پشاور اسکول سانحہ: ایف آئی آر میں 5 مزید ملزمان نامزد، پولیس کو دیگر پارٹنرز کی تلاش

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کے مقدمے میں پولیس نے مزید 5 ملزمان کو نامزد کر دیا ہے، جس کے بعد نامزد ملزمان کی تعداد 6 ہو گئی ہے، جبکہ اسکول کے دیگر پارٹنرز کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔

کیس کی تفتیش سے وابستہ پولیس حکام کے مطابق، تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ اسکول کے گرفتار مالک کے ساتھ دیگر افراد بھی شریک تھے، جو اسکول میں ان کے پارٹنرز تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول سانحہ: ایف آئی آر درج، اہم انکشافات سامنے آگئے

حکام نے بتایا کہ تفتیش کی بنیاد پر مقدمے میں مزید 5 افراد کو نامزد کیا گیا، جس کے بعد نامزد ملزمان کی تعداد 6 ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صرف اسکول کا مالک گرفتار ہے، جبکہ نامزد کیے گئے دیگر 5 افراد تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔

تفتیشی ٹیم کے حکام کے مطابق، مزید 5 نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد یہ پانچوں افراد مبینہ طور پر اسکول کے مالک کے پارٹنرز ہیں۔

ان افراد کی گرفتاری کے بعد ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی تاکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں، اسکول کی عمارت کی تعمیر، انتظامی معاملات اور ممکنہ غفلت سے متعلق حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق، مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل نہیں ہیں، تاہم، تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

یاد رہے کہ 15 اکتوبر کو پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع نجی اسکول کی عمارت کی چھت گرنے سے ایک افسوس ناک سانحہ پیش آیا تھا، جس میں ایک خاتون ٹیچر سمیت 31 بچے جاں بحق ہوئے تھے۔

واقعے کے وقت بچے اسکول میں زیرِ تعلیم تھے کہ عمارت کی بالائی منزل کی چھت گر گئی، جس سے نچلی منزل کے کمروں کو بھی نقصان پہنچا اور متعدد بچے ملبے تلے دب گئے۔

عمارت کی حالت اور ممکنہ غفلت کی تحقیقات

واقعے کے بعد عمارت کی تعمیر، اس کی ساخت اور اسکول انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے، ابتدائی رپورٹ سے متعلق سامنے آنے والی معلومات میں عمارت کی ساخت کمزور ہونے اور چھت کی خراب حالت کا ذکر کیا گیا تھا۔

نجی اسکولوں کی نگرانی پر سوالات

دیر کالونی اسکول سانحے نے خیبر پختونخوا میں نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت، رجسٹریشن، تعمیراتی معیار اور متعلقہ اداروں کے نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

واقعے کے بعد حکام کی جانب سے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی جانچ پڑتال اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے اقدامات بھی سامنے آئے۔

تاہم، اس سانحے کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا موجودہ قوانین اور ضابطوں پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد ہو رہا تھا اور عمارت کی حالت کی نگرانی کے ذمہ دار اداروں نے اپنا کردار ادا کیا تھا یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp