’محبت‘ اور ’سچی ہمدردی‘ کا جھانسا دے کر نرس کا 99 سالہ مریضہ کے ساتھ کروڑوں کا فراڈ

جمعہ 16 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کے ایک ٹریبیونل نے ایک 99 سالہ معمر اور بے سہارا خاتون کو جذباتی بلیک میل کر کے ان کی تقریباً 9.6 کروڑ روپے (7 لاکھ 70 ہزار برطانوی پاؤنڈز) کی تمام تر جمع پونجی اور مکان اپنے نام کروانے والی نرس کا لائسنس منسوخ کر کے اسے پیشہ ورانہ رجسٹر سے خارج کر دیا ہے۔

برطانوی اخبار ‘دی انڈیپنڈنٹ’ کی رپورٹ کے مطابق، ٹریبیونل کی سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ 2017ء میں گر کر زخمی ہونے کے بعد 99 سالہ معمر خاتون جسمانی اور ذہنی طور پر بے سہارا ہو گئی تھیں۔ ویلز کے کاؤنٹی فلنٹ شائر میں واقع ‘برائن ایئر ہول’ کیئر ہوم کی سابق ڈپٹی مینیجر رے بیکا برووڈ نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معمر خاتون سے انتہائی قریب تر تعلقات استوار کیے اور انہیں پیار سے ’دادی‘ کہنا شروع کر دیا۔

معمر خاتون بعد میں 2018ء میں باقاعدہ اسی کیئر ہوم میں منتقل ہو گئیں، جہاں نرس نے ان کی تنہائی اور اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔

کروڑوں کی خطیر رقم اور مکان کی نقل مکانی

تحقیقات کے مطابق، نرس رے بیکا نے 5 سال کے عرصے میں معمر خاتون سے تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار پاؤنڈز بٹور لیے۔ اس کے علاوہ، اس نے معمر خاتون کو ورغلا کر ان کا 4 لاکھ پاؤنڈز (تقریباً 5 کروڑ روپے) مالیت کا ذاتی مکان بھی اپنے نام کروا لیا۔ یوں کل ملا کر دھوکہ دہی کی یہ رقم 7 لاکھ 70 ہزار پاؤنڈز (تقریباً 9.6 کروڑ روپے) بنتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نرس نے اس رقم کو اپنے گھر کی تزئین و آرائش، یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی، مہنگی گاڑیاں، اور کیمپر وین خریدنے کے لیے استعمال کیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق رقم کا ایک حصہ پلاسٹک (کاسمیٹک) سرجری پر بھی خرچ کیا گیا۔ نرس نے یہ جھوٹا دلاسہ بھی دیا تھا کہ وہ اپنے گھر کی توسیع اس لیے کر رہی ہے تاکہ اگر کووڈ کی طرح کا کوئی اور لاک ڈاؤن لگے تو وہ معمر خاتون کو اپنے پاس رکھ سکے۔

راز کیسے فاش ہوا؟

اس گھناؤنے فراڈ کا انکشاف مارچ 2023ء میں اس وقت ہوا جب معمر خاتون کے بینک نے ان کے اکاؤنٹ سے بڑی رقم کے متواتر نکلوانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نارتھ ویلز پولیس کو مطلع کیا۔ اس کے بعد کیئر ہوم کی ایک دوسری نرس نے بھی اعلیٰ حکام کو آگاہ  کیا، جس نے رے بیکا کو پیسے کے معاملے پر معمر خاتون سے بحث کرتے اور ان سے کاغذات پر زبردستی دستخط کرواتے ہوئے سنا تھا۔

اگرچہ معمر خاتون نے ابتدائی طور پر نرس کے ساتھ اپنی دوستی بچانے اور معاملے کو دبانے کی کوشش کی، تاہم معائنے کے بعد یہ کیس باضابطہ طور پر ‘نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل’ کو بھیج دیا گیا۔

ٹریبیونل کا فیصلہ اور حتمی انجام

ٹریبیونل نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ رے بیکا برووڈ نے مالی مفاد کے لیے معمر خاتون کی تنہائی، لاچاری اور بے لوث اعتماد کا سخت استحصال کیا، جو کہ سنگین پیشہ ورانہ بدسلوکی (Misconduct) کے زمرے میں آتا ہے۔ ٹریبیونل نے فوری طور پر اس کا نرسنگ لائسنس منسوخ کرتے ہوئے اسے برطانیہ میں نرسنگ کی پریکٹس سے تاحیات محروم کر دیا۔

بزرگ خاتون کیس کا فیصلہ آنے اور انصاف ملنے سے قبل ہی انتقال کر چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp