ پہلا لانگ مارچ تھا جو اپنی ہی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:’اپنی چھت، اپنا گھر‘ منصوبہ دنیا کے 150 سے زیادہ پراجیکٹس میں نمایاں، مریم نواز نے ایوارڈ وصول کرلیا
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو رہا ہے، لیکن خیبرپختونخوا ابھی ’پتھر کے زمانے‘ میں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ 13 برس کے دوران خیبرپختونخوا کے وسائل نوجوانوں، مریضوں، سڑکوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں پر خرچ ہونے چاہیے تھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خیبرپختونخوا سمیت پورا پاکستان ترقی کرے گا۔
یونیورسٹیوں میں میرٹ اور تعلیم کے لیے سہولتیں
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کی تمام 36 یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز میرٹ پر تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق جب انہوں نے وزارتِ اعلیٰ سنبھالی تو صوبے کی 80 فیصد یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز اور 80 فیصد کالجوں میں پرنسپلز موجود نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ وائس چانسلرز کے انٹرویو وہ خود کرتی ہیں اور سفارش قبول نہیں کی جاتی، خواہ وہ ان کے اپنے گھر سے ہی کیوں نہ آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اساتذہ کی تربیت، نصاب کی بہتری اور معیاری تعلیم کے لیے کام کر رہی ہے۔ مستحق طلبہ کو مالی وسائل کی کمی کے باعث تعلیم چھوڑنے نہیں دینی چاہیے، جبکہ بیرون ملک تعلیم کے لیے جانے والے طلبہ کے ٹکٹ اور ویزا پراسیسنگ فیس میں مدد بھی فراہم کی جائے گی۔
کسانوں، گھروں اور صحت کے شعبے میں اقدامات
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں 10 لاکھ کسانوں کو کسان کارڈ دیے گئے ہیں اور 30 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید ٹریکٹر بھی دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لائیو اسٹاک کارڈ کے ذریعے جانوروں کی پرورش اور فربہ کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پنجاب سے گوشت کی برآمدات 17 ملین ڈالر سے بڑھ کر 31 ملین ڈالر ہو گئی ہیں اور گزشتہ دو برس میں 4 لاکھ جانوروں کو برآمدی منڈی کے لیے تیار کیا گیا۔
مریم نواز نے ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ سال میں 2 لاکھ 20 ہزار گھر تعمیر کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس پروگرام پر پنجاب کو اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ کی جانب سے ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے زمین افراد کو زمین اور مستحق خاندانوں کو گھر فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ مریم نواز کا ناکارہ کمپنیوں کو فارغ کرنے اور ’ستھرا پنجاب‘ ورکرز کے واجبات کی ادائیگی کا حکم
صحت کے شعبے میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ کلینکس آن ویلز کے ذریعے گزشتہ سال 3 کروڑ افراد کو ان کے گھروں کے قریب علاج فراہم کیا گیا۔ فیلڈ اسپتالوں اور موبائل ڈینٹل کلینکس کے ذریعے دیہات اور مزدوروں کے کام کی جگہوں پر طبی سہولتیں پہنچائی جا رہی ہیں تاکہ انہیں علاج کے لیے روزگار سے چھٹی نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے ’مریم کی دستک‘ سروس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہری مختلف سرکاری دستاویزات اور سرٹیفکیٹس گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کے تحت 2 لاکھ افراد صفائی کے کام پر مامور ہیں، جبکہ مختلف شہروں میں بارشوں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے اپنے وسائل اور عملہ موجود ہے۔
شہری سہولتیں اور میرٹ پر تقسیم
مریم نواز نے کہا کہ ساہیوال، اوکاڑہ اور پنجاب کے دوسرے شہروں کی خوبصورتی اور شہری سہولتیں بہتر بنانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خوب صورت سڑکیں اور بازار صرف لاہور کا حق نہیں، صوبے کے ہر شہر کے شہری بہتر ماحول کے مستحق ہیں۔
انہوں نے طلبہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے جذبے اور چہروں کی چمک سے انہیں یقین ہے کہ پاکستان کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ مریم نواز نے بتایا کہ لاہور میں بارش کے باعث ہیلی کاپٹر کی پرواز منسوخ ہونے کے باوجود وہ سڑک کے راستے ساہیوال پہنچیں، کیونکہ وہ طلبہ کو انتظار نہیں کروانا چاہتی تھیں۔













