اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز کاروبار کے ابتدائی اوقات کے دوران خریداری کا رجحان غالب رہا، جس کے باعث انڈیکس میں تقریباً 400 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صبح 11 بج کر 10 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 366.69 پوائنٹس یعنی 0.22 فیصد اضافے کے بعد 166,552.85 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی میں کمی کی امید، پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی
مارکیٹ میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی کی پیداوار اور ریفائنریز کے شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔
اٹک ریفائنری، حبکو، ماری انرجیز، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے انڈیکس پر نمایاں اثر رکھنے والے شیئرز مثبت زون میں کاروبار کرتے رہے۔
PSX Opened Positive 🔼
☀️ KSE 100 opened positive by +182.69 points this morning. Current index is at 166,368.85 points (9:30 AM) pic.twitter.com/yJpwxabqdm— Investify Pakistan (@investifypk) October 16, 2026
ایک اہم پیش رفت میں ایف بی آر نے جمعرات کو ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں مزید توسیع کرتے ہوئے اسے 31 اکتوبر 2026 تک بڑھا دیا۔
اس فیصلے کے تحت ٹیکس دہندگان کو گوشوارے جمع کرانے کے لیے مزید 2 ہفتوں کی مہلت مل گئی ہے۔
گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی
واضح رہے کہ جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی دیکھی گئی تھی اور اہم حصص میں وسیع پیمانے پر خریداری کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 768.66 پوائنٹس یعنی 0.46 فیصد اضافے کے ساتھ 166,186.17 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
تاہم، بلند سطح پر پہنچنے والے بعض حصص میں سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کے باعث کاروبار کے دوران حاصل ہونے والے کچھ اضافے میں کمی آئی، دوسری جانب سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافے نے خطے میں جغرافیائی سیاسی خدشات کو بھی بڑھایا۔
عالمی منڈیوں میں جمعے کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بحالی دیکھی گئی۔ اس سے قبل گزشتہ سیشن میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں شدید فروخت ہوئی تھی، جس کی ایک بڑی وجہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ کمپنی کوری ویو کے قرضوں سے متعلق خدشات تھے۔
ان خدشات نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے میں تیزی سے جاری سرمایہ کاری کے مالی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے تھے۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف معاہدے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس میں 569 پوائنٹس اضافہ
بانڈ مارکیٹس میں بھی استحکام دیکھا گیا، جبکہ جمعرات کو امریکی ٹریژری بانڈز اور دیگر محفوظ سرکاری سیکیورٹیز کی خریداری کے باعث بانڈز کی شرح منافع میں نمایاں کمی آئی تھی۔
امریکی شرح منافع میں کمی کے نتیجے میں ڈالر کی کشش متاثر ہوئی اور امریکی کرنسی گزشتہ 5 ہفتوں کے دوران اپنے پہلے ہفتہ وار نقصان کی جانب بڑھتی دکھائی دی۔
سونے کی قیمت جمعرات کی بلند ترین سطح سے کچھ نیچے آئی، جبکہ عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت بھی کمی کے ساتھ 105 ڈالر فی بیرل کے قریب آگئی۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
ایشیائی مارکیٹس میں جاپان کا ٹیکنالوجی پر مبنی نکی انڈیکس 1.8 فیصد بڑھ گیا، جس سے گزشتہ روز کی تقریباً 5 فیصد گراوٹ کا کچھ ازالہ ہوا، جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 2.8 فیصد بڑھا، جبکہ ایک روز قبل اس میں تقریباً 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
دوسری جانب امریکی اسٹاک فیوچرز میں کمی دیکھی گئی ٹیکنالوجی پر مرکوز نیسڈیک فیوچرز 0.3 فیصد جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.1 فیصد نیچے رہے، اس سے قبل جمعرات کو دونوں امریکی اسٹاک انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوئے تھے۔














