پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کے مقدمے میں پولیس نے مزید 5 ملزمان کو نامزد کر دیا ہے، جس کے بعد نامزد ملزمان کی تعداد 6 ہو گئی ہے، جبکہ اسکول کے دیگر پارٹنرز کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔
کیس کی تفتیش سے وابستہ پولیس حکام کے مطابق، تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ اسکول کے گرفتار مالک کے ساتھ دیگر افراد بھی شریک تھے، جو اسکول میں ان کے پارٹنرز تھے۔
پشاور اسکول سانحے کے کیس میں اہم پیش رفت! اسکول پرنسپل کے علاوہ مزید 5 افراد کو بھی نامزد کر دیا گیا۔ نامزد افراد کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپے جاری ہیں۔
مزید اہم تفصیلات جانیے سراج الدین کی اس رپورٹ میں https://t.co/akJJFLOEpC— WE News (@WENewsPk) October 19, 2026
یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول سانحہ: ایف آئی آر درج، اہم انکشافات سامنے آگئے
حکام نے بتایا کہ تفتیش کی بنیاد پر مقدمے میں مزید 5 افراد کو نامزد کیا گیا، جس کے بعد نامزد ملزمان کی تعداد 6 ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صرف اسکول کا مالک گرفتار ہے، جبکہ نامزد کیے گئے دیگر 5 افراد تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔
تفتیشی ٹیم کے حکام کے مطابق، مزید 5 نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد یہ پانچوں افراد مبینہ طور پر اسکول کے مالک کے پارٹنرز ہیں۔
🇵🇰 The school building was flagged as dangerous 3 years ago and nothing happened. 😡😡
34 children and a teacher are dead in Peshawar. Dozens more injured.
Building inspector Abdul Quddus says PTI MPA Fazl Ilahi and former MNA Asif Khan blocked the action and harassed him and… pic.twitter.com/LOWzwXkiFv
— JohnCassietto 🇺🇲 (@JohnCassietto) October 16, 2026
ان افراد کی گرفتاری کے بعد ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی تاکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں، اسکول کی عمارت کی تعمیر، انتظامی معاملات اور ممکنہ غفلت سے متعلق حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق، مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل نہیں ہیں، تاہم، تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
یاد رہے کہ 15 اکتوبر کو پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع نجی اسکول کی عمارت کی چھت گرنے سے ایک افسوس ناک سانحہ پیش آیا تھا، جس میں ایک خاتون ٹیچر سمیت 31 بچے جاں بحق ہوئے تھے۔
واقعے کے وقت بچے اسکول میں زیرِ تعلیم تھے کہ عمارت کی بالائی منزل کی چھت گر گئی، جس سے نچلی منزل کے کمروں کو بھی نقصان پہنچا اور متعدد بچے ملبے تلے دب گئے۔
عمارت کی حالت اور ممکنہ غفلت کی تحقیقات
واقعے کے بعد عمارت کی تعمیر، اس کی ساخت اور اسکول انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے، ابتدائی رپورٹ سے متعلق سامنے آنے والی معلومات میں عمارت کی ساخت کمزور ہونے اور چھت کی خراب حالت کا ذکر کیا گیا تھا۔
نجی اسکولوں کی نگرانی پر سوالات
دیر کالونی اسکول سانحے نے خیبر پختونخوا میں نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت، رجسٹریشن، تعمیراتی معیار اور متعلقہ اداروں کے نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
واقعے کے بعد حکام کی جانب سے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی جانچ پڑتال اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے اقدامات بھی سامنے آئے۔
تاہم، اس سانحے کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا موجودہ قوانین اور ضابطوں پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد ہو رہا تھا اور عمارت کی حالت کی نگرانی کے ذمہ دار اداروں نے اپنا کردار ادا کیا تھا یا نہیں۔











